بِاَنَّ رَبَّکَ اَوْحٰی لَھَا:
اسی لیے فرمایا گیا کہ زمین اُس دن اپنی ساری خبریں اس لیے بتائے گی کیونکہ تمہارے رب نے اسے یہ حکم دیا ہو گا۔
سابقہ آیت کریمہ کے تحت مذکور آیاتِ مبارکہ اور اس آیت مقدسہ سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے انسان کے اعضاء بولنے لگیں گے اور اسی کے حکم سے زمین بھی کلام کرے گی۔
یہ حقیقت ہے کہ جو چیز بھی کلام کرتی ہے وہ رب تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت سے ہی کلام کرتی ہے۔ اگر غور کیا جائے تو زبان بھی تو گوشت کا ایک ٹکڑا ہی ہے لیکن گوشت کے دیگر ٹکڑے تو ساکت رہتے ہیں مگر زبان بولتی ہے۔اس کی کیا وجہ ہے؟ تمام تر کوشش کے باوجود اس کا یہی جواب ملے گا کہ ایک قادرِ مطلق ہستی نے اسے ناطق بنا دیا ہے۔
حق یہی ہے کہ وہ چاہے تو گوشت کے ایک ٹکڑے کو بولنے کی طاقت بخش دے، وہ چاہے تو ایک نرم ہڈی یعنی کان میں سننے کی صلاحیت رکھ دے، وہ چاہے تو چکنائی کے ایک ٹکڑے یعنی آنکھ میں دیکھنے کی قوت پیدا فرما دے تو اس کے لیے کیا مشکل ہے کہ وہ زمین کو بھی بولنے کی صلاحیت عطا فرما دے۔
آج رب تعالیٰ کی مرضی یہ ہے کہ زمین خاموش رہے لیکن قیامت کے دن اُس کی مرضی یہ ہو گی کہ زمین ناطق ہو جائے، تو زمین اس کے حکم سے بولنا شروع کر دے گی۔
یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ:
ارشاد ہوا: ’’اُس دن لوگ اپنے رب کی طرف پھریں گے کئی راہ ہو کر، تاکہ اپنا کیا دکھائے جائیں‘‘۔
ایک مفہوم یہ ہے کہ:
اُس دن لوگ جب قبروں سے اُٹھیں گے تو بارگاہِ الہٰی میں الگ الگ آئیں گے، کوئی کسی کا ساتھی نہ ہوگا، اورہر ایک کا علیحدہ علیحدہ حساب ہوگا۔
اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ:
مختلف اعمال کی بناء پر لوگوں کے الگ الگ گروہ بن جائیں گے۔ جیسے نمازیوں کا گروہ، شہیدوں کا گروہ، چوروں کا گروہ، بدکاروں کا گروہ وغیرہ۔
مختصر یہ کہ ہر شخص اپنے جیسے لوگوں کے ساتھ مل کر اپنے انجام کو پہنچے گا۔
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما نے فرمایا:
’’لِیُرَوْا اَعْمَالَہُمْ‘‘
کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے اعمال کی جزا دیکھیں گے یعنی وہ حساب کی جگہ سے پلٹیں گے تاکہ جنت یا جہنم میں اپنے ٹھکانے پر پہنچیں۔
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ:
ابتدا میں لوگوں کا خیال تھا کہ بہت تھوڑی چیز صدقہ دی تو اُنہیں کوئی اجر نہیں ملے گا اور بعض کی رائے یہ تھی کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
ارشاد ہوا:
’’تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے، اُسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے، اُسے دیکھے گا‘‘۔
ان آیات کو حضرت ابن مسعود فیصلہ کُن آیات قرار دیتے تھے۔ان آیات میں چھوٹی نیکیوں کی طرف رغبت دلائی گئی ہے اور چھوٹے گناہوں کو ہلکا سمجھنے سے تنبیہ فرمائی گئی ہے۔
نیز یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ انسان کا کوئی عمل معمولی سمجھ کر ضائع نہیں کیا جاتا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
{یَوْمَ یَبْعَثُھُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُھُمْ بِمَاعَمِلُوْا اَحْصٰہُ اللّٰہُ وَنَسُوْہُ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْد}
’’جس دن اللہ سب کو اُٹھائے گا پھر اُنہیں اُن کے اعمال جتا دے گا۔ اللہ نے اُنہیں گن رکھا ہے اور وہ بھول گئے، اور ہر چیز اللہ کے سامنے ہے‘‘۔ (پ28،مجادلہ:6)
آقا ومولیٰ ﷺ کا ارشاد ہے،
’’کسی نیکی کو حقیر مت سمجھو اگر چہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے خندہ پیشانی سے ملنا ہو‘‘۔
سرکارِ دوعالم ﷺ نے یہ بھی فرمایا،
’’جس نے پاکیزہ رزق سے کھجور کے برابر بھی صدقہ کیا،کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ پاکیزہ رزق کو قبول فرماتا ہے ۔ تو اللّٰہ تعالیٰ اس رزق کو اپنے دستِ قدرت میں لے لیتا ہے اور اس کی پرورش کرتا ہے جیسے تم بچھڑے کی پرورش کرتے ہو یہاں تک کہ وہ صدقہ ایک پہاڑ کی مانند ہوجاتا ہے‘‘۔

