جلیل القدر تابعی عبدہ بن ابی لبابہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں:
میں نے رمضان المبارک کی ستائیسویں شب میں سمند ر کا پانی چکھا تو وہ نہایت میٹھا تھا۔
حضرت یحییٰ بن ابی میسرہ رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں،
میں نے ۲۷ شب میں خانہ کعبہ کا طواف کیا تو میں نے دیکھا کہ فرشتے فضا میں بیتُ اللّٰہ کا طواف کررہے ہیں۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
بعض علما ء و فقہاء کے نزدیک رمضان کی ستائیسویں شب میں قرآن کریم ختم کرنا مستحسن ہے تاکہ شبِ قدر کی برکتیں بھی حاصل ہوجائیں۔ کیونکہ اکثر محدثین نے احادیث بیان کی ہیں کہ۲۷ویں شب میں شبِ قدر ہوتی ہے۔
غوث اعظم سیدنا عبدالقادر جیلانی رحمہ اللّٰہ بھی اسی خیال کے قائل تھے کہ ۲۷ ویں شب کوشبِ قدر ہوتی ہے۔
رمضان میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کرنے سے شبِ قدر کی کچھ برکتیں ضرور نصیب ہوتی ہیں۔
حضور ﷺ نے فرمایا:
جس نے رمضان کے پورے مہینے مغرب اور عشاء کی نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کیں اس نے شبِ قدر کا کسی قدر حصہ پالیا۔
خلاصہ یہ ہے کہ اول تو ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم ماہ رمضان کی تمام راتو ں کے آخری حصے میں ذوق و شوق کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ کی عباد ت کریں اور خوب دعائیں مانگیں۔ کم از کم نمازِ تہجد پورا ماہ ضرور ادا کریں۔ پھر کوشش کرکے آخری عشرے کی تما م راتوں کو عبادتِ الٰہی میں گزاریں اور شب ِقدر تلاش کریں ورنہ کم از کم ۲۷ ویں شب کو تو ضرور تما م رات رضائے الٰہی کے لیے عبادت و دعا میں مصروف رہیں۔ رب تعالیٰ ہم سب کو شبِ قدر کی برکتیں نصیب فرمائے۔ آمین
تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوْحُ :
نورِ مجسم رحمت عالم ﷺ نے فرمایا:
جب شبِ قدر آتی ہے تو حضرت جبرئیل علیہ اسلام فرشتوں کے جھرمٹ میں زمین پر اترتے ہیں اور اس شخص کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں جو کھڑا یا بیٹھا اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کررہا ہو۔
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ:
حضرت جبرئیل علیہ اسلام اور فرشتے اس شب میں عبادت کرنے والوں سے مصافحہ کرتے ہیں اور ان کی دعاؤں پر آمین کہتے ہیں یہاں تک کہ صبح ہوجاتی ہے۔
علماء فرماتے ہیں کہ:
شبِ قدر میں عبادت کرنے والوں سے جب جبرئیل اور فرشتے سلام و مصافحہ کرتے ہیں تو اس کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، دل خشیتِ الہٰی سے لرزنے لگتا ہے اور ان پر رقت طاری ہوجاتی ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔
امام رازی رحمتہ اللّٰہ علیہ نے تفسیرِ کبیر میں فرشتوں کے زمین پر اترنے کی متعدد وجوہ تحریر فرمائی ہیں جن سے چند سطور ملاحظہ ہوں۔
جب اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں تو فرشتوں نے کہا تھا ،یہ مخلوق زمین میں فساد پھیلائے گی اور خونریزی کرے گی۔ اللّٰہ تعالیٰ انسان کی عزت و عظمت واضح کرنے کے لیے فرشتوں کو نازل فرماتا ہے کہ جاؤ اور دیکھو جن کے متعلق تم نے یہ کہا تھا، وہ کیا کررہے ہیں۔ دیکھ لو! میرے بندے اس رات میں بستر و آرام کو چھوڑ کر میری خاطر عبادات میں مشغول ہیں اور مجھے راضی کرنے کے لیے آنسو بہا بہا کر دعا ئیں مانگ رہے ہیں، حالانکہ شبِ بیداری ان کے لیے فرض یا واجب نہیں بلکہ سنتِ مؤکدہ بھی نہیں صرف میرے محبوب رسول ﷺ کے ترغیب دینے پر یہ اپنی نیند و آرام قربان کرکے ساری رات کے قیام پر مستعد ہیں۔
پھر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور مومن کی عظمت کو سلا م کرتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ جنت میں ان کے پاس فرشتے آئیں گے اور انہیں سلام کریں گے۔
شبِ قدر میں فرشتوں کو نازل فرمانے کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ربِ تعالیٰ گویا یہ بتانا چاہتا ہے اے میرے بندو! اگر تم دنیا میں میری عبادت میں مشغول رہے تو تمہارے پاس رحمت کے فرشتے آئیں گے اور تمہاری زیارت کرکے وہ تمہیں سلام کریں گے۔

