اہلِ ایمان سے گذارش ہے کہ ان سورتوں کے ترجمہ و تفسیر کو بار بار پڑھیں، سمجھ کر یاد کریں اور اخلاص سے عمل کی کوشش کریں، یہی صراطِ مستقیم ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ تفسیر ’’انوارُ القرآن ‘‘ کے انوار سے سب مسلمانوں کے سینے پُر نور فرمائے۔ آمین خاکپائے علماءِ حق،محمد آصف قادری غفرلہٗ ولوالدیہ
تفسیر سورۃ الضحیٰ:
سورۃ الضحیٰ مکہ میں نازل ہوئی اور اس میں گیارہ آیات ہیں۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ہے)
وَ الضُّحٰىۙ (۱) وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ (۲) مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ (۳) وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ (۴) وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ (۵) اَلَمْ یَجِدْكَ یَتِیْمًا فَاٰوٰى۪ (۶) وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪ (۷) وَ وَجَدَكَ عَآىٕلًا فَاَغْنٰىؕ (۸) فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ (۹) وَ اَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْؕ (۱۰) وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠ (۱۱)
چاشت کی قسم اور رات کی جب وہ پردہ ڈالے ۔کہ تمہیں تمہارے رب نے نہ چھوڑا اور نہ مکروہ جانا۔ اور بیشک پچھلی تمہارے لیے پہلی سے بہتر ہے۔ اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے۔ کیا اُس نے تمہیں یتیم نہ پایا پھر جگہ دی۔ اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔ اور تمہیں حاجت مند پایا پھر غنی کر دیا۔ تو یتیم پر دباؤ نہ ڈالو۔ اور منگتا کو نہ جھڑکو۔ اوراپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو ۔
(کنزالایمان)
لفظی ترجمہ:
بِ اِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سے نام اللّٰہ (کے) نہایت مہربان رحم والا
وَ الضُّحٰی وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰی
قسم چاشت (کی) اور رات (کی) جب چھا جائے
مَا وَدَّعَ کَ رَبُّ کَ وَ مَا قَلٰی
نہ چھوڑا تمہیں رب (نے) تمہارے اور نہ وہ ناراض ہوا
وَ لَ الْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَ کَ مِنَ الْاُوْلٰی
اور البتہ پچھلی(گھڑی) بہتر ہے لیے تمہارے سے پہلی (گھڑی)
وَ لَ سَوْفَ یُعْطِیْ کَ رَبُّ کَ فَ تَرْضٰی
اور البتہ عنقریب دے گا تمہیں رب تمہارا پس تم راضی ہوجاؤگے۔
اَلَمْ یَجِدْ کَ یَتِیْمًا فَ اٰوٰی
کیا نہ پایا اُس نے تمہیں یتیم پھر جگہ دی اس نے
وَ وَجَدَ کَ ضَآلًّا فَ ھَدٰی
اور پایا اس نے تمہیں گم (اپنی محبت میں) تو؍ پس راہ دی اس نے
وَوَجَدَ کَ عَآئِلًا فَ اَغْنٰی
اور پایا اُس نے تمہیں حاجت مند تو غنی کردیا اُسنے
فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَ لاَ تَقْھَرْ
تو بہرحال یتیم (پر) پس نہ سختی کرو
وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَ لاَ تَنْھَرْ
اور بہرحال منگتے (کو) پس نہ جھڑکو
وَ اَمَّا بِ نِعْمَۃِ رَبِّ کَ فَ حَدِّث ْ
اور بہرحال (کو) نعمت رب (کی) اپنے پس بیان کرو
ربط و مناسبت:
قرآن کریم میں جس ترتیب کے ساتھ سورتیں موجود ہیں، ان کے مضامین پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان سورتوں میں ایک خاص ربط اور باہم مناسبت ہے۔
اس خاص ربط و مناسبت کی وجہ سے مذکورہ ترتیب متعدد اسرار و رموز کا مخزن ہے۔
اسی تناظر میں سورۃ الضحیٰ کے سابقہ سورت سے ربط پر چند نکات پیشِ خدمت ہیں۔
(1)۔ اس سے قبل سورۃ الشمس میں بیان ہوا تھا کہ ہر انسان کو برائی اور اچھائی کا شعور عطا فرما دیا گیا اور اسے نیکی اور بدی میں سے کسی بھی راہ کو اختیار کرنے کی آزادی دی گئی، اب اگر وہ نیکی کا راستہ چلے گا تو کامیاب ہو جائے گا ورنہ نا کام۔

