Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 75 of 164

قطع رحمی کرنے والا کہے گا، ہائے ! میں نے ان کی خاطر خونی رشتہ داروں کو چھوڑا تھا۔

چور کہے گا، ہائے! ان چیزوں کی خاطر میرا ہاتھ کاٹا گیا تھا۔

پھر وہ سب ان چیزوں کو چھوڑ دیں گے اور ان میں سے کچھ بھی نہیں لیں گے۔

اس طرح انسان کو خوب افسوس اور پشیمانی ہو گی کہ جن خزانوں کی خاطر میں نے اتنے بڑے جرائم کیے، آج ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ آج کے دن ہر شخص کو صرف ایک فکر ہے اور وہ ہے اعمال نامے کی۔

آج اس دنیا میں مادّی چیزوں کو ترازو میں تولا جا سکتا ہے لیکن خلوص، سچائی، دیانت اور نیکیوں کو کسی ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔ قیامت میں دنیا فنا ہونے کے ساتھ اس کا یہ نظام بھی فنا کر دیا جائے گا اور ایک نیا نظام قائم کیا جائے گا۔

 

ارشادِ الہٰی ہے:

{یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ}

’’جس دن بدل دی جائے گی زمین اِس زمین کے سوا، اور آسمان، اور لوگ سب نکل کھڑے ہوں گے ایک اللہ کے سامنے جو سب پر غالب ہے‘‘۔ (پ13،ابراہیم:48)

 

اس نئے نظام میں سونے چاندی کی کوئی وقعت نہ ہو گی، صرف اعمال کی قدر ہو گی۔ اس لیے ایسی میزان قائم کر دی جائے گی جس میں نیکی بدی، سچ جھوٹ، اخلاص ریاکاری، دیانت خیانت یعنی سب اچھے بُرے اعمال تولے جا سکیں گے۔

 

{وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذِنِالْحَقُّ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَo وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ بِمَاکَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ}

’’اور اُس دن تول ضرور ہونی ہے تو جن کے پَلّے بھاری ہوئے وہی مراد کو پہنچے۔ اور جن کے پَلّے ہلکے ہوئے، تو وہی ہیں جنہوں نے اپنی جان گھاٹے میں ڈالی، اُن (زیادتیوں) کا بدلہ جو ہماری آیتوں پر کرتے تھے‘‘۔ (پ8،اعراف:8-9)

 

وَقَالَ الْاِنْسَانُ مَالَھَا:

ارشاد ہوا: ’’ اور آدمی کہے، اسے کیا ہوا‘‘۔

 

مفسرین فرماتے ہیں:

یہاں انسان سے مراد وہ لوگ ہیں جو قیامت کے وقت زمین پر موجود ہو نگے، وہ تعجب اور حیرانی سے بول اُٹھیں گے، زمین کو کیا ہو گیا ہے؟ انسان کے اس قول پر غور کیجیے۔ اس میں خوف بھی ہے، اضطراب بھی۔ بے چینی بھی ہے ، پریشانی بھی۔ کیونکہ زمین پوری شدت سے تھرتھرا رہی ہے، اس کے خزانے باہر پڑے ہوئے ہیں کوئی لینے والا نہیں ہے، پورا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ اس دن کی منظر کشی ایک اور مقام پر یوں کی گئی ہے،

 

{اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ o وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ oوَاِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ o وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَت oوَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْo وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ o وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ o وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ o بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَت}

’’جب دھوپ لپیٹی جائے، اور جب تارے جھڑ پڑیں، اور جب پہاڑ چَلائے جائیں، اور جب تھلکی (گابھن) اونٹنیاں چُھوٹی پھریں، اور جب وحشی جانور جمع کیے جائیں، اور جب سمندر سلگائے جائیں، اور جب جانوں کے جوڑ بنیں، اور جب زندہ دبائی ہوئی (لڑکی)سے پوچھا جائے، کس خطا پر ماری گئی‘‘۔ (پ30،تکویر:1-9)

 

پہلی مرتبہ صور پھونکے جانے اور دوسری مرتبہ صور پھونکنے کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا۔

 

دوسری تفسیر یہ ہے کہ:

ان دونوں صور پھونکنے کی درمیانی مدت میں رب تعالیٰ کافروں پر سے عذاب اُٹھا لے گا۔

پھر جب دوسری بارصور پھونکا جائے گا اور تمام مُردے زندہ کیے جائیں گے، اس وقت انسان کہے گا، زمین کو کیا ہوگیا؟یہاں انسان سے مراد کافر ہیں جو قیامت کے ہولناک مناظر دیکھ کر چیخ اُٹھیں گے اور:-

Share:
keyboard_arrow_up