Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 61 of 164

٭ موت کے وقت کو مخفی رکھا تاکہ لوگ ہر وقت خدا سے ڈرتے رہیں۔

٭ توبہ کی قبولیت کو مخفی رکھا تاکہ لوگ جس طرح ممکن ہو، توبہ کرتے رہیں۔

٭ ایسے ہی شبِ قدر کو مخفی رکھا تاکہ لوگ رمضان کی تمام راتو ں کی تعظیم کریں۔

٭ جمعہ کی جو ساعت قبولیتِ دعا کی ہے، مخفی رکھی تاکہ لوگ ہر ساعت میں دعا کریں۔

 

27 ویں شب، لیلۃ ُ القدر:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ آقا ومولیٰ کافرمانِ عالیشان ہے،

شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔

حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے کہ: آقا ئے دو جہاں نے فرمایا:

شبِ قدر کو آخری عشرے میں ۲۵ ویں اور ۲۷ ویں راتوں میں تلاش کرو۔

 

حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالم نے فرمایا:

شب قدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں یعنی ۲۱،۲۳،۲۵ ،۲۷ اور۲۹ ویں رات میں ہے ۔جو مسلمان ثواب کی نیت سے اس رات میں عبادت کرتا ہے اللّٰہ تعالیٰ اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیتا ہے۔

اس رات کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ یہ رات پُرسکون، خاموش اور چمکدار ہوتی ہے۔ صاف شفاف گویا انوار کی کثرت کے باعث چاندنی پھیلی ہو۔ نہ زیادہ گرم نہ زیادہ ٹھنڈی بلکہ معتدل۔ اس رات میں صبح تک آسمان کے ستارے شیاطین کو نہیں مارے جاتے۔

اسکی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے بعد کی صبح کو سورج بغیر شعاعوں کے طلوع ہو تا ہے۔ بالکل ہموار ٹکیہ کی طرح جیسا کہ چودھویں کا چاند کیونکہ شیطان کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ اس دن سورج کے ساتھ نکلے۔

کثیر علماء کے نزدیک ۲۷ویں شب، شب ِقدر ہوتی ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ سے یہی مروی ہے۔

 

۲۷ویں شب کے لیلۃالقدر ہونے کی تائید میں مزید احادیث ملاحظہ فرمائیں۔

 

حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ  سے روایت ہے کہ آقا مولیٰ ﷺ  نے فرمایا:

شبِ قدر رمضان کی ستائیسویں شب ہے۔

 

امام بیہقی رحمہ اللّٰہ نے فرمایا:

اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

حضرت زر بن حبیش  فرماتے ہیں کہ:

میں نے حضرت اُبی ابن کعب سے پوچھا، عبداللّٰہ بن مسعود کا ارشاد ہے کہ جو سال بھر شبِ بیداری کرے وہ شبِ قدر پالے گا۔آپ کیا کہتے ہیں؟

آپ نے فرمایا ،

اللّٰہ اُن پر رحم فرمائے، انہوں  نے یہ اس لیے کہا کہ لوگ ایک ہی رات پر قناعت نہ کرلیں حالانکہ وہ جانتے تھے کہ شبِ قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہے اور وہ ۲۷ ویں شب ہے۔ پھر آپ نے قسم کھا کر فرمایا، شبِ قدرستائیسویں رات ہے۔

 

حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں کہ:

ایک بار حضرت عمر  نے صحابہ کرام سے شبِ قدر کے متعلق پوچھا تو سب نے مختلف جواب دیا۔ میں نے عرض کی، یہ آخری عشرے کی ساتویں رات یعنی ۲۷ ویں شب ہے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کا پسندیدہ عدد سات ہے۔

اللّٰہ تعالیٰ نے سات آسمان پیدا فرمائے ،سات زمینیں بنائیں،انسان کی تخلیق سات درجات میں فرمائی، اور سات چیزیں بطور اس کی غذا کے پیدا فرمائیں ۔

 

حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ  نے فرمایا:

میرا بھی یہی خیال ہے کہ ۲۷ ویں شب لیلۃ القدر ہے۔

دوسری روایت میں آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے سات آسمان،  سات زمینیں، سات دن تخلیق فرمائے، طوافِ کعبہ کے چکر سات ہیں، صفا مروہ کے چکر سات ہیں، رمی جمار بھی سات کنکریوں سے ہوتا ہے ۔

 

حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ لیلۃُ القدر میں کل نو حروف ہیں اور یہ سورۃالقدر میں تین مرتبہ آیا ہے۔9 کو 3 سے ضرب دیں تو 27 آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لیلۃالقدر ۲۷ ویں شب ہی ہے۔

حضرت عثمان بن ابی العاص  کا ایک غلام بحری جہازوں کا ملاح رہا تھا۔ وہ ان سے کہنے لگا، ایک چیز میرے تجربہ میں بہت عجیب ہے، وہ یہ کہ سال میں ایک رات سمند ر کا کھارا پانی میٹھا ہو جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا: جب وہ رات آئے تو مجھے ضرور بتانا۔ رمضان کی ۲۷ ویں شب کو اس نے کہا، یہ وہی رات ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up