تفسیر سورۃ العادیات سورۃ العادیات مکہ میں نازل ہوئی۔ اس میں گیارہ آیات ہیں۔حضور ﷺ نے اس سورت کی تلاوت کا ثواب بھی نصف قرآن کریم کے برابر قرار دیا ہے۔
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ٠
’’ اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ہے‘‘
وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ(۱) فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ(۲) فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًاۙ(۳) فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ(۴) فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ(۵) اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ(۶) وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ(۷) وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ(۸) اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ(۹) وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ(۱۰) اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَىٕذٍ لَّخَبِیْرٌ۠(۱۱)
’’قسم اُ ن کی جو دوڑتے ہیں سینے سے آواز نکلتی ہوئی،پھر پتھروں سے آگ نکالتے ہیں سُم مار کر، پھر صبح ہوتے تاراج کرتے ہیں، پھر اُ س وقت غبار اُڑاتے ہیں،پھر دشمن کے بیچ لشکر میں جاتے ہیں، بے شک آدمی اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے اور بیشک وہ اس پرخود گواہ ہے۔اور بیشک وہ مال کی چاہت میں ضرور کَرّا (تیز) ہے۔ تو کیا نہیں جانتا جب اُٹھائے جائیں گے جو قبروں میں ہیں اور کھول دی جائے گی جو سینوں میں ہے۔ بیشک اُن کے رب کو اُس دن اُن کی سب خبر ہے ‘‘۔
کنزالایمان ازاعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ
لفظی ترجمہ:
وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا
قسم تیز دوڑنے والوں (کی) ہانپتے ہوئے
فَ الْمُوْرِیٰتِ قَدْحًا
پھر پتھروں سے آگ نکالنے والوں کی
سُم مار کر فَ الْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا
پھر حملہ کرنے والوں (کی) صبح کے وقت
فَ اَثَرْنَ بِ ہٖ نَقْعًا
پھر اُڑاتے ہیں وہ ساتھ اس (کے) غبار
فَ وَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا
پھر گھس جاتے ہیں وہ اُس وقت لشکر میں
اِنَّ الْاِنْسَانَ لِ رَبِّ ہٖ لَ کَنُوْدٌ
بیشک آدمی واسطے کا رب اپنے البتہ ناشکرا ہے
وَ اِنَّ ہٗ عَلٰی ذٰلِکَ لَ شَھِیْدٌ
اور بیشک وہ پر اس البتہ گواہ ہے
وَ اِنَّ ہٗ لِ حُبِّ الْخَیْرِ لَ شَدِیْدٌ
اور بیشک وہ واسطے میں محبت مال کی ضرور سخت ہے
اَ فَ لَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِ
کیا پس نہیں جانتا جب اُٹھائے جائیں گے جو میں ہیں قبروں
وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِ
اور کھول دیا جائے گا جو میں ہے سینوں
اِنَّ رَبَّ ھُمْ بِ ھِمْ یَوْمَئِذٍ لَ خَبِیْرٌ
بیشک رب اُن کا ساتھ اُن کے اُس دن البتہ باخبر
ربط ومناسبت:
سورۃ الزلزال میں قیامت کی منظر کشی کر کے نیک اور برے لوگوں کا انجام بتایا گیا تاکہ سلیمُ الفطرت نیکی کی طرف راغب ہوں جبکہ سورۃ العادیات میں انسان کی ناشکری، لالچ اور احسان فراموشی کا ذکر کرکے اسے تنبیہ کی گئی ہے۔
سابقہ سورت میں کفار کو آخرت کے نقصان سے آگاہ کیا گیا تھا اس سورت میں دنیاوی عذاب اور نقصان سے ڈرایا گیا ہے۔
پچھلی سورت میں خیر و شر پر جزا و سزا بیان کی گئی تھی اس سورت میں اُس شخص کو سرزنش کی گئی ہے جو دنیا کے لالچ میں اپنی آخرت کو نظرانداز کر دیتا ہے۔
سورۃ الزلزال میں زمین کے اپنے بوجھ باہر نکال دینے کا ذکر تھا اس سورت میں قبروں سے مردوں کے اٹھائے جانے کا ذکر بھی ہے اور ان کے سینوں میں چھپی نیکی یا بدی ظاہر کرنے کا اعلان بھی۔
وَالْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا:
’’العادِیاَت‘‘کا مطلب ہے تیز دوڑنے والیاں ،اور’’الضبح‘‘سے مراد وہ آواز ہے جو تیز دوڑتے وقت گھوڑے کے سینے سے نکلتی ہے۔
جمہور علماء کا قول ہے کہ:
یہاں اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے غازیوں کے گھوڑوں کی قسم ارشاد فرمائی گئی ہے جو بہت تیز دوڑتے ہیں۔

