Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 58 of 164

ایک اور حکمت لیلۃُ القدر کی یہ ہے کہ:

اس رات میں عظمت و بلند مرتبہ والی کتاب قرآنِ حکیم نازل ہوئی۔ وہ کتاب اور وحی  لے کر آنے والا فرشتہ یعنی جبریل علیہ السلام بھی بلند مرتبےوالا ہے اور وہ عظیم الشان کتاب جس محبوب رسول ﷺ    پر نازل ہوئی وہ بھی بڑی عظمت اور بلند مرتبے والے ہیں۔

سورۃالقدر میں اس لفظ ’’قدر‘‘ کے تین مرتبہ آنے میں شاید یہی حکمت ہے۔

’’قدر‘‘ کے ایک معنی تقدیر کے بھی ہیں اور چونکہ اس رات میں بندوں کی تقدیر کا وہ حصہ جو اس رمضان سے اگلے رمضان تک پیش آنے والا ہوتا ہے، وہ متعلقہ فرشتوں کو سونپا جاتا ہے۔ اس لیے بھی اس رات کو شبِ قدر کہتے ہیں۔

 

’’قدر‘‘ کے ایک معنی قدرت کے بھی ہیں۔

اس بناء پر شبِ قدر وہ رات ہے جس میں اللّٰہ تعالیٰ اپنی قدرت اور اختیار سے سال بھر کے فیصلے اور احکامات فرشتوں کے سپرد فرماتا ہے۔

نزولِ قرآن:

اللّٰہ تعالیٰ نے شبِ قدر کی بڑی فضیلت یہ بیا ن فرمائی کہ یہ نزولِ قرآن کی رات ہے۔

 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

{اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ}

’’بیشک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا‘‘۔ (پ25،دخان:3)

 

اس مبارک رات سے بعض مفسرین  نے شبِ برأت مراد لی ہے۔یہ بھی مشہور ہے کہ قرآن حکیم تئیس برس کی مدت میں بتدریج نازل ہوا نیز اس کا نزول ربیع الاول میں شروع ہوا۔

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ نے ان اقوال میں یوں تطبیق کی،

’’شبِ قدر میں قرآن کریم لوحِ محفوظ سے یکبارگی آسمانِ دنیا پربیت ُالعزت میں نازل ہوا جبکہ اس کے نزول کا اندازہ اور لوحِ محفوظ کے نگہبانوں کو اس کا نسخہ نقل کرکے آسمانِ دنیا پر پہنچانے کا حکم اسی سال کی شب برأت میں ہوا۔

گویا قرآن حکیم کا نزولِ حقیقی ماہِ رمضان میں شبِ قدر کو ہوا اور نزولِ تقدیری اس سے پہلے شبِ برأت میں ہوا۔ اور سینۂ مصطفیٰ ﷺ    پر نزولِ قرآن کا آغاز ربیع الاول میں پیر کے دن ہوا اور تئیس سال میں مکمل ہوا۔

 

لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ:

شبِ قدر کی فضیلت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس رات کی عبادت کا ثواب ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ شبِ قدر کو ہزار مہینوں سے بہتر فرمایا گیا مگر یہ نہیں بتایا کہ ہزار ماہ سے کتنے زیادہ درجہ بہتر ہے۔ دس درجہ، سو درجہ یا ہزار درجہ یا اس سے بھی زیادہ۔

 

ایک قول یہ بھی ہے کہ:

’’الف شہر‘‘ سے مراد ہزار کا معین عدد نہیں ہے بلکہ مفہوم یہ ہے کہ شبِ قدر تمام زمانوں سے افضل ہے۔ یعنی زیادہ سے زیادہ تم جتنی مدت کا تصور کرسکتے ہو، شبِ قدر اس سے بھی افضل اور بہتر ہے۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ:

ایک ہزار مہینوں کے تراسی (۸۳) سال اور چار ماہ بنتے ہیں۔ پس اگر کوئی شخص ۸۳ سال اور چار ماہ تک دن رات مسلسل اخلاص کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرے تو بھی ایک شبِ قدر کی عبادت اتنی طویل مدت کی عبادت سے افضل و بہتر ہے جب کہ اس طویل مدت میں کوئی شبِ قدر نہ ہو۔ اس طرح یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی شخص شبِ قدر میں عبادت کرے تو گویا اس نے۸۳ سال اور چار ماہ اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت میں گزار دیے بلکہ اسے اس سے بہتر اجر ملے گاپھر اس پر بس نہیں اگر طلب سچی ہے تو ہر سال شبِ قدر نصیب ہو سکتی ہے گویا ذرا سی محنت اور لگن سے کئی ہزار مہینوں سے زیادہ کا اجر و ثواب حاصل کیا جاسکتا ہے۔ شبِ قدر اتنی زیادہ خیر و برکت والی رات ہے کہ۔

غیب بتانے والے آقا و مولیٰ ﷺ    نے ارشاد فرمایا:

ماہِ رمضان میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو اس رات سے محروم رہا و ہ ساری خیر سے محروم رہا۔ 

Share:
keyboard_arrow_up