سابقہ سورت میں اُن لوگوں کا بھی ذکر ہوا جو گناہوں بھری زندگی گزارتے رہے اور انہوں نے رب تعالیٰ اور اس کے محبوب رسول ﷺ کے دینِ حق کی کچھ پرواہ نہ کی۔
اگر نیک لوگ دنیا میں اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری میں زندگی گزاریں اور برے لوگ شیطان اور نفسانی خواہشات کی بندگی میں گناہ آلود زندگی بسر کریں تو دونوں ہرگز برابر نہیں ہو سکتے۔
اس لیے اللّٰہ تعالیٰ کے عدل کا تقاضا ہے کہ وہ نیک لوگوں کو جزا اور بُرے لوگوں کو سزا دے۔ یہی جزا و سزا کا مضمون اس سورت میں بیان ہوا ہے۔
سورۃ البینۃ کا اختتام اس بات پر ہوا تھا کہ رب تعالیٰ کی رضا اور جنت اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔ ربِ ذوالجلال کی خشیت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بندے کو اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے اور اپنے اعمال کے متعلق جوابدہ ہونے کا کامل یقین ہو۔
یہ یقین پیدا کرنے کے لیے آخرت کا عقیدہ اس سورت میں اور اگلی سورتوں میں بھی بیان کیا گیا تاکہ بندہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرتا رہے اور اپنے رب کی ناراضگی سے بچنے کی بھرپور کوشش کرتا رہے۔
شانِ نزول:
عقیدۂ آخرت پر پختہ یقین ہی انسان کے افکار و اعمال کی اصلاح کا ضامن ہے۔ کفار رسولِ معظم ﷺ سے یہ بات سن کر حیران ہوتے کہ ایک دن قیامت آئے گی اور سب انسانوں کوپھر سے زندہ کر کے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا۔ ان کے اذہان اس حقیقت کو ماننے پر تیار نہ تھے کہ اس فانی زندگی کے بعد ایک دائمی زندگی بھی ہے۔
سورۃ الزلزال اور اس کے بعد کی کئی سورتیں ایسے لوگوں کو ہدایت کی روشنی دینے کے لیے عمدہ دلائل اور علمی حقائق پر مبنی ہیں۔
مفسرین فرماتے ہیں ،
ابتدا میں بعض مسلمانوں کے ذہن میں خیال تھا کہ معمولی برائی پر گناہ نہیں ہوگا اور تھوڑی چیز صدقہ دینے پر ثواب نہیں ملے گا۔ اس سورت میں ان مسلمانوں کے مذکورہ خیال کی اصلاح بھی فرمادی گئی اور بتا دیا گیا کہ نیکی یا بدی خواہ ذرہ بھر ہی کیوں نہ ہوں، جزا و سزا کا باعث ہوتے ہیں۔
سورۃ الزلزال کو نصف قرآن فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ قرآن عظیم کے احکام دو قسم کے ہیں۔
دنیاوی احکام اور احکامِ آخرت۔ یہ سورت آخرت کے احکام کا خلاصہ ہے اس لیے اس کا ثواب نصف قرآن کریم کے برابر ہے۔
اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَھَا:
ارشاد ہوا: ’’جب زمین تھر تھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے‘‘۔
ایسا زور دار جھٹکا جس سے زمین تھرتھرا اُٹھے اور لرزنے لگ جائے، اسے زلزلہ کہتے ہیں۔’’زِلْزَالَھَا‘‘ کے لفظ میں شدت اور تسلسل دونوں کا مفہوم پایا جاتا ہے یعنی زمین کا ہلایا جانا نہایت شدید ہو گا اور زمین مسلسل ہلتی رہے گی ،یہاں تک کہ سب کچھ تہ و بالا ہو جائے گا۔
اس آیت میں اُس ہیبت ناک زلزلے کا ذکر ہے جو پہلا صور پھونکے جانے پر وقوع پذیر ہوگا اور قیامت واقع ہونے کا سبب بنے گا۔
ارشاد ہوا:
{وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰہُ ثُمَّ نُفِخَ فِیْہِ اُخْرٰی فَاِذَا ھُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ }
’’اور صور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہو جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں مگر جسے اللہ چاہے، پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گا جبھی وہ (حیرت سے) دیکھتے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے‘‘۔(پ24،زمر:68)
اُس دن پوری زمین نہایت شدت سے ہلا دی جائے گی اور زمین پر کوئی درخت، کوئی عمارت،کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا، ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی اور تمام جاندار مخلوق فنا ہو جائے گی۔

