Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 59 of 164

نورِ مجسم ﷺ    کا ارشاد ہے،

ماہِ رمضان میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔جو اس رات سے محروم رہا وہ ساری بھلائی سے محرو م رہا اور جو اس کی بھلائی سے محروم رہا وہ بالکل ہی محروم اور کم نصیب ہے۔

 

جانِ کائنات ﷺ    کا یہ بھی ارشاد ہے،

جو شبِ قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرتا ہے اس کے تمام پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔

 

شبِ قدر کی تعیین:

شبِ قدر کی تعیین میں آئمہ دین کے مختلف اقوال پائے جاتے ہیں۔

 

جلیل القدر تابعی امام اعظم ابو حنیفہ کا ایک قول یہ ہے کہ:

شبِ قدر تمام سال میں کسی بھی رات کو ہو سکتی ہے۔ صحابہ کرام میں سے حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کا یہی قول ہے۔

امام اعظم کا دوسرا قول یہ ہے کہ:

یہ رمضان کی ستائیسویں شب ہے۔

 

امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہمااللّٰہ کا قول یہ ہے کہ:

شبِ  قدر رمضان کی کسی متعین رات میں ہوتی ہے۔

 

علماء شافعیہ کا قول ہے:

اس کا اکیسویں شب میں ہونا اقرب ہے۔

امام مالک اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللّٰہ کے نزدیک یہ رمضان کے آخری عشرے کے طاق راتو ں میں ہو تی ہے کسی سال کسی رات میں اور کسی سال کسی دوسری رات میں۔

 

شیخ محی الدین ابن عربی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:

میرے نزدیک ان کا قول زیادہ صحیح ہے جو کہتے ہیں کہ یہ تمام سال میں کسی بھی رات کو ہو سکتی ہے کیونکہ میں نے شبِ قدر کو دو مرتبہ شعبان میں پایا ہے۔

ایک بار۱۵ شعبان کو اور دوسری بار ۱۹ شعبان کو اور دو مرتبہ رمضان کے درمیانے عشرے میں۱۳ اور ۱۸ رمضا ن کو اور رمضان کے آخری عشرے کی ہر طاق رات میں اسے پایا ہے۔ اس لیے یہ پورے سال میں کسی بھی رات کو ہو سکتی ہے البتہ ماہِ رمضان میں یہ بکثرت آتی ہے۔

 

شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ ان اقوال میں تطبیق دیتے ہوئے کہتے ہیں ،

شبِ قدر سال میں دو مرتبہ ہوتی ہے ایک وہ جس میں احکا مِ الٰہی نازل ہوتے ہیں اور اسی رات میں قرآنِ  کریم لوحِ محفوظ سے اتارا گیا ۔ یہ رات سال بھر میں کسی بھی شب ہو سکتی ہے۔ البتہ جس سال قرآنِ کریم نازل ہوا، اس سال یہ رات رمضان المبارک میں تھی اور یہ اکثر رمضان المبارک میں ہی ہوتی ہے۔

 

دوسری شبِ قدر وہ ہے:

جس میں بکثرت ملائکہ زمین پر اترتے ہیں، روحانیت عروج پر ہوتی ہے، عبادات اور دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ یہ ہر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہوتی ہے اور بدلتی رہتی ہے۔

 

امام بخاری رحمہ اللّٰہ روایت کرتے ہیں کہ:امام ابنِ عیینہ رحمہ اللّٰہ نے فرمایا:

قرآن مجید کی جس آیت میں کسی چیز کے متعلق ارشاد ہوا: ’’وَمَا اَدْرٰک‘‘۔  اس کا علم اللّٰہ تعالیٰ نے حضورﷺ    کو عطا فرما دیا۔

 

اور جس کے متعلق ارشادہوا،

’’وَمَا یُدْرِیْکَ‘‘ اس کا علم آپ کو نہیں دیا۔(صحیح بخاری)

 

حضرت عبادہ بن الصامت فرماتے ہیں کہ:

آقاومولیٰ ﷺ     ہمیں لیلۃُ القدر کے متعلق بتانے کیلیے تشریف لائے،  اسی وقت دو آدمی آپس میں لڑ پڑے۔

حضور ﷺ    نے فرمایا:

میں تمہیں شبِ قدر کی خبر دینے آیا تھا مگر فلاں اور فلاں لڑ پڑے تو لیلۃُ القدر کی تعیین اٹھا لی گئی۔ ہوسکتا ہے یہ تمہارے لیے بہتر ہو۔ پس تم اسے رمضان کی اُنتیسویں، ستائیسویں اور پچیسویں شب میں تلاش کرو۔

 

امام ابن حجر اور امام عینی رحمہما اللّٰہ نے اس کی شرح میں لکھا ہے کہ:

صرف اس سال یہ تعیین اٹھا لی گئی اور اگلے سال پھر اس کا علم عطا فرما دیا گیا۔

اُس وقت شبِ قدر کی تعیین کا علم اٹھا لینے کی یہی حکمت سمجھ میں آتی ہے کہ حضور ﷺ    کی طرف سے شبِ قدر کی تعیین کا علم پوشیدہ رکھنے کا عذر ہو جائے۔ صحابہ جاننا چاہتے تھے لہٰذا اگر آپ باوجود علم کے نہ بتاتے تو آپ کی شانِ رؤف و رحمت کے خلاف ہوتا اور اگر آپ بتا دیتے تو رب کریم کی حکمت کے منافی ہوتا ۔کیونکہ رب کریم کی رضا اس میں تھی کہ بندے آخری عشرے کی تمام طاق راتیں شب بیدار رہ کر عبادت کریں اور شبِ قدر تلاش کریں۔

چند مزید حکمتیں سپردِ قلم وقرطاس ہیں۔

Share:
keyboard_arrow_up