Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 5 of 164

ایں دعا ازمن و از جملہ جہاں آمین باد خادم العلوم والعلماء محمد سلیمان رضوی پیش لفظ انجینئر حافظ قاری محمد آصف قادری

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

 

الحمد للّٰہ الواحد الغفار والصلوة والسلام علی النبی المختار وعلی اٰله الاطهار واصحابه الاخیار

 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

 

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ(۱۴) وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ(۱۵) بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا٘ۖ(۱۶)وَالْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ(۱۷)

’’بیشک مراد کو پہنچا جو ستھرا ہوا اور اپنے رب کا نام لے کر نماز پڑھی۔ بلکہ تم جیتی دنیا کو ترجیح دیتے ہو اور آخرت بہتر اور باقی رہنے والی )ہے(‘‘۔ ( پ 30،الاعلیٰ:14تا17)

یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کو جس کام سے زیادہ محبت ہوتی ہے یا جس کام کو وہ زیادہ اہم سمجھتا ہے ،اُس کام کو وہ اتنی ہی زیادہ توجہ سے کرتا ہے اور اس کے لیے اسی قدر زیادہ وقت دیتا ہے۔

موجودہ دور فتنوں سے بھرپور ہے۔ لوگ مال و دولت اور دنیا کے حصول میں مستغرق ہو کر آخرت کو بھول چکے، فحاشی اور بے حیائی نے مسلمانوں کے گھروں میں ڈیرے ڈال لیے، اور لوگ اپنے رب کی اطاعت، رسول کی محبت اور قرآن کریم  کے فہم سے بیگانہ ہوتے جارہے ہیں۔  وہ خوش نصیب جنہیں اپنے مسلمان ہونے کا شعور ہے، شدت سے محسوس کررہے ہیں کہ دنیا بھر میں ہماری ذلت و رسوائی کااصل سبب قرآن کریم اورصاحبِ قرآن سے دوری ہے۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ انہیں قرآن مجید سمجھ میں آئے تاکہ اس پر عمل پیرا ہو کروہ اپنے خالق و مالک کو راضی کریں اور عظمتِ رفتہ پا سکیں۔

جس طرح جسمانی طہارت کے لحاظ سے صرف پاک لوگوں کو حکم ہے کہ وہ قرآن کریم کو چھو سکتے ہیں، اسی طرح قرآن کریم کی روحانی برکات کو چھونے اور اس کے انوار و تجلیات سے دلوں کو منور کرنے کے لیے باطن کو پاک کرنا لازم ہے۔

مذکورہ آیت میں رب تعالیٰ نے فلاح پا نے کی بنیاد ’’ تزکیہ‘‘ کو قراردیا ہے۔ تزکیہ کے معنی ہیں،نفس کو ستھرا کرنا، یعنی خوبیوں کو پروان چڑھانا اور خامیوں کو دور کرنا۔

تزکیہ کے چار اجزاء ہیں۔

ذہن کو بُرے عقائد سے پاک کرنا،

دل کو بُرے جذبات سے پاک کرنا،

نفس کو بُری خواہشات سے پاک کرنا

اور جسمانی اعضاء کو گناہوں سے پاک کرنا۔

 

اللّٰہ تعالیٰ سے زیادہ سچی بات کسی کی نہیں ہوسکتی لہٰذا فلاح پانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کااز سرِ نَو تعین کریں اور اس فانی اور ناپائیدار زندگی پر غیر فانی اور ہمیشہ رہنے والی زندگی کو ترجیح دیں۔

قرآن کریم کے نورِ ہدایت سے فیضیاب ہونے کے لیے سب سے پہلے نیت کو پاکیزہ کیا جائے کہ مقصود صرف رضائے الہٰی ہو، پھر اعمال کو  پاکیزگی کے سانچے میں ڈھالا جائے، اورپھر قرآن کریم میں غور و تدبر کیا جائے۔

 

فرمانِ الہٰی ہے،

’’تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں‘‘۔(النساء)

 

تزکیۂ نفس کے دو حصے ہیں،

عقائد و افکار کا تزکیہ اور اعمال کا تزکیہ۔تزکیۂ نفس کی بنیادی شرط، اخلاص اور للٰہیت سورۃ البینہ میں بیان ہوئی ہے۔

 

ارشاد ہوا:

’’اور اُن لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللّٰہ کی بندگی کریں، نرے اسی پر عقیدہ لاتے، ایک طرف کے ہوکر‘‘۔

 

آخری 22 سورتوں کا مطالعہ فرمائیں توجابجا تزکیۂ عقائد کے حوالے سے توحید و رسالت و آخرت کے مہکتے پھول نظر آتے ہیں۔ چند حوالے ملاحظہ ہوں۔

 

فرمایا گیا،

’’تم فرماؤ! وہ اللّٰہ ہے ، وہ ایک ہے، اللّٰہ بے نیاز ہے، نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا، اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی‘‘۔ (الاخلاص)

Share:
keyboard_arrow_up