Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 78 of 164

کسی صغیرہ گناہ کو یہ سمجھ کر نہ کیا جائے کہ یہ چھوٹا گناہ ہے۔ کیونکہ جب بندہ صغیرہ گناہوں کا عادی ہو جائے تو اس کا کبیرہ گناہوں کے وبال میں گرفتار ہو جانا آسان ہو جاتا ہے۔

 

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں:

تم ایسے اعمال کرتے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے بھی زیادہ باریک (یعنی بہت معمولی) ہیں، ہم حضورکے زمانے میں انہیں ہلاک کردینے والے اعمال خیال کرتے تھے۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ آگ کی ایک معمولی سی چنگاری ساری دنیا کو جلانے کے لیے کافی ہے۔ اسی لیے چھوٹے گناہ کو بھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔

 

غیب جاننے والے آقا کا یہ بھی ارشاد ہے،

چھوٹے گناہوں سے بھی بچو کیونکہ ان کے بارے میں بھی اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے پوچھ ہوگی۔ (ابن ماجہ)

یعنی عمل چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، اس کے متعلق حساب ضرور دینا پڑے گا۔ رب تعالیٰ کا میزان ایسا ہے کہ اس پر رائی کے برابر عمل بھی تولا جائے گا۔

 

ارشاد ہوا:

{وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَاِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِھَا وَکَفٰی بِنَاحٰسِبِیْنَ}

’’اور ہم عدل کی ترازوئیں رکھیں گے قیامت کے دن، تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔ اور اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم کافی ہیں حساب کو‘‘۔ (پ17،انبیاء47)

 

کافر کی نیکی برباد:

آخر میں ایک شبہ کا جواب دینا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ کافر اگر دنیا میں نیک کام کریں تو کیا وہ بھی اجر پائیں گے؟

چند آیات مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔

{وَمَنْ اَرَادَالْاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَھَا سَعْیَھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعْیُھُمْ مَّشْکُوْرًا }

’’اور جو آخرت چاہے اور اس کی سی کوشش کرے اور ہو ایمان والا، تو اُنہیں کی کوشش ٹھکانے لگی‘‘۔ (پ15،بنی اسرائیل:19)

 

{وَقَدِمْنَآ اِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ھَبَآءً مَّنْثُوْرًا}

 ’’اور جو کچھ انہوں نے کام کیے تھے ہم نے قصد فرما کر انہیں باریک باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کر دیا کہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں‘‘۔ (پ18،فرقان:23)

 

{اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ اِلَّا النَّارُوَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْھَا وَبٰطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ}

’’یہ ہیں وہ جن کے لیے آخرت میں کچھ نہیں مگر آگ، اور اکارت گیا جو کچھ وہاں کرتے تھے، اور نابود ہوئے جو ان کے عمل تھے‘‘۔(پ11،ھود:16)

 

مفسرین کرام کی ایک جماعت کاقول یہ ہے کہ:

’’کافر جو بھی نیک کام کرے گا اس کو اس بھلائی کا اجر دنیا ہی میں دے دیا جائے گا، آخرت میں اس کے لیے کوئی اجر نہیں۔ اور اگر کافر کوئی بُرا کام کرے گا  تو آخرت میں اسے کفر کی سزا کے علاوہ اس برائی کی بھی سزا دی جائے گی‘‘۔

 

دوسرا قول یہ ہے کہ:

کافر کے کفر کے عذاب میں تو یقیناً کوئی کمی نہیں ہوگی البتہ یہ ممکن ہے کہ کافر کی بعض نیکیوں کی وجہ سے اس کے دیگر گناہوں کے عذاب میں تخفیف ہو جائے۔

 

علامہ محمود آلوسی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:

’’حدیثِ بخاری میں ہے کہ ابولہب کے عذاب میں محض اس بناء پر تخفیف ہوتی ہے کہ اس نے حضورِ اکرم کی ولادتِ باسعادت کی خوشی منائی تھی اور حضورکی پیدائش کی خوشخبری سنانے کی وجہ سے اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کردیا تھا‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up