اللّٰہ تعالیٰ نے شبِ قدر کی فضیلت و برکت اہلِ زمین کے لیے رکھی جو یہاں ربِ تعالیٰ کی عبادت کریں۔
چنانچہ فرشتے اسی لیے زمین پر آتے ہیں تاکہ وہ بھی یہاں آکر اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور شبِ قدر کے کثیر اجر و ثواب کے مستحق ہوجائیں۔
اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شخص مکہ مکرمہ اس نیت سے جائے کہ وہاں عبادت کا اجر و ثواب زیادہ ملتا ہے اسی طرح فرشتے شبِ قدر میں زمین پر اتر تے ہیں۔ انسان کی فطرت ہے کہ جب اکابر علماء اور عابد و زاہد لوگ موجود ہوں تو وہ خلوت کے مقابلے میں بہتر طریقے سے عبادت اور اطاعتِ الٰہی میں مشغول ہو جاتے ہیں اس لیے اللّٰہ تعالیٰ اس رات فرشتوں کو بھیجتا ہے کہ اے مسلمانو! تم عابدوں اور زاہدوں کی مجلس میں زیادہ ذوق سے عبادت کرتے ہو۔
اب تمہاری مجلس میں ملائکہ آئے ہیں لہٰذا ذوق و شوق سے میری عبادت کرو۔
’’بِاِذْنِ رَبِّھِم‘‘ فرمانے میں انسانوں کو تنبیہ ہے کہ فرشتے ہمارے بندے ہیں اور ہمارے حکم کے پابند ہیں۔ تم بھی ہمارے بندے ہو ، اس لیے تمہیں بھی ہمارے حکم کا پابند ہونا چاہیے۔
سَلٰمٌ ھِیَ حَتّٰی:
وہ رات مکمل طور پر سلامتی ہے اور ملائکہ کا سلام کرنا سلامتی کا ضامن ہے۔
مقامِ غور ہے کہ سات فرشتوں نے آ کر حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو سلام کیا تھا تو ان پر نمرود کی آگ گلزار ہو گئی تھی، شب ِقدر میں عبادت کرنے والوں پر جب بے شمار فرشتے آ کر سلام کرتے ہیں تو پھر جہنم کی آگ ان پر امن و سلامتی کا گلزار کیوں نہ بنے گی۔
مولا علی کا ارشاد ہے،
ملائکہ اترتے ہیں تاکہ ہمیں سلام کریں اور ہمارے لیے شفاعت کریں۔ جسے ان کا سلام نصیب ہوجائے اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
تفسیر سورۃ البیّنۃ
سورۃ البینہ مکہ میں نازل ہوئی اور اس میں آٹھ آیات ہیں۔
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
’’ اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ہے)‘‘
لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ مُنْفَكِّیْنَ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ الْبَیِّنَةُۙ(۱) رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةًۙ(۲) فِیْهَا كُتُبٌ قَیِّمَةٌؕ(۳) وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنَةُؕ(۴) وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ﳔ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِیَّةِؕ(۶) اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِۙ-اُولٰٓىٕكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِؕ(۷) جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۠(۸)
’’کتابی کافر اور مشرک اپنا دین چھوڑنے کو نہ تھے جب تک اُن کے پاس روشن دلیل نہ آئے۔ وہ کون؟ وہ اللہ کا رسول کہ پاک صحیفے پڑھتا ہے، ان میں سیدھی باتیں لکھی ہیں۔ اور پھوٹ نہ پڑی کتاب والوں میں مگر بعد اس کے کہ وہ روشن دلیل اُن کے پاس تشریف لائے۔ اور اُن لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے، ایک طرف کے ہوکر، اور نماز قائم کریں، اور زکوٰۃ دیں، اور یہ سیدھا دین ہے۔ بے شک جتنے کافر ہیں کتابی اور مشرک، سب جہنم کی آگ میں ہیں، ہمیشہ اس میں رہیں گے، وہی تمام مخلوق میں بدتر ہیں۔بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے، وہی تمام مخلوق میں بہتر ہیں۔اُن کا صلہ اُن کے رب کے پاس بَسنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں، ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں، اللہ اُن سے راضی اور وہ اُس سے راضی، یہ اُس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے ‘ ‘۔

