حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ ﷺ نے فرمایا:
کیا تم فرشتوں کے بلند مقام پر تعجب کرتے ہو، قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! قیامت کے دن مومنوں کا مقام و مرتبہ فرشتوں سے بھی زیادہ بلند ہوگا۔ تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔
اس آیت و حدیث سے معلوم ہوا کہ صالح مومن عام فرشتوں سے افضل ہیں کیونکہ مومن اپنے ارادہ و اختیار سے اللّٰہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرتا ہے جبکہ فرشتے نافرمانی کا اختیار ہی نہیں رکھتے۔
جَزَآؤُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ:
آخر میں ارشاد ہوا: ’’اُن کا صلہ اُن کے رب کے پاس بَسنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں، ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں، اللہ اُن سے راضی اور وہ اُس سے راضی، یہ اُس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے‘‘۔(آیت۸)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومنوں کو ایک سے زیادہ جنتیں ملیں گی۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ}
’’اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے، اس کے لیے دو جنتیں ہیں‘‘۔ (پ27،رحمن:46)
ایک جنتِ عدن اور ایک جنتِ نعیم۔
ایک جنت رب سے ڈرنے کا صلہ۔
اور دوسری شہوات ترک کرنے کا صلہ۔ (خزائن العرفان)
پھر فرمایا گیا،
{وَمِنْ دُوْنِہِمَا جَنَّتٰنِo فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ}
’’اور ان کے سوا دو جنتیں اور ہیں۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے‘‘۔ ( پ27،رحمن:62-63)
ان آیات سے معلوم ہوا کہ مومن کے لیے چار جنتیں ہیں۔ سورۃ الرحمن کی مذکورہ آیات اور سورۃ البینہ کی آخری آیت سے یہ بات بھی واضح ہے کہ یہ چار جنتیں ان مومنوں کے لیے ہیں جو ساری زندگی اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور یہ خوف انہیں صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رکھتا ہے۔
قرآن کریم بتاتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرنے والے برائی کا وسوسہ آتے ہی اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
ارشاد ہوا:
{اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّھُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا فَاِذَا ھُمْ مُّبْصِرُوْنَ}
’’بیشک وہ جو ڈر والے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے، ہوشیار ہوجاتے ہیں، اُسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں‘‘۔ (پ9،اعراف:201)
سوال یہ ہے کہ کیا جنتیں اُن کے لیے ہیں جن متقی مسلمانوں سے کبھی کوئی گناہ سرزد نہیں ہوتا؟
جواب میں یہ آیاتِ کریمہ ملاحظہ فرمائیے۔
ارشاد ہوا:
{وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ وَمَنْ یَّغْفِرُالذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰہُ وَلَمْ یُصِرُّوْا عَلٰی مَا فَعَلُوْا وَھُمْ یَعْلَمُوْنَo اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُھُمْ مَّغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَجَنّٰتٌ}
’’اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں، اللّٰہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں، اور گناہ کون بخشے سوا اللّٰہ کے، اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اَڑ نہ جائیں، ایسوں کو بدلہ ان کے رب کی بخشش اور جنتیں ہیں ‘‘۔(پ4،ال عمران:135)
ان آیات سے معلوم ہوا کہ جو گناہ سرزد ہونے کے فوراً بعد خوفِ خدا سے توبہ کر لیں ، رب کریم انہیں بھی کئی جنتیں عطا فرمائے گا اور ان جنتوں میں نہریں رواں ہوں گی۔

