ارشاد ہوا:
{وَاِنَّہٗ لَفِیْ زُبُرِالْاَوَّلِیْنَ}
’’اور بیشک اس کا چرچا اگلی کتابوں میں ہے‘‘۔ (پ19،شعراء:196)
مزید یہ کہ سابقہ صحیفوں میں مذکور عقائد اور اچھی باتیں قرآن کریم میں بھی موجود ہیں۔
مثلاً سورۃ الاعلیٰ میں ارشاد ہوا:
{اِنَّ ھٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی o صُحُفِ اِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسٰی}
(’’بیشک یہ (نصیحت)اگلے صحیفوں میں ہے، ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں‘‘۔(پ30،اعلی:18-19)
گویا قرآن کریم میں سابقہ صحائف ہیں اور سابقہ صحیفوں میں قرآن کریم کے اوصاف، پس رسول کریم ﷺ کا قرآن عظیم تلاوت کرنا گویا سابقہ صحیفوں کی تلاوت کرنا ہے اس لیے اسے جمع کے صیغہ سے ذکر فرمایاگیا۔
’’مُّطَھَّرَۃً‘‘کے معنی پاک چیز کے ہیں۔
اس کا ایک معنی یہ ہے کہ یہ کتاب باطل کی آمیزش اور تحریف و تبدل سے محفوظ اور ہر عیب سے پاک ہے۔
ارشاد ہوا:
{لَا یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْہِ وَلَامِنْ خَلْفِہٖ}
’’ باطل کو اس کی طرف راہ نہیں، نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے‘‘۔(پ24،حم السجدۃ:42)
دوسرا معنی یہ ہے کہ:
اسے پاکیزہ فرشتے لے کر نازل ہوئے ہیں۔
تیسرا معنی یہ ہے کہ:
اسے پاک لوگ ہی چھوئیں۔
ارشاد ہوا:
’’اسے نہ چھوئیں مگر با وضو‘‘۔(پ27،واقعہ:79)
صحیفہ لکھے ہوئے اوراق کو کہتے ہیں اور کتاب کو بھی، لیکن یہاں کُتُبٌ سے مراد احکام ہیں (قرطبی)۔
جیسے سورۃ الانفال کی آیت۶۸ میں بھی ’’کتاب‘‘ سے مراد حکم ہے۔
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مجید عہدِ رسالت میں اوراق پر لکھا جاچکا تھا۔ قرآن کریم کی کتابت کے لیے مقرر صحابہ کو’’ کاتبینِ وحی‘‘ کہتے ہیں۔
’’قَیِّمَۃٌ‘‘ کا معنی ہے،
سیدھی ، درست اور مستحکم۔
اب مفہوم یہ ہوگا کہ: قرآن کریم میں ایسے احکام مذکور ہیں جو سیدھے، درست، منصفانہ اور مستحکم ہیں اور یہ احکام کبھی نہ منسوخ ہونے والے ہیں۔لہٰذا یہ احکام قیامت تک ساری انسانیت کی راہنمائی کرتے رہیں گے۔
وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ: ارشاد ہوا:
’’اور پھوٹ نہ پڑی کتاب والوں میں مگر بعد اس کے کہ وہ روشن دلیل اُن کے پاس تشریف لائے‘‘۔(پ30،بینہ:4)
اس آیت میں بھی ’’الْبَیِّنَۃُ‘‘سے مراد رسولِ اکرم ﷺ ہیں۔
اس آیت کا مفہو م یہ ہے کہ:
نبی کریم ﷺ کی بعثت سے قبل سب اہلِ کتاب اس پر متفق تھے کہ آخری نبی جب ظاہر ہونگے تو ہم ایمان لائیں گے۔ اس اتفاق کا ذکر قرآن کریم میں یوں ہے،
{وَکَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا} (پ1،بقرہ:89)
’’ اور اس سے پہلے وہ اسی نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے‘‘۔
حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے کہ سرکارِ دوعالم ﷺ کی بعثت سے قبل یہود اس طرح دعا مانگتے،
’’اے اللّٰہ! اپنے اس نبی کے وسیلہ سے ہماری مدد فرما جو تُو آخری زمانے میں بھیجے گا اور اُس کتاب کے وسیلہ سے جو تُو اُن پر نازل فرمائے گا۔ (تفسیر دُرِّمنثور)
اہلِ کتاب کا خیال تھا کہ آخری نبی بنو اسرائیل میں سے آئیں گے لیکن جب وہ بنو اسماعیل سے مبعوث ہوئے توبعض کے سوا، حسد اور تعصب کے باعث اکثر نے انکار کر دیا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
{فَلَمَّا جَآءَھُمْ مَّا عَرَفُوْا کَفَرُوْا بِہٖ} (پ1،بقرہ:89)
’’تو جب تشریف لایا اُن کے پاس وہ جانا پہچانا (نبی) ،اُس سے منکر ہو بیٹھے‘‘۔
نہ یہ کہ منکرینِ حق،سچے نبی کے منکر ہوگئے بلکہ وہ اُن حق پسند اہلِ کتاب سے لڑنے جھگڑنے لگے جو حضور ﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔
مذکورہ آیت میں یہی بات سمجھائی جارہی ہے کہ’’ تم پہلے تو متفق تھے کہ ’’روشن دلیل‘‘پر ایمان لائیں گے لیکن اب جبکہ وہ ’’روشن دلیل‘‘یعنی رسولِ معظم ﷺ تشریف لاچکے تو انکار کیوں کرتے ہو اور انہیں ماننے والوں سے لڑ جھگڑ کر تفرقہ کیوں ڈالتے ہو؟عقل کرو۔کیا تمہارا دین یہ سکھاتا ہے؟‘‘پھر تمام انبیاء کرام کی تعلیمات کے بنیادی اجزاء بیان فرمائے گئے۔

