Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 71 of 164

جنت کی نہروں کے متعلق ارشادِ ربانی ہے،

{مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ فِیْھَآ اَنْھٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ وَاَنْھٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہٗ وَاَنْھٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ وَاَنْھٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی وَلَھُمْ فِیْھَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ کَمَنْ ھُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَسُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَ ھُمْ}

’’احوال اس جنت کا جس کا وعدہ پر ہیز گاروں سے ہے ،اس میں ایسی پانی کی نہریں ہیں جو کبھی نہ بگڑے (جن کا ذائقہ کبھی خراب نہ ہو)، اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہ بدلے، اور ایسی شراب کی نہریں جس کے پینے میں لذت ہے (نشہ نہیں)، اور ایسی شہد کی نہریں ہیں جو صاف کیا گیا، اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل ہیں اور اپنے رب کی مغفرت۔کیا ایسے چَین والے اُن کے برابر ہوجائیں گے جنہیں ہمیشہ آگ میں رہنا، اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے گا کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے ‘‘۔ (پ26،محمد:15)

 

جنت میں عظیم نعمت:

جنت میں سب سے عظیم نعمت اللّٰہ تعالیٰ کی رضا مندی ہے۔

غیب بتانے والے آقا و مولیٰ نے فرمایا:

رب تعالیٰ اہلِ جنت سے فرمائے گا، اے اہلِ جنت! وہ عرض کریں گے، اے ہمارے رب! ہم حاضر ہیں، تیری اطاعت کے لیے تیار ہیں اور ہر بھلائی تیرے قبضے میں ہے۔ رب تعالیٰ فرمائے گا، کیا تم راضی ہو؟ وہ عرض کریں گے، اے رب! ہم کیوں نہ راضی ہوں، تو نے ہمیں وہ نعمتیں عطا فرمائیں جو کسی اور کو نہ ملیں۔

اللّٰہ تعالیٰ فرمائے گا، کیا میں تمہیں اس سے افضل نعمت عطانہ کروں؟ وہ عرض کریں گے، اس سے افضل نعمت کیا ہو سکتی ہے؟ رب کریم فرمائے گا، میں تمہیں اپنی رضا مندی عطا کرتا ہوں، اس کے بعد میں تم سے کبھی ناراض نہ ہوں گا۔

 

رب تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کی سب سے بڑی تمنا یہی ہے کہ وہ راضی ہو جائے ،اور یہ عظیم نعمت اہلِ جنت کو نصیب ہوگی۔

 

اللّٰہ تعالیٰ خود فرماتا ہے:

{وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ اَکْبَرُ}

’’اور اللّٰہ کی رضا سب سے بڑی (ہے)‘‘۔(پ10،توبہ:72)

 

اس جملے پر غور کیجیے، ’’اللّٰہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی‘‘۔ بظاہر اتنا کہنا ہی کافی تھا کہ اللّٰہ اُن سے راضی۔ کیونکہ بندوں کے عمل اللّٰہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے ہی ہوتے ہیں ۔ لیکن یہ بتانا مقصود تھا کہ میرے بندے راہِ حق کی مشکلات و مصائب پر پریشان نہیں ہوتے بلکہ تسلیم و رضا کا پیکر بن کر میری رضا میں راضی رہتے ہیں۔لہٰذا فرمایا، میرے بندے بھی مجھ سے ہرحال میں راضی ہیں۔

راضی ہونے کی تین قسمیں ہیں۔

ایک یہ کہ بندہ قضائے الہٰی پر اعتراض نہ کرے اور یہ یقین رکھے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے جو کیا بہتر کیا، گو ہمیں اس کی حکمتیں معلوم نہیں۔ رضا کی یہ قسم تمام بندوں پر لازم ہے۔

 

دوسری قسم یہ ہے کہ:

اللّٰہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ اور مشیت بندےکو محبوب ہو جائے خواہ بندے کی خواہش کے خلاف ہو کیونکہ محب کے نزدیک محبوب کا ہر فعل محبوب ہوتا ہے۔

 

رضا کی تیسری قسم یہ ہے کہ:

بندے کی ہر تمنا اور خواہش پوری ہوجائے۔ یہ رضا اور جزا ان کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔

 

رب کی خَشِیَّتْ:

اس سورت کے آخر میں فرمایا گیا، جنت ،اس کی نعمتیں اور رب کی رضا ، یہ سب انعامات اُس کے لیے ہیں جو اپنے رب سے ڈرے۔ ’’

خَشِیَّتْ‘‘ اُس ڈر اور خوف کو نہیں کہا جاتا جو عذاب، سزا اور انتقام کے اندیشے سے ہو یا کسی دشمن یا موذی چیز سے ہو، بلکہ خَشِیَّتْ اُس خوف کو کہتے ہیں جو کسی سے شدید محبت اور اس کی انتہائی عظمت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے ناراض نہ ہوجائے۔ چنانچہ اگر کبھی بندے سے کوئی لغزش و خطا سرزد ہوجائے تو اسی خَشِیَّتْ کی وجہ سے بندے کی آنکھوں سے ندامت و پشیمانی کے احساس سے آنسو رواں ہوجاتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ رب تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں خَشِیَّتْ کا ذکر کیا ہے وہاں اپنی صفتِ رحمان بھی بیان فرمائی ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up