{قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا}
’’کہیں گے، ہائے ہماری خرابی!کس نے ہمیں سوتے سے جگا دیا‘‘۔(پ23،یس:52)
جبکہ اہلِ ایمان جب مردوں کو قبروں سے نکلتا دیکھیں گے تو اُن کا علم ُ الیقین ترقی پاکر عینُ الیقین کی منزل پر پہنچ جائے گا، اور وہ کہیں گے،
{ھٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ}
’’یہ ہے وہ جس کا رحمٰن نے وعدہ دیا تھا اور رسولوں نے حق فرمایا تھا‘‘۔ (پ23،یس:52)
یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَھَا:
پھر ارشاد ہوا: ’’اُس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی‘‘۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا،
کیا تم جانتے ہو کہ زمین کیا خبریں دے گی؟ صحابہ نے عرض کی، اللّٰہ اور اس کا رسول ﷺ ہی خوب جانتے ہیں۔
فرمایا، اس کی خبریں یہ ہیں کہ یہ ہر مرد و عورت کے بارے میں گواہی دے گی کہ اس نے میری پشت پر فلاں فلاں دن یہ یہ کام کیے، یہی اس کی خبریں ہیں۔
ایک اور حدیث شریف میں ارشاد ہوا:
زمین پر محتاط رہو۔ یہ تمہاری ماں ہے، اس پر جس نے بھی اچھا یا برا عمل کیا، یہ اس کے بارے میں ضرور خبر دے گی۔ (دُرِمنثور)
رب تعالیٰ اگر چاہے تو محض اپنے علم ہی کی بنیاد پر نیکوں کو جزا اور بُروں کو سزا دے دے لیکن وہ انسانی سوچ کے لحاظ سے عدل و انصاف کے ظاہری تقاضے پورے فرمائے گا۔
فردِ جرم کے طور پر ہر شخص کا اعمال نامہ اس کے ہاتھ میں پکڑا دیا جائے گا۔ پھر اس پر گواہیاں پیش کی جائیں گی اور یہ گواہ ہر قسم کے ہونگے۔
انسان کے ہاتھ اورپاؤں، اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے بولنا شروع کر دیں گے۔
{اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاھِھِمْ وَتُکَلِّمُنَآ اَیْدِیْھِمْ وَتَشْھَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَاکَانُوْا یَکْسِبُوْنَ}
’’آج ہم اُن کے مونہوں پر مہر کر دیں گے (کہ وہ بول نہ سکیں) اور اُن کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور اُن کے پاؤں اُن کے کئے کی گواہی دیں گے‘‘۔ (پ23،یس:65)
انسان کے کان، آنکھ اور اس کی کھال بھی اسکے خلاف گواہی دے گی۔
ارشاد ہوا:
{شَھِدَ عَلَیْھِمْ سَمْعُھُمْ وَاَبْصَارُھُمْ وَجُلُوْدُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَoوَقَالُوْا لِجُلُوْدِھِمْ لِمَ شَھِدْتُّمْ عَلَیْنَا قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْ ءٍ}
’’اُن کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے سب ان پر اُن کے کئے کی گواہی دیں گے۔ اور وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے، تم نے ہم پر کیوں گواہی دی؟ وہ کہیں گے ہمیں اللہ نے بلوایا جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی‘‘۔ (پ24،حم السجدہ:19-21)
ذرا سوچیے تو سہی! وہ کیسا منظر ہوگا جب انسان کے ہاتھ پاؤں اس کے کئے کی گواہی دے رہے ہونگے، اس کے کان اور آنکھیں اور اس کی کھال اس کے خلاف بول رہی ہو گی۔
پھر زمین بھی بولنا شروع کر دے گی، اس شخص نے میرے فلاں حصے پر فلاں وقت یہ یہ گناہ کیے۔
غرض یہ کہ کوئی بات ایسی نہ رہے گی جس پر وہ اپنی گواہی پیش نہ کرے۔ سابقہ زمانے کے لوگ تو شاید زمین کے اس طرح خبریں بیان کرنے پر تعجب کرتے ہونگے مگر اس جدید دور کے انسان کو اس پر قطعاً حیران نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ اپنی آنکھوں سے ریڈیو، ٹیلی ویژن، ٹیپ ریکارڈ، ویڈیو اور الیکٹرانکس کے نت نئے آلات دیکھ رہا ہے۔ اور تو اور کمپیوٹر کی ایک چھوٹی سی چِپْ (Chip) میں اور موبائیل فون کی حقیر سی سِم (Sim) میں ہزاروں لاکھوں صفحات محفوظ کیے جا سکتے ہیں۔
تو پھر اس میں تعجب کی کیا بات ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کے اعضاء اور کھال میں اور زمین کے ذرات میں ایسی صلاحیت رکھ دی ہو کہ انسان کے تمام اعمال اس میں محفوظ کیے جارہے ہوں، اس کی آوازیں فضا میں محفوظ ہو رہی ہوں اور اس کے اعمال زمین پر ثبت ہو رہے ہوں۔ پھر قیامت کے دن یہ سب کچھ ایک متحرک منظر کی طرح انسان کے سامنے آ جائے اور زمین ساری خبریں بیان کر دے۔

