Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 66 of 164

اب اس آیت کے مفہوم کا خلاصہ یہ ہے کہ اہلِ کتاب اور مشرکوں کے کفر و گمراہی سے نکلنے کی سوائے اس کے کوئی اور صورت نہ تھی کہ ایک روشن دلیل آکر انہیں حق اور باطل میں فرق سمجھا دے اور انہیں گمراہی کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت کی روشنی عطا کردے۔ گویا اہلِ کتاب اور مشرکین کفر و شرک کی گہری دَلدَل سے نکلنے کے لیے محتاج تھے کہ رب تعالیٰ رسولِ معظم  کی صورت میں ایک روشن دلیل مبعوث فرما دے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس رسول کی تشریف آوری کے بعد سب کفر و گمراہی سے باز آجائیں گے۔ بلکہ اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس روشن دلیل کے بغیر تو ہدایت کو پانا ہرگز ممکن ہی نہیں تھا، اب اس روشن دلیل کے آجانے کے باوجود اگر کوئی کفر و شرک پر قائم رہے تو پھر وہ اپنی گمراہی کا خود ذمہ دار ہے۔ سورج کو دیکھ کر سورج کا انکار کرنا عقل کا اندھا ہونے کی دلیل ہے۔ اب کوئی رب تعالیٰ سے یہ شکوہ نہیں کرسکتا کہ ہماری ہدایت کے لیے روشن دلیل کیوں نہ بھیجی۔

رب تعالیٰ فرماتا ہے:

{اِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدٰی}

’’بیشک ہدایت فرمانا ہمارے ذمہ ہے‘‘۔ (پ30،اللیل:12)

 

{رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ } ’’رسول خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے ہیں تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد اللّٰہ کے یہاں لوگوں کو کوئی عذر نہ رہے‘‘۔ (پ6،النساء:165)

 

’’اور یہ کہنے کا موقع نہ ہو کہ اگر ہمارے پاس رسول آتے تو ہم ضرور اُن کا حکم مانتے اور اللّٰہ کے مطیع و فرمانبردار ہوتے‘‘۔

رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰہِ: ارشاد ہوا:

’’وہ اللّٰہ کا رسول کہ پاک صحیفے پڑھتا ہے، ان میں سیدھی باتیں لکھی ہیں‘‘۔ (پ30،بینہ:2-3)

 

دوسری آیت میں فرمایا گیا،

وہ روشن دلیل اللّٰہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ اس سے مراد ہے نبوت کی روشن دلیل، اسی لیے معجزہ کو بھی ’’الْبَیِّنَۃ‘‘ کہتے ہیں۔ ’’رسولٌ ‘‘پر تنوین، اظہارِ عظمت کے لیے ہے یعنی یہ رسول بہت عظمت والا ہے۔

یہاں رسولِ کریم کو بذاتِ خود روشن دلیل کہنے کی کئی وجوہات ہیں۔

وحی کے نزول سے قبل بھی نورِ مجسم کی زندگی کفارِ مکہ کے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح تھی اور آپ پہلے ہی توحید، سچائی، نیکی اور بھلائی کے راستے پر قائم تھے۔ یہی سبب ہے کہ کفار آپ کو ’’صادق‘‘ اور ’’امین‘‘ کے لقب سے پکارتے تھے۔ آپ کی پاکیزہ عادات، عظیم اخلاق اور بے عیب سیرت خود آپ کے رسولِ برحق ہونے پر واضح دلیل ہیں۔

آپ کی سیرت اور کمالات دیکھ کرہر زندہ دل گواہی دے گا کہ آپ ہی’’الْبَیِّنَۃ‘‘ یعنی روشن دلیل اور پیکرِ اعجاز ہیں۔

وحی کے نزول کے بعد قرآن مجید کی روشن آیات تلاوت کر کے آپ نے حق و باطل کی راہوں کو واضح فرمایا، اپنی نبوت و رسالت پر بیشمار معجزات پیش کیے اور اپنی صحبت کے فیض سے ایمان لانے والوں کی زندگیوں میں غیر معمولی انقلاب برپا کر دیا۔

غرض یہ کہ آقا و مولیٰ کا اخلاق، پیغام اور تعلیمات بلکہ پوری زندگی ہی اس بات کی روشن دلیل ہے کہ آپ اللّٰہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔

اس آیت میں حضورکا ایک خاص وصف یہ بیان ہوا ہے کہ آپ پاک صحیفے تلاوت کرتے ہیں۔

اُمّی ہونے کے با وجود صحیفوں کی تلاوت بھی آپ کا ایک معجزہ ہے۔ پاک صحیفوں سے مراد قرآن کریم ہے۔ قرآن کریم تو خود ایک صحیفہ ہے مگر اسے تعظیم کے طور پر جمع کے صیغہ سے ذکر فرمایا۔ جمع کے صیغے سے ذکر فرمانے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم کا ذکر سابقہ صحائف میں بھی تھا۔ 

Share:
keyboard_arrow_up