Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 3 of 164

حقیقت یہ ہے کہ عربی ہوں یا عجمی، قرآن پاک کو کامل طریقے سے اس وقت تک نہیں سمجھ سکتے جب تک سلف صالحین علماء کرام کی تفاسیر کا مطالعہ نہ کیا جائے، پھر آیات کے مطابق احادیث کو نہ دیکھا جائے۔

پیرطریقت رہبر شریعت حضرت علامہ الشاہ تراب الحق قادری مدظلہ العالی کی قرآن پاک کی آخری بائیس سورتوں کی تفسیر کو دیکھا اور پڑھا تو عظیم پایا۔ قرآن پاک کے مطالب، اسرار و رموز کو تفاسیر اور احادیث کے حوالہ جات سے بہت تحقیقی اور خوبصورت اور آسان طریقہ سے بیان فرما دیا جو علماء، طلباء اور عوام کے لیے یکساں مفید ہے۔

میں امید کرتا ہوں کہ شاہ صاحب تفسیر کا یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔ آپ کی مصروفیات سے راقم کسی حد تک واقف ہے۔

سلسلۂ طریقت و تصوف کو جاری رکھتے ہوئے لوگوں سے ملاقاتیں کرنا، تعویذات و دعاء کے لیے حاضر ہونے والوں کو محروم نہ لوٹانا، پھر کراچی جیسے عظیم شہر میں دینی مجالس میں خطابات کے لیے جابجا وقت دینا، پھر صحت کی خرابی بھی آپ کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ان تمام مصروفیات و عوارض کے ہوتے ہوئے آپ نے چند سالوں سے سلسلۂ تحریر کی طرف توجہ دی اور آپ کی بہت ہی مفیدتحقیقی کتب طبع ہو کر عوام کے پاس پہنچ چکی ہیں، اللّٰہ تعالیٰ آپ کو مزید ہمت عطا فرمائے اور علم وعمل میں خیر و برکت عطا فرمائے ۔ آمین

اللّٰہ تعالیٰ کا آپ پر خصوصی کرم ہے کہ آپ علمی تقریر فرماتے ہیں جس سے علماء بھی فائدہ حاصل کرتے ہیں اور عوام بھی مکمل سمجھ سکتے ہیں۔

آپ کی تقریر جس طرح آسان ہوتی ہے اسی طرح آپ کی تحریر بھی آسان ہوتی ہے۔ راقم کا آج کل حافظہ بہت کمزور ہوگیا ہے پھر بھی ایک مرتبہ میں آپ کی کتاب کو ضرور پڑھتا ہوں اور وقتی فائدہ بہت حاصل کرلیتا ہوں بعد میں اگرچہ بھول بھی جاتا ہوں۔ الحمد للّٰہ!ابھی تک اللّٰہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے، کتاب کو دیکھ کر سمجھ لیتا ہوں اسی لیے سلسلۂ تحریر جاری رکھے ہوئے ہوں۔آپ اپنا موقف بہت ٹھوس طریقے سے بیان کرتے ہیں۔

ایک بار راقم کراچی میں آپ کی محفل میں بیٹھا ہوا تھا۔ کسی کا ٹیلیفون آیا، وہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے متعلق کوئی سوال کررہا تھا۔ آپ نے دلائل سے اس کا عدم جواز ثابت کیا۔

اُس شخص نے غالباً کوئی لیت و لعل سے کام لیا تو آپ نے فرمایا: ’’ابھی کچھ انتظار کرو، پرانے لوگ چلے جائیں گے تو شاید آپ کے لیے سب کچھ جائز ہوجا ئے‘‘۔

قبلہ شاہ صاحب سلف صالحین کا کامل نمونہ ہیں۔ حسنِ اخلاق میں آپ کو بہت بلند مقام حاصل ہے۔ آپ کے سامنے چھوٹے بڑے اور امیر و غریب کا کوئی فرق نہیں ہوتا، ہر ایک کی طرف ایک جیسی توجہ فرماتے ہیں۔ اکثر علماء اس وصف سے عاری ہیں۔آپ کے دل میں تمنا رہتی ہے کہ دینی مدارس سے کثیر تعداد میں علماء فارغُ التحصیل ہوں۔

آپ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں بریلوی رحمہ اللّٰہ کے مسلک پر کامل طور پر قائم و دائم ہیں۔

اللّٰہ تعالیٰ راقم کو بھی آپ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ کے دل میں مصیبت زدگان کے لیے ہمیشہ ہمدردی موجزن رہتی ہے۔ آزاد کشمیر میں زلزلہ کی وجہ سے یا پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے ، کسی طرح بھی آفت زدگان ہوں،ان کے لیے آپ کی سعیٔ جمیل سے کثیر مقدار میں امداد پہنچتی ہے۔

آپ ہمیشہ راقم کو دعا و مہربانی سے یاد رکھتے ہیں اور جامعہ جماعتیہ مہر العلوم کی کامل سرپرستی فرماتے ہیں۔آپ کی نظرِ کرم سے ہی مدرسہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ آ پ کو جزائے خیر عطا فرمائے، اور آپ کی تمام تصانیف کو مقبول اور فیض آفریں بنائے۔ آمین

Share:
keyboard_arrow_up