یہ بھی ارشاد ہوا:
’’تم فرماؤ! میں اُ س کی پناہ لیتا ہوں جو صبح کا پیدا کرنے والا ہے، اُس کی سب مخلوق کے شر سے‘‘۔(الفلق)
مزید فرمایا گیا،
’’تم کہو! میں اُ س کی پناہ میں آیا جو سب لوگوں کا رب ، سب لوگوں کا بادشاہ، سب لوگوں کا معبود ہے‘‘۔(الناس)
اب انہی سورتوں کی روشنی میں عقیدۂ رسالت ملاحظہ کیجیے۔
ارشاد ہوا: ’’
کتابی کافر اور مشرک اپنا دین چھوڑنے کو نہ تھے جب تک اُن کے پاس روشن دلیل نہ آئے۔ وہ کون؟ وہ اللّٰہ کا رسول جو پاک صحیفے پڑھتا ہے‘‘۔ (البَیِّنَہْ)
’’اور بیشک ہر آنے والا لمحہ تمہارے لیے پہلے سے بہتر ہے۔ اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے‘‘۔(الضحیٰ)
’’کیا ہم نے تمہارا سینہ کشادہ نہ کیا۔ اور تم پر سے وہ بوجھ اتار لیا جس نے تمہاری کمر بوجھل کرد ی تھی۔ اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کر دیا‘‘۔(الم نشرح)
’’بیشک ہم نے تمہیں بیشمار خوبیاں عطا فرمائیں، تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو، بیشک جو تمہارا دشمن ہے وہی ہر خیر سے محروم ہے‘‘۔(الکوثر)
عقیدۂ آخرت سمجھنا ہو تو
سورۃالتین،
سورۃ العلق،
سورۃ الزلزال،
سورۃ العادیات،
سورۃ القارعہ،
سورۃ التکاثر،
سورۃ الھمزہ
اور سورۃ الماعون ملاحظہ فرما لیجیے۔
تزکیۂ اعمال کے حوالے سے بھی ان سورتوں میں نہایت اہم تعلیمات موجود ہیں۔
اہم ترین حقیقت سورۃ العصر میں یہ بیان ہوئی کہ:
زمانۂ محبوب کی قسم! ہر انسان ضرور نقصان میں ہے سوائے اُن کے جو ایمان لائے، اور اچھے کام کیے، اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔گویا زندگی کے سرمائے کو بچانے کی یہی صورت ہے کہ مذکورہ چار اوصاف اپنالیے جائیں۔ دین میں اخلاص بنیادی شرط ہے ورنہ سب بیکار۔
سورۃ البَیِّنَہْ میں ارشاد ہوا:
اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللّٰہ کی بندگی کریں نرے اُسی پر عقیدہ لاتے، ایک طرف کے ہوکر، اور نماز قائم کریں، اور زکوٰۃ دیں، اور یہ سیدھا دین ہے۔
سورۃ الماعون میں اُن نمازیوں کے لیے خرابی بیان ہوئی: جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔
سیرت و کردارکی تعمیر کے لیے سورۃ العلق میں پڑھنے لکھنے اورحصولِ علم کی فضیلت بیان ہوئی۔
سورۃ التین میں یہ بتایا گیا کہ:
انسان کو احسنِ تقویم میں پیدا کیا گیا اور یہ برائیاں کرتے کرتے انتہائی پستی میں گرجاتا ہے ۔
سورۃ الھمزہ میں:
غیبت اور عیب جوئی کرنے والے کو ہلاکت کی وعید سنائی گئی۔
سورۃ الماعون میں:
بُرے اخلاق کی مذمت کے ذریعے اعمالِ صالحہ اپنانے کی تلقین کی گئی۔ تزکیۂ فکر و عمل کے حوالے سے دو سورتیں بڑ ی اہم ہیں۔
سورۃ العادیات میں:
مالک کی اطاعت میں گھوڑوں کے مشقت اٹھانے کی قسم ارشاد فرما کر انسان کا نا شکرا، لالچی اور غافل ہونا بیان ہوا ہے۔ پھر قبروں سے اٹھائے جانے اور سینوں میں چھپی باتیں کھولنے کا ذکر کر کے اسے مزید تنبیہ کی گئی ہے۔
اسی طرح سورۃ التکاثر میں
کثرتِ مال کی حرص و ہوس میں مبتلا، موت سے غافل لوگوں کو بیدار ہونے کا پیغام دیا گیا، اور بتایا گیا کہ مال کی زیادہ طلبی کا انجام جہنم ہے۔ یہ حقیقت آج مان لوتو بہتر ہے ورنہ کل مرنے کے بعد تو مان ہی جاؤگے۔
مال و اولاد اور نعمتوں کی کثرت آزمائش ہے، قیامت میں ان نعمتوں کا حساب دینا ہوگا۔ ان سورتوں میں نبی کریم کی حیاتِ طیبہ کے کئی اہم پہلو بھی بیان ہوئے ہیں جن میں آپ کا یتیم ہونا، محبتِ الہٰی میں وارفتہ ہونا، آپ کے گستاخ ابولہب اور اس کی بیوی کا برباد ہونا، ابوجہل کی پیشانی پکڑ کر گھسیٹنے کی وعید، مکہ کی فتح اور لوگوں کا فوج در فوج دین میں داخل ہونا اور قریش پر انعامات کا ذکر شامل ہیں۔

