اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے فرشتوں پر مسلمانوں کی فضیلت ظاہر فرمائی ہے۔ کیونکہ فرشتے مخلص ہیں،تسبیحات پڑھتے اور رکوع و سجود کرتے ہیں لیکن وہ محنت سے مال کما کر زکوٰۃ نہیں دیتے، جبکہ مسلمانوں کو رب تعالیٰ نے یہ وصف عطا فرمایا ہے اس لیے وہ فرشتوں سے افضل ہوئے۔
مسلمانوں کے ایسے ہی اوصاف کی وجہ سے رب کریم فرشتوں کو حکم دے گا کہ تم مسلمانوں کی عظمتوں کو سلام پیش کرو۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
{وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْہِ رَبِّھِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً وَّ یَدْرَءُ وْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ اُولٰٓئِکَ لَھُمْ عُقْبَی الدَّارِo جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَھَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِھِمْ وَاَزْوَاجِھِمْ وَذُرِّیّٰتِھِمْ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْھِمْ مِّنْ کُلِّ بَابٍo سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ}
’’اور وہ جنہوں نے صبر کیا اپنے رب کی رضا چاہنے کو، اور نماز قائم رکھی، اور ہمارے دیے سے ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر کچھ خرچ کیا، اور برائی کے بدلے بھلائی کر کے ٹالتے ہیں،اُنہیِں کے لیے پچھلے گھر کا نفع ہے۔بسنے کے باغ جن میں وہ داخل ہونگے اور جو لائق (یعنی مومن) ہوں ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں (سے بھی)، اور فرشتے (جنت کے) ہر دروازے سے ان پر یہ کہتے آئیں گے، سلامتی ہو تم پر! تمہارے صبر کا بدلہ، تو پچھلا گھر کیا ہی خوب ملا‘‘۔ (پ13،رعد:22-24)
مخلوق میں بدترین:
ارشاد ہوا:
’’بے شک جتنے کافر ہیں کتابی اور مشرک، سب جہنم کی آگ میں ہیں، ہمیشہ اس میں رہیں گے، وہی تمام مخلوق میں بدتر ہیں‘‘۔(آیت۶)
اس سورت کی ابتدا میں کافروں کا ذکر کیا گیا تو پہلے اہلِ کتاب کا ذکر ہوا اور پھر مشرکوں کا۔ اب سورت کے آخر میں جہنم کی وعید سناتے ہوئے پھر پہلے اہلِ کتاب کا ذکر ہوا اور بعد میں مشرکوں کا۔
اس کی وجہ امام رازی رحمہ اللّٰہ نے یہ بیان کی ہے کہ:
اللّٰہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے حق کو اپنے حق سے مقدم رکھا ہے۔ مشرکین اللّٰہ تعالیٰ کے منکر تھے اور فرشتوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیکر رب تعالیٰ کی گویا توہین کرتے تھے جبکہ اہلِ کتاب اللّٰہ تعالیٰ کو مانتے اور اس کی عبادت کرتے تھے مگر وہ رسولِ معظم ﷺ کا انکار کرتے تھے۔
رب تعالیٰ کو یہ چیز زیادہ ناپسند ہے کہ اسکے حبیب ﷺ کی شانِ رسالت کا انکار کیا جائے اس لیے اہلِ کتاب کافروں کے عذاب کا پہلے ذکر فرمایا اور مشرکوں کے عذاب کا بعد میں۔
کافروں کے لیے دو باتیں بیان ہوئیں۔
ایک یہ کہ انہیں ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے۔
اور دوسری یہ کہ وہ ساری مخلوق میں بدترین مخلوق ہیں۔
اس سے قبل سورۃ التین میں بیان ہوا تھا کہ انسان کو بہترین صلاحیتیں دی گئی ہیں، مگر جب وہ پستی میں گرتا ہے تو تمام مخلوق سے بدتر ہوجاتا ہے۔
سورۃ الاعراف میں بھی مذکور ہے کہ:
’’ایسے لوگ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ، یہ وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہیں‘‘۔کیونکہ جانور عقل اور اختیار نہیں رکھتے اور یہ عقل و اختیار رکھنے کے باوجود حق سے منہ موڑتے ہیں۔
مخلوق میں بہترین:
پھر ارشاد ہوا:
’’بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے، وہی تمام مخلوق میں بہتر ہیں‘‘۔(آیت ۷)
اس آیت میں ان مومنوں کا ذکر ہے جواللّٰہ تعالیٰ اور حبیبِ کبریا ﷺ پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں اور ان کی اطاعت و پیروی میں زندگی گزارتے ہیں، ایسے لوگوں کو بہترین مخلوق فرمایا گیا۔

