Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 9 of 164

ارشاد ہوا:

{فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَاﭪ(۸) قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَاﭪ(۹) وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ(۱۰)}

”پھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیزگاری اس کے دل میں ڈالی۔ بیشک مراد کو پہنچا جس نے اسے ستھرا کیا اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا‘‘۔

(پ30،شمس:8-10)

 

پھر سورۃ الیل میں فرمایا گیا،

ہر انسان کی کوشش مختلف ہے، اچھے اعمال کی وجہ سے جنت کا راستہ آسان ہو جاتا ہے اور برے اعمال کے سبب انسان جہنم کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔

نیز یہ بھی فرمایا گیا،

’’بیشک ہدایت فرمانا ہمارے ذمے ہے‘‘۔(پ30،اللیل:12)

جبکہ اس سورت میں حق کے ہادی ،حق کے رہبر ، رحمتِ عالم، نورِ مجسم، سیدِ عالم کے فضائل بیان فرمائے گئے اور یہ تعلیم دی گئی ہے کہ امت اعمالِ صالحہ کے ساتھ ساتھ آقا و مولیٰ کی شان و عظمت دلوں میں راسخ کرے اور ان سے محبت کرے تاکہ ان کی اطاعت کرنا اور ان کے مشن کو اپنانا آسان ہو جائے۔

 

(2)۔ سورۃ الیل میں حضرت ابوبکر کے فضائل بیان ہوئے اس لیے اسے ’’سورۃ ابوبکر‘‘ بھی کہتے ہیں جبکہ سورۃ الضحیٰ میں رسول کریم کے فضائل بیان ہوئے اس لیے اسے ’’سورۃ النبی ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

 

(3)۔ سورۃ الیل میں پہلے رات اور پھر دن کی قسم ارشاد ہوئی تھی، سورۃ الضحیٰ میں پہلے دن اور پھر رات کی قسم ارشاد فرمائی گئی ۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ حضرت بوبکر کے قبولِ ایمان سے پہلے کا زمانہ تاریکی اور اندھیری رات کی مثل ہے جبکہ رسولِ معظم  شروع ہی سے مومن اور منصبِ نبوت پر فائز تھے اور آپ کا قلبِ انور تجلیاتِ ربانی سے منور تھا۔

گویا آفتابِ نبوت کے طلوع ہونے سے پہلے آئینۂ صدیق بے نور رات کی مانند تھا۔ اس لیے سورۃ الیل میں رات کا ذکر پہلے ہے اور سورۃ الضحیٰ کو دن کے ذکر سے شروع فرمایا گیا۔

 

(4)۔ سورۃ الیل  پہلے ہے اور اس کے بعد سورۃ الضحیٰ ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ رات کا اندھیرا پہلے ہوتا ہے پھر دن کا اُجالا نمودار ہوتا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

{وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ۬ؕ-}

’’اور اندھیریاں اور روشنی پیدا کی‘‘۔ (پ7،انعام:1)

رب تعالیٰ نے رات کو دن پر مقدم کیا کیونکہ دنیا میں پہلے کفر و شرک کے اندھیرے چھائے ہوئے تھے، آفتابِ رسالت کی صبح طلوع ہونے  کے بعد وہ تاریکیاں دور ہو گئیں اور ہر طرف ہدایت کی روشنی پھیل گئی۔

 

(5)۔ سورۃ الیل میں اَشْقٰی  (منکرِ رسالت) کی مذمت

اور اَتْقٰی یعنی سیدنا صدیقِ اکبر کی شان بیان ہوئی ۔

جبکہ سورۃ الضحیٰ میں بھی منکرینِ رسالت کی تردید اور سیدُ الاتقیاء امام ُ الانبیاء رسولِ معظم کی شان مذکور ہے۔

 

(6)۔ سورۃ الیل میں{لَسَوْفَ یَرْضٰی} ’’بیشک قریب ہے کہ وہ راضی ہوگا‘‘فرما کر رضائے صدیقِ اکبر کا ذکر ہوا اور سورۃ الضحیٰ میں{وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ(۵)} ( پ30، والضحیٰ:5)

فرما کر رضائے مصطفی کو بیان فرمایا گیا۔

(7)۔ سورۃ الیل کا اختتام سیدنا صدیقِ اکبر کی شان پر ہوا اور سورۃ الضحیٰ    کا آغاز شانِ محمد مصطفیٰ سے ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مقامِ صدیقیت کے بعد مقامِ نبوت کا درجہ ہے۔

نیز ان دونوں سورتوں کے درمیان کوئی اور سورت نہیں ، اسی طرح رسولِ معظم اور سیدنا ابوبکر صدیق کے درمیان کوئی تیسرا نہیں ہے۔اس میں اشارہ ہے کہ نبی کریم کے بعد تمام لوگوں میں افضل ترین ہستی سیدنا ابوبکر صدیق کی ہے۔ اس میں سیدنا ابوبکر کی خلافتِ بلافصل کا اشارہ بھی موجود ہے۔

(8)سورۃ الیل میں

{ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ (۱۹)} (پ30،اللیل: 19)

فرما کر نعمت کا شکر ادا کرنے کا اشارہ دیا گیا تھا اور سورۃ الضحیٰ میں {بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠ (۱۱)}( پ30،والضحیٰ:11) فرما کر واضح طور پر نعمت کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔

Share:
keyboard_arrow_up