Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 68 of 164

وَمَآ اُمِرُوْآ اِلَّا لِیَعْبُدُوْا:

فرمایا گیا، ’’ اور اُن لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللّٰہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے، ایک طرف کے ہوکر، اور نماز قائم کریں، اور زکوٰۃ دیں، اور یہ سیدھا دین ہے‘‘۔ (پ30،بینہ:5)

’’دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ‘‘سے مراد ایسا دین ہے جس میں کوئی خامی اور کمی نہ ہو۔ وہی دین کامل و مکمل ضابطۂ حیات ہوسکتا ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے انبیاء لے کر آئے ہوں اور وہ فکر و عمل کی اصلاح کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہو۔ ایسا دین اسلام ہی ہے جوسیدھا اورسچا دین ہے۔

 

{اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامُ}

 

لوگوں کی ہدایت کے لیے ’’روشن دلیل‘‘ رسولِ معظم کو مبعوث فرمانے کے بعد رب تعالیٰ نے ’’دینِ قیِّم ‘‘کے پانچ بنیادی احکام بیان فرمادیے جو دراصل اصلاحِ فکر و عمل کے پانچ اہم ستونوں کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ پانچوں احکام سابقہ آسمانی کتب میں بھی موجود تھے۔

 

پہلاحکم یہ ہے کہ:

صرف اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔

 

دوسرا حکم یہ ہے کہ:

شرک و نفاق اور ہر گمراہی سے بچ کردین کو خالص کرتے ہوئے اللّٰہ پر عقیدہ رکھو۔

ان احکام کی تاکید و تلقین پر مزید آیات ملاحظہ فرمائیں۔

ارشاد ہوا:

{فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَoاَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ} 

’’تو اللّٰہ کو پوجو نرے اس کے بندے ہوکر، ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے‘‘۔  ( پ23،زمر:2.3)

 

{قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ}

’’تم فرماؤ! مجھے حکم ہے کہ اللّٰہ کو پوجوں نرا اُس کا بندہ ہوکر‘‘۔( پ23،زمر:11)

 

تیسرا حکم یہ ہے کہ:

صرف حق کی طرف کے ہوجاؤ اور ہر باطل سے کنارہ کش رہو۔ ’’حُنَفَاء ‘‘جمع ہے حنیف کی اور حنیف کا معنی ہے، ہر باطل کو چھوڑ کر صرف حق کی طرف متوجہ ہوجانا۔

سورۃ المزمل میں یہی مفہوم یوں بیان ہوا،

 

{وَتَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلًا}

’’اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو رہو‘‘۔

یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت ایسے کرو کہ دل اُس کے سوا کسی اور کی طرف متوجہ نہ ہو، یہ اخلاص کا اعلیٰ درجہ ہے۔

 

چوتھا حکم یہ ہے کہ:

خشوع و خضوع کے ساتھ پابندی سے نماز اداکرو۔ نماز محض چند جسمانی حرکات ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ بندہ جب اپنے رب کی بارگاہ میں نماز کے لیے کھڑا ہو تو یہ تصور کرے کہ وہ رب تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے ورنہ یہ ضرور تصور رکھے کہ رب کریم اسے دیکھ رہا ہے۔ اس کا اثر یہ ہوگا کہ بندہ اپنی زبان سے جو کچھ پڑھے گا اس کا روحانی کیف اس کے دل و دماغ پر اثرانداز ہوگا، اور جب بندہ رب کی بارگاہ میں جھکے گا تو جسم کے ساتھ ساتھ اس کے دل و دماغ بھی بارگاہِ الہٰی میں سجدہ ریز ہو جائیں گے۔ درحقیقت ایسی نماز بندے کو پوری زندگی رب تعالیٰ کی بندگی اور آقا و مولیٰ کی اطاعت و غلامی میں بسر کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ ایسی ہی نماز کو مومنوں کی معراج، دین کا ستون اور آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا گیا ہے، اور ایسی ہی نماز کے متعلق ارشاد ہوا:

{ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ}

’’بیشک نماز منع کرتی ہے بے حیائی اور بری بات سے‘‘۔ (پ20،عنکبوت:45)

 

پانچواں حکم یہ ہے کہ:

اپنے مال سے زکوٰۃ دیتے رہو۔

یعنی رب تعالیٰ کی رضا کے لیے اس کے دیے ہوئے مال میں سے ان لوگوں کو مقررہ حصہ دیا جائے جنہیں وہ مال دینے کا اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب نے حکم دیا ہے۔ زکوٰۃ دینے میں ایک حکمت تو یہ ہے کہ مال دینے سے دل سے مال کی محبت کم ہوتی ہے۔

دوسری حکمت یہ ہے کہ معاشرے کے مستحق اور غریب لوگوں کی مدد کرنے سے ان کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور انسان تکبر سے محفوظ رہتا ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up