Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 60 of 164

شبِ قدر مخفی کیوں؟

لوگ اکثر سوال کرتے ہیں کہ شب ِقدر کو مخفی رکھنے میں کیا حکمتیں ہیں؟

جواب یہ ہے کہ اصل حکمتیں تو اللّٰہ تعالیٰ اور اس کا رسول   ہی بہتر جانتے ہیں۔ یہ وہ جواب ہے جو صحابہ کرام علیہم ُالرضوان بارگاہ نبوی میں اُس وقت دیا کرتے جب انہیں کسی سوال کے جواب کا قطعی علم نہ ہوتا۔

وہ فرماتے،

اَللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ۔’’

اللّٰہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں‘‘۔

 

غیب بتانے والے آقا و مولیٰ ﷺ  کے روحانی فیوض و برکات سے اکتسابِ فیض کرتے ہوئے علماء کرام  نے شبِ قدر کے مخفی ہونے کی بعض حکمتیں بیان فرمائی ہیں جو درج ذیل ہیں۔

اگر شبِ قدر کو ظاہر کردیا جاتا تو کوتاہ ہمت لوگ اسی رات کی عبادت پر اکتفا کر لیتے، اور دیگر راتوں میں عبادت کا اہتمام نہ کرتے۔ اب لوگ آخری عشرے کی پانچ راتوں میں عبادت کی سعادت حاصل کرلیتے ہیں۔

شبِ قدر ظاہر کردینے کی صورت میں اگر کسی سے یہ شب چھوٹ جاتی تو اسے بہت زیادہ حزن و ملال ہوتا اور دیگر راتوں میں وہ دل جمعی سے عبادت نہ کرپاتا۔ اب پانچ طاق راتوں میں سے دو تین راتیں اکثر لوگوں کو نصیب ہو ہی جاتی ہیں ۔

اگر شبِ قدر کو ظاہر کردیا جاتا تو جس طرح اس رات میں عبادت کا ثواب ہزار ما ہ کی عبادت سے زیادہ ہے اسی طرح اس رات میں گناہ بھی ہزار درجہ زیادہ ہوتا۔

لہذا اللّٰہ تعالیٰ نے اس رات کو مخفی رکھا تاکہ جو اس شبِ میں عبادت کریں و ہ ہزار ما ہ کی عبادت سے زیادہ اجر و  ثواب پائیں اور جو اپنی جہالت و کم نصیبی سے اس شب میں بھی گناہ سے باز نہ آئیں تو انہیں شبِ قدر کی توہین کرنے کا گناہ نہ ہو۔ اس شب میں اللّٰہ تعالیٰ فرشتو ں کو مومن کی عظمت بتا نے کیلئے زمین پر نازل فرماتا ہے اور اپنے عبادت گزار بندوں پر فخر کرتا ہے۔

شبِ قدر ظاہر نہ کرنے کی صورت میں فخر کرنے کا زیادہ موقع ہے کہ اے ملائکہ دیکھو! میرے بند ے معلو م نہ ہونے کے باوجود محض احتمال کی بنا پر عبادت و اطاعت میں اتنی محنت وسعی کر رہے ہیں اگر انہیں بتا دیا جاتا کہ یہی شبِ قدر ہے تو پھر انکی عبادت و نیاز مندی کا کیا حال ہوتا۔

شبِ قدر کا مخفی رکھنا اسی طرح سمجھ لیجیے جیسے موت کا وقت نہ بتانا ۔کیونکہ اگر موت کا وقت بتادیا جاتاتو لوگ ساری عمر نفسانی خواہشات کی پیروی میں گنا ہ کرتے رہتے اور موت سے عین پہلے توبہ کرلیتے۔ اس لیے موت کا وقت مخفی رکھا گیا تا کہ انسا ن ہر لمحہ موت کا خوف کرے اور ہر وقت گناہوں سے دور اور نیکی میں مصروف رہے۔

اسی طرح آخری عشرے کی ہر طاق رات میں بندوں کو یہی سوچ کر عبادت کرنی چاہیے کہ شاید یہی شبِ قدر ہو۔ اس طرح شبِ قدر کی جستجو میں برکت والی پانچ راتیں عبادتِ الٰہی میں گزارنے کی سعادت نصیب ہوجاتی ہے۔اللّٰہ تعالیٰ نے بے شمار حکمتوں اور مصلحتوں کے باعث بہت سی اہم چیزوں کو مخفی رکھا ہے۔

امام رازی رحمتہ اللّٰہ علیہ تفسیرِ کبیر میں فرماتے ہیں کہ:

٭ اللّٰہ تعالی نے اپنی رضا مندی کو عبادت و اطاعت میں مخفی رکھا ہے تاکہ لوگ تمام امور میں اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کریں۔

٭ اس نے اپنی ناراضگی کو گناہوں میں مخفی رکھا ہے تاکہ لوگ تمام گناہوں سے بچیں۔

٭ اپنے اولیاء کو مومنوں میں مخفی رکھا ہے تا کہ لوگ سب مومنوں کی تعظیم کریں۔

٭ دعا کی قبولیت کو مخفی رکھا تاکہ لوگ کثرت کے ساتھ دعائیں مانگا کریں۔

٭ اسمِ اعظم کو مخفی رکھا تاکہ لوگ اللّٰہ تعالیٰ کے ہر نامِ مبارک کی تعظیم کریں۔

٭صلوۃُ الوسطیٰ کو مخفی رکھا تاکہ لوگ سب نمازوں کی حفاظت کریں۔

Share:
keyboard_arrow_up