سورۃ الکافرون میں بتایا گیا کہ:
دنیا میں خیر و شر کا معرکہ ہمیشہ سے جاری ہے اورحق و باطل کے درمیان کوئی اور راہ نہیں۔ گویا ایک شیطان کا گروہ ہے جس میں کفار اور منافق ہیں اور دوسرا اللّٰہ کا گروہ۔ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ آپ کس کے ساتھ ہیں؟ نیکی یا برائی کا سرچشمہ دل ہے۔
اسی لیے حدیث پاک میں فرمایا گیا،
جس کا دل سنور گیا، اس کی زندگی سنور گئی۔ شیطان دل ہی میں وسوسے ڈالتا ہے۔ دل کو ستھرا کیجیے، اس کے لیے خیالات کو پاکیزہ کیجیے۔ مومن کبھی فارغ نہیں رہتا۔
سورۃ الانشراح میں:
اسے عبادت و ریاضت میں مصروف رہنے اور اللّٰہ تعالیٰ سے لَو لگانے کی تلقین فرمائی گئی ، اور مُعَوِّذَتَیْن میں اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی۔
حضور ﷺ کا ارشاد ہے،
ہرشخص صبح اٹھ کراپنی زندگی کےسرمایہ(وقت)کا سودا کرتا ہے پھر یا تو اسے نقصان سے بچا لیتا ہے یا برباد کر ڈالتا ہے۔ (مسلم)
اس تیز رفتار زندگی میں ہر شخص بہت مصروف ہے۔ لوگ نماز پڑھنے کے لیے وقت نہیں نکالتے تو قرآن کریم ترجمہ و تفسیر کے ساتھ، باقاعدہ کسی عالم سے پڑھنے کے لیے وقت کیونکر نکالیں گے۔
اسی خیال سے اُستاذی و مرشدی حضرت شاہ صاحب قبلہ کی خدمت میں عرض کی کہ آخری سورتوں کی جو بنیادی عقائد کا جامع بیان ہیں، سادہ اور آسان تفسیر تحریر فرمادیجیے
تاکہ ہر خاص و عام استفادہ کر سکے۔ احقر کے پُر زور اصرار پر آپ راضی ہوئے اور اس کام کا آغاز کیا۔ ’’انوارُ القرآن‘‘ کی تصنیف کے دوران جن تفاسیر سے استفادہ کیا گیا اُن میں
تفسیر کبیر،
تفسیر قرطبی،
روح المعانی،
روح البیان،
ابن کثیر،
تفسیر مظہری ،
تفسیر دُرِ منثور ،
تفسیر عزیزی
اور خزائن العرفان زیادہ نمایاں ہیں۔
دیگر کتبِ تفاسیر و احادیث و شروح کے حوالے جابجا کتاب میں دے دیے گئے ہیں۔ تیسویں پارے کی آخری ۲۲ سورتوں کی یہ تفسیر کم و بیش تین سال کے عرصے میں مکمل ہوئی۔ اس کی بنیادی وجہ حضرت شاہ صاحب مدَّظلہٗ کی بے پناہ دینی مصروفیات ہیں۔ مسودہ کی ترتیب بھی ایک مشکل مرحلہ تھی جو حضرت شاہ صاحب قبلہ کی نظرِ کیمیا گر کے فیضان سے آسان ہوئی۔
اللّٰہ تعالیٰ شاہ صاحب دامت فیوضہم وبرکاتہم العالیہ کے فیوض و برکات سے ہمیں مزید مستفیض فرمائے۔آمین

