Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 72 of 164

ارشاد ہوا:

{مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَجَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِ نِo ادْخُلُوْھَا بِسَلٰمٍ}

’’جو رحمن سے بے دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع کرتا ہوا دل لایا، ان سے فرمایا جائے گا، جنت میں جاؤ سلامتی کے ساتھ‘‘۔(پ26،ق:33-34)

 

ارشاد ہوا:

{اِنَّ الَّذِیْنَ ھُمْ مِّنْ خَشْیَۃِ رَبِّہِمْ مُّشْفِقُوْنَ}

’’بیشک وہ جو اپنے رب کے ڈر سے سہمے ہوئے ہیں‘‘۔ (پ18،مومنون:57)

 

اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا نے سیدِ عالم  سے دریافت کیا،

کیا اس آیت میں ان لوگوں کا بیان ہے جو شرابیں پیتے ہیں اور چوری کرتے ہیں؟

فرمایا، اے بنتِ صدیق! ایسا نہیں ہے۔ یہ اُن لوگوں کا ذکر ہے جو روزے رکھتے ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں، صدقات دیتے ہیں اور ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں یہ اعمال نا مقبول نہ ہوجائیں۔

 

عبادات کرنا اور رب تعالیٰ سے ڈرتے رہنا بندے کو خدا کا محبوب بنا دیتا ہے۔

 

تفسیر سورۃ الزلزال سورۃُ الزلزلۃ یا زلزال مکہ میں نازل ہوئی اور اس میں آٹھ آیات ہیں۔

احادیث کے مطابق سورۃ الزلزال پڑھنے کا ثواب نصف قرآن کریم کے برابر ہے اور ایک روایت کے مطابق اس کا ثواب چوتھائی قرآن مجید کے برابر ہے۔(ترمذی)

 

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’ اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ہے)‘‘

 

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ(۳) یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ(۴) بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ(۵) یَوْمَىٕذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا ﳔ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ(۶) فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸)

’’جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ، اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے، اور آدمی کہے، اسے کیا ہوا۔اُس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی،اس لیے کہ تمہارے رب نے اسے حکم بھیجا۔اُس دن لوگ اپنے رب کی طرف پھریں گے کئی راہ ہو کر، تاکہ اپنا کیا دکھائے جائیں، تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے، اُسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے، اُسے دیکھے گا‘‘۔

 

(کنزالایمان از اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ)

 

لفظی ترجمہ:

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَ ھَا 

جب ہلا دی جائے زمین زلزلہ اپنے (سے)

وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَ ھَا

اور نکال دے زمین بوجھ اپنے

وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَ ھَا

اور کہے آدمی کیا (ہوا) لیے (کو) اس

یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَ ھَا

اُس دن بتائے گی وہ خبریں اپنی

بِ اَنَّ رَبَّ کَ اَوْحٰی لَ ھَا

اس لیے کہ بیشک رب نے تمہارے حکم بھیجا واسطے کو اس

یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا لِّ یُرَوْا اَعْمَالَ

ہُم اُس دن گے پلٹ آئیں لوگ گروہ در گروہ تاکہ دکھائے جائیں وہ اعمال اپنے

فَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَ ہٗ

پس وہ جو کرے برابر ذرہ بھلائی دیکھے گا وہ اُسے

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَ ہٗ

اور وہ جو کرے برابر ذرہ برائی دیکھے گا وہ اُسے

 

ربط ومناسبت:

اس سے قبل سورۃ البینۃ میں مومنوں اور کافروں کی جزا و سزا کا بیان تھا۔ جس سے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس جزا و سزا کا وقت کب آئے گا اور کن اعمال پر جزا و سزا ملے گی؟

یہ سورت اس سوال کے جواب پر مشتمل ہے۔ اس میں فرمایا گیا، قیامت کے دن سب لوگوں کے اعمال کا حساب ہو گا۔ جس نے بھی ذرہ بھر نیکی یا بدی کی ہو گی وہ اُس دن اُسے اپنے نامۂ اعمال میں موجود پائے گا اور اس پر جزا و سزا کا حقدار ہوگا۔

Share:
keyboard_arrow_up