Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 74 of 164

غیب بتانے والے آقا و مولیٰ کا فرمان ہے،

خریدار اور دوکاندار کے درمیان کپڑا پھیلا ہوگا، نہ سودا مکمل ہو گا نہ وہ کپڑا لپیٹ سکے گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔ یعنی لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہونگے اور وہ کام ویسے ہی نا تمام رہ جائیں گے، نہ انہیں خود پورا کر سکیں گے نہ کسی دوسرے سے پورا کرنے کو کہہ سکیں گے، اور جو گھر سے باہر گئے ہونگے وہ واپس نہ آ سکیں گے۔

 

چنانچہ ارشاد ہوا:

 

{فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَۃً وَّ لَآ اِلٰٓی اَھْلِہِمْ یَرْجِعُوْنَ}

’’تو نہ وصیت کر سکیں گے اور نہ اپنے گھر پلٹ کر جائیں گے‘‘۔(پ23،یس:50)

 

رب تعالیٰ نے اُ س دن کی ہولناکی کو دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا ہے،

 

{یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْءٌ عَظِیْمٌo یَوْمَ تَرَوْنَھَا تَذْھَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَھَا وَتَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَمَا ھُمْ بِسُکٰرٰی وَ لٰکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیْدٌ}

’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔ بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے۔ جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی، اور ہر گابھنی اپنا گابھ (یعنی حمل) ڈال دے گی، اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں، اور وہ نشہ میں نہ ہونگے مگر ہے یہ کہ اللہ کی مار کڑی ہے (یعنی اس کا عذاب بہت سخت ہے)‘‘۔ (پ17،حج:1-2)

 

مقامِ غور ہے کہ قیامت کے اثر اور ہیبت سے زمین جیسی بے جان اور جامد چیز کانپنے لگے گی تو اے انسان! کیا قیامت کے ذکر سے تیرا دل بھی کانپتا ہے یا نہیں؟

اگر نہیں تو تیرا دل مردہ ہو چکا، اسے خوفِ خدا اور محبتِ رسول سے زندہ کر۔

 

بعض علماء کا قول ہے کہ:

دوسری بار صور پھونکنے کے وقت جو زلزلہ آئے گا، یہاں اس کا ذکر ہو رہا ہے، جیسا کہ بعد کی آیات سے اندازہ ہوتا ہے۔ اس زلزلے سے زمین کے نشیب و فراز ختم کر کے اسے ہموار میدان بنا دیا جائے گا۔ پھر اس ہموار زمین پر میدانِ محشر قائم ہوگا۔

 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

{فَیَذَرُھَا قَاعًا صَفْصَفًا o لَّاتَرٰی فِیْھَاعِوَجًا وَّلَآ اَمْتًا}

’’وہ زمین کو نہایت ہموار صاف میدان کر دے گا کہ تُو اس میں کچھ بھی اونچا نیچا نہیں دیکھے گا‘‘۔ (پ16،طہ:106-107)

 

وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَھَا:

ارشاد ہوا: ’’ اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے‘‘۔

معنی یہ ہے کہ رب تعالیٰ کے حکم سے زمین، جو کچھ اس میں ہے یعنی خزانے اور مُردے سب باہر نکال دے گی۔

تمام مردے جو زمین میں دفن ہوتے رہے، ان کے اجزا ء اور ذرات اگرمٹی بھی ہو چکے ہو ں گے تو بھی ان کو یکجا کر کے زندہ کر دیا جائے گا۔

 

ارشادِ ربانی ہے،

{قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌo قُلْ یُحْیِیْھَا الَّذِیْٓ اَنْشَاَھَآ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَھُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُ}

’’(کافر)بولا، ایسا کون ہے کہ ہڈیوں کو زندہ کرے جب وہ بالکل گل گئیں؟ (اے حبیبا)تم فرماؤ! انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے پہلی بار انہیں بنایا، اور اسے ہر پیدائش کا علم ہے‘‘۔ (پ23،یس:78-79)

 

زمین کی تہوں میں جتنے خزانے پوشیدہ ہیں ، وہ بھی سب ظاہر کر دیے جائیں گے لیکن اس دن کی ہیبت اس قدر ہو گی کہ کوئی ان خزانوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔

سرکارِ دوعالم کا ارشاد ہے،

زمین اپنے جگر کے ٹکڑوں کو سونے چاندی کے ستونوں کی صورت میں باہر نکال دے گی۔ قاتل آئے گا اور کہے گا، ہائے افسوس! میں نے ان خزانوں کی وجہ سے قتل کیا تھا۔

Share:
keyboard_arrow_up