Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 64 of 164

لفظی ترجمہ:

لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَ الْمُشْرِکِیْنَ

نہ تھے وہ لوگ کفر کیا جنہوں نے سے اہل کتاب اور مشرکوں

مُنْفَکِّیْنَ حَتّٰی تَاْتِیَ ھُمُ الْبَیِّنَۃُ

چھوڑنے والے یہانتک کہ آئے اُن (کے پاس) روشن دلیل

رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰہِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَھَّرَۃً

رسول (طرف) سے اللّٰہ (کی) پڑھتا ہے وہ صحیفے پاک

فِیْ ھَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ

میں ان لکھی ہیں سیدھی (باتیں)

وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اِلَّا

اور نہ جُدا جُدا وئے وہ لوگ جو دیے گئے کتاب مگر

مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَ تْ ھُمُ الْبَیِّنَۃُ

سے پیچھے (اسکے) کہ آئی اُن (کے اس) روشن دلیل

وَ مَآ اُمِرُوْآ اِلَّا لِ یَعْبُدُوا اللّٰہَ

اور نہیں حکم دیے گئے وہ مگر یہ کہ عبادت کریں وہ اللّٰہ (کی)

مُخْلِصِیْنَ لَ ہُ الدِّیْنَ

خالص کرتے ہوئے واسطے اُس (کے) دین

حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوا

یکسو ہوکر اور قائم کریں وہ نماز اور دیں وہ

الزَّکٰوۃَ وَ ذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ

زکوٰۃ اور یہ دین (ہے) سیدھا

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَ الْمُشْرِکِیْنَ فِیْ

بیشک وہ لوگ کفر کیا جنہوں نے سے اہلِ کتاب اور مشرکوں میں

نَارِ جَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْ ھَا

آگ جہنم(کی) ہمیشہ رہیں گے میں اس

اُولٰٓئِکَ ھُمْ شَرُّ الْبَرِیَّةِ

یہ لوگ وہ (ہیں) بدتر مخلوق میں

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ

بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور کام کیے جنہوں نے اچھے

اُولٰٓئِکَ ھُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّۃِ

یہ لوگ وہ(ہیں) بہتر مخلوق (میں)

جَزَآؤُ ھُمْ عِنْدَ رَبِّ ھِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ

ثواب اُن (کا) پاس رب اُن (کے) باغات (ہیں) بسنے (کے) بہتی (ہیں)

مِنْ تَحْتِ ھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْ ھَا اَبَدًا

سے نیچے اُن (کے) نہریں ہمیشہ رہیں میں اُن ابد تک

رَضِیَ اللّٰہُ عَنْ ھُمْ وَ رَضُوْا عَنْ ہُ

راضی ہوا اللّٰہ سے اُن اور راضی ہوئے وہ سے اُس

ذٰلِکَ لِ مَنْ خَشِیَ رَبَّ ہٗ

یہ واسطے اُس کے (ہے) جو ڈرے رب اپنے (سے)

 

ربط ومناسبت:

سورۃ العلق میں پہلی وحی موجود ہے، سورۃ القدر میں مذکور ہے کہ کتاب کب نازل ہوئی، جبکہ اِس سورت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس کتاب کے ساتھ ایک رسول بھیجنے کی ضرورت کیوں تھی۔

سورۃ القدرمیں نزولِ قرآن کا ذکر ہے، اس سورت میں نزولِ قرآن کا مقصد اور رسولِ معظم  کے پاک کتاب تلاوت کرنے کا ذکر ہے۔

سابقہ سورت میں نزولِ قرآن کی رات کی قدر و منزلت بیان ہوئی اور اس سورت میں صاحبِ قرآن  کی شان اور انکی رسالت پر ایمان لانے کی اہمیت مذکور ہے۔

سورۃ القدر میں نزولِ قرآن کی برکات و ثمرات کا بیان تھا، اس سورت میں دعوتِ قرآن پر عمل پیرا ہونے والوں کے لیے جنت اور رضائے الہٰی کی خوشخبری دی گئی۔

حضرت اَنَس سے روایت ہے کہ:آقا و مولیٰ نے حضرت اُبی بن کعب سے فرمایا:

اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں {لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا} والی سورت پڑھ کر سناؤں۔ حضرت اُبی نے عرض کی،یارسول اللّٰہ ! کیا اللّٰہ تعالیٰ نے میرا نام لے کر یہ فرمایا؟ حضور ﷺ  نے فرمایا: ہاں۔

Share:
keyboard_arrow_up