خاک پائے اولیاء کرام عبدالرزاق بھترالوی تقریظ جلیل جامع المعقول والمنقول علامہ مفتی محمد سلیمان رضوی شیخ الحدیث دارُ العلوم انوارِ رضا، راولپنڈی
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
نحمدک ونستعینک یا اللّٰہ ونصلی علی من قال انی رسول اللّٰہ اولاً وآخراً وعلی آلک واصحابک یا سیدی یا رسول اللّٰہ ۔
قرآن مجید اللّٰہ تعالیٰ جل جلالہٗ کی وہ آخری کتاب ہے جسے اللّٰہ تعالیٰ نے نبی پاک پر نازل فرمایا، جو تمام علومِ اولین و آخرین کو اپنے جلو میں لیے ہوئے ہے۔
چونکہ امام الانبیاء پر نبوت ختم کر دی گئی لہٰذا قرآن مجید کو ابدُ الآباد تک کے مسائل کو لینا تھا تاکہ یہ آنے والی نسلوں اور اقوام و افراد کے لیے کافی ہوسکے تو اللّٰہ تعالیٰ نے اس میں تمام علوم و ضروریات کو اس طرح سمویا کہ یہ عالمگیر قانون قرار پایا، تمام انسانیت کے لیے حتیٰ کہ فرد سے قوم تک، پیدائش سے لے کر موت تک، انفرادی زندگی سے لے کر بین الاقوامی ضروریات و مسائل پر مشتمل کیا گیا اور وہ بھی یوں کہ صبحِ قیامت تک آنے والی مخلوق کے تمام مسائل و ضروریات اس میں جمع کر دیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آئے دن تفاسیر معرضِ وجود میں آئیں اور ہر نئی آنے والی تفسیر نے مسائل کو اس طرح لیا کہ غالباً نزولِ قرآن انہی مسائل کے لیے ہوا ہے۔
مثلاً: کبیر کو دیکھیں تو فلسفہ
، روح المعانی کو دیکھیں تو معقولات،
تفسیراتِ احمدیہ کو دیکھیں تو فقہی مسائل،
احکامُ القرآن کو دیکھیں تو او امرو نواہی،
عرائسُ البیان کو دیکھیں تو تصوف و طریقت،
تنویر المقیاس من تفسیر ابنِ عباس کو دیکھیں تو جامع ُ القواعد پائیں۔
غرض یہ کہ تفسیر ابن عباس سے لے کر نجوم الفرقان تک بشمول ما بینہما کے ہر مفسر کا انداز، اس کی تفسیر کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ یوں بدلتے ہوئے اسلوب میں ہر آئے دن کوئی نہ کوئی تفسیر معرضِ وجود میں آتی ہے حتیٰ کہ ابھی قریب ترین ایام میں تفسیر انوارُ القرآن جو کہ سورۃ الضحیٰ سے لے کر سورۃ الناس تک بائیس سُوَر پر مشتمل ہے، اس کا مسودہ نظر سے گذرا۔
جس کے مؤلف حضرت علامہ پیر سید شاہ ترابُ الحق قادری جیلانی دامت برکاتہم العالیہ خلیفہ مجاز مفتی ٔ اعظم ہند رحمۃ اللّٰہ علیہ ہیں۔ بحمدہٖ تعالیٰ آپ کی اس کاوش کو دیکھ کر مسرت ہوئی کہ آپ نے اولاً ترجمہ کرنے میں ایک ایک لفظ کو علیحدہ علیحدہ معانی پر مشتمل قرار دیکر ایسی حسین کاوش کی جو کہ قاری کے لیے معانی کو ذہن نشین کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوگی۔
آپ نے مختلف مستند تفاسیر سے مواد لے کر اپنے مواقف کو ثابت کرنے میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی۔ کسر رہتی بھی کیوں جبکہ آپ
’’صاحبُ البیت ادریٰ بما فیہ‘‘
کا مصداق ہوتے ہوئے علومِ مولائے کائنات کے وارث ہیں جن کے علوم کی وسعت کا معیار یہ کہ فاتحہ میں سارا قرآن، تسمیہ میں ساری فاتحہ، بسم اللّٰہ میں سارا تسمیہ اور نقطۂ باء میں سارے علومِ باء، استخراج کرنا آپ ہی کا حسین مرقعِ علوم ہے۔
گو شاہ صاحب قبلہ کی تبلیغی، تعلیمی، تدریسی، تصنیفی، تربیتی اور تنظیمی مصروفیات اس قدر زیادہ ہیں کہ وقت نکالنا دشوار ہے، اس کے باوجود استدعا ہے کہ آپ اس عمل کو آگے بڑھائیں اور تفسیر کے ذریعے امتِ مسلمہ کو علمی جواہر پارے عطا فرمائیں،
اللّٰہ تعالیٰ آپ کا حامی وناصر ہوگا۔ شائقینِ علومِ قرآن کو نیاز مندانہ مشورہ ہے کہ اس تفسیر سے فائدہ اٹھائیں، اِن شاء اللّٰہ تمام مسائل کا حل آپ کو اس میں ملے گا۔ اللّٰہ تعالیٰ شاہ صاحب قبلہ کو عمرِ طویل عطا فرمائے تاکہ علماء، عوامِ اہلسنت بالعموم اور متوسلین سلسلۂ قادریہ بالخصوص مزید فیض پائیں۔
آمین ثم آمین

