Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 65 of 164

حضرت اُبی نے پھر عرض کی، کیا میرا ذکر ربُ العالمین کے پاس ہوا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ یہ سن کر حضرت اُبی کی آنکھوں سے (خوشی کے) آنسو جاری ہوگئے۔

شانِ نزول:

رحمتِ عالم کی دنیا میں تشریف آوری سے قبل اہلِ عرب دو گروہوں میں منقسم تھے۔ ایک گروہ اہلِ کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کا تھا اور دوسرا گروہ بت پرست مشرکوں کا۔

خاتمُ الانبیاء کی بعثت سے قبل اہلِ کتاب اپنی مخالف مشرک قوموں سے کہا کرتے کہ رسولِ موعود کی آمد قریب ہے۔ ہم ان کا ساتھ دیکر تم پر غالب آئیں گے اور تمہیں نیست و نابود کردیں گے۔

پھر جب نبی کریم کی بعثت ہوئی تو یہود و نصاریٰ کے بعض انصاف پسند علماء نے سچائی اور دیانت کے ساتھ حضور کی نبوت کو مان لیا جبکہ ان کی بڑی تعداد توریت و انجیل میں موجود رسولِ موعود کی نشانیاں حضور کی ذاتِ اقدس میں دیکھ کر بھی آپ پر ایمان نہیں لائی ۔ بلکہ ان کے علماء نے توریت و انجیل میں موجود حضور کے اوصاف و کمالات چھپالیے اور اُن کتب میں مزید تحریفات کا ارتکاب کیا۔ ایسے سنگین حالات میں یہ سورۃ مبارکہ نازل ہوئی۔

لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا:

اگرچہ یہود حضرت عُزیزں کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ کو اللّٰہ کا بیٹا کہنے کی وجہ سے شرک کے مرتکب تھے لیکن رب تعالیٰ نے انہیں مشرکین سے علیحدہ ذکر فرمایا کیونکہ وہ اپنے زعم میں خود کو دینِ توحید کا پیروکار سمجھتے تھے۔ ’’الْبَیِّنَۃُ‘‘یعنی روشن دلیل سے مراد رسولِ انور کی ذاتِ اقدس ہے کیونکہ حضور کی تشریف آوری سے قبل اہلِ کتاب یہی کہتے تھے کہ ہم اپنا دین چھوڑنے والے نہیں جب تک کہ وہ نبی کریم جلوہ گر نہ ہوجائیں جن کا ذکر توریت اور انجیل میں ہے۔ توریت و انجیل میں نہ صرف حضور کی تشریف آوری کا ذکر موجود تھا بلکہ آپ کی متعدد صفات بھی مذکور تھیں جن کی بناء پر اہلِ کتاب آپ کو جانتے اور آپ کی آمد کے منتظر تھے۔

رب تعالیٰ کا ارشاد ہے،

{اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَ ھُمْ}

’’جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے‘‘۔ (پ2،بقرہ:146)

 

مطلب یہ ہے کہ سابقہ کتب میں نبی کریم کے اوصاف ایسے واضح بیان کیے گئے ہیں جن سے اہلِ کتاب کے علماء کو حضورکے خاتمُ الانبیاء ہونے میں کچھ شک و شبہ باقی نہیں رہ سکتا۔ اس لیے وہ حضور کے اس منصبِ عالی کو پورے یقین کے ساتھ جانتے ہیں۔

جب یہود کے عالم حضرت عبداللّٰہ بن سلام مشرف باسلام ہوئے تو حضرت عمر  نے دریافت کیا کہ آیۂ مذکورہ میں نبی کی جو معرفت بیان کی گئی ہے اس کی کیا شان ہے؟

انہوں نے فرمایا: ’’اے عمر! میں نے حضور کو دیکھا تو بغیر کسی شبہ کے پہچان لیا اور میرا حضور کو پہچاننا اپنے بیٹوں کے پہچاننے سے بدرجہا کامل و اکمل ہے‘‘۔

حضرت عمر نے فرمایا:

یہ کیسے؟ انہوں نے کہا، میں گواہی دیتا ہوں کہ حضوراللّٰہ کی طرف سے بھیجے ہوئے رسول ہیں کیونکہ ان کے اوصاف اللّٰہ تعالیٰ نے ہماری کتاب توریت میں بیان فرمائے ہیں جبکہ بیٹے کی طرف سے ایسا یقین کس طرح اور عورتوں کا حال ایسا قطعی کس طرح معلوم ہوسکتا ہے؟ اس پر حضرت عمر  نے ان کا سر چوم لیا۔

یہود و نصاریٰ سے سن سن کر مشرکینِ عرب میں بھی اس بات کا چرچا تھا کہ ایک ایسی ہستی جلوہ گر ہونے والی ہے جو عرب کی ابدی شان و شوکت اور عزت و شہرت کا باعث ہوگی اور عرب کے گلہ بان بھی حکومت کریں گے۔ یہ بات ایسی مشہور تھی کہ مشرکین بھی حضور کی تشریف آوری کے منتظر تھے۔

Share:
keyboard_arrow_up