شانِ نزول:
حضرت جندب سے روایت ہے کہ:
رسول کریم ﷺ طبیعتِ مبارکہ ناساز ہونے کی وجہ سے دوتین راتیں تہجد کے وقت قیام نہ فرما سکے۔اس پر ایک گستاخ عورت (ابولہب کی بیوی) آئی اور اس نے کہا،’’اے محمد! مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تجھے تیرا شیطان چھوڑ گیا ہے، میں نے اسے دو تین راتوں سے تیرے پاس نہیں دیکھا‘‘۔ اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (بخاری، مسلم)
مفسرین کرام کا یہ بھی ارشاد ہے،
ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ چند روز تک وحی نہ آئی تو کفار نے طعنہ کے طور پر کہا، محمد کو ان کے رب نے چھوڑ دیا اور وہ ان سے بیزار ہو گیا۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔
وَالضُّحیٰ وَالَّیْلِ اِذَا سَجیٰ:
’’ضُحیٰ‘‘کا معنی ہے چاشت کا وقت یعنی دن کا ابتدائی حصہ جو سورج کے بلند ہونے سے لیکر اس کی شعاعوں کے بڑھنے تک ہوتا ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ:
ضحیٰ سے تمام دن مراد ہے کیونکہ یہ ’’لیل‘‘ کے مقابل بیان ہوا ہے۔
امام جعفر صادق کا ارشاد ہے کہ:
ضحیٰ سے مراد وہ دن ہے جب اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کلام فرمایا، اور رات سے مراد شبِ معراج ہے جس میں رب تعالیٰ نے حضورﷺ کو اپنا دیدار عطا فرمایا۔
’’بعض مفسرین کا ارشاد ہے کہ:
ضحیٰ سے مراد رسولِ معظم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا دن ہے اور لیل سے مراد شبِ معراج ہے۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ:
ضحیٰ سے مراد آقا و مولیٰ ﷺ کا چہرۂ مبارک اور لیل سے حضور ﷺ کی زلفِ عنبریں مراد ہے۔
بعض کا قول ہے کہ:
ضحیٰ سے مراد نورِ علم ہے جو حضور ﷺ کو عطا ہوا جس کے باعث آپ پر عالمِ غیب کے اسرار و رموز منکشف ہوئے اور لیل سے رحمتِ عالم ﷺ کا عفو و درگزر مراد ہے جس نے امت کے عیبوں کو چھپا لیا۔
بعض کا کہنا ہے کہ:
دن سے حضور ﷺ کے ظاہری احوال مراد ہیں جن سے لوگ آگاہ ہیں اور رات سے مراد حضور ﷺ کے باطنی احوال ہیں جن کو علام الغیوب کے سوا کوئی نہیں جانتا‘‘۔
ضحیٰ کا وقت لوگوں کے باہم ملنے اور حصولِ معاش کا وقت ہے گویا یہ میدانِ حشر کی مثل ہے جہاں لوگ متفکر و منتشر ہونگے۔ اور لیل یعنی رات سکون اور نیند کے لیے ہے اس لیے یہ قبروں میں ٹھہرنے کی مثل ہے۔ چونکہ زندگی کو موت پر اور آخرت کو زندگی پر فضیلت حاصل ہے اس لیے ’’ضحی‘‘ کا ذکر’’ لیل‘‘ سے پہلے کیا گیا۔
دن کی روشنی رب کریم کی رحمت کی مثل ہے اور رات کی تاریکی عذابِ الہٰی کی مانند۔ یہاں دن کا ذکر پہلے کیا گیا تاکہ لوگ رحمت سے مایوس نہ ہوں اور پھر رات کا ذکر فرمایا تاکہ لوگ اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے بے خوف نہ ہو جائیں۔
ایک قول یہ ہے کہ:
ضحی سے مراد جنت کی روشنی اور لیل سے مراد جہنم کی تاریکی ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ:
ضحی سے قلوبِ عارفین کا نور مراد ہے اور لیل سے قلوبِ کافرین کی ظلمت۔ان الفاظ سے مذکورہ تمام معانی مراد لیے جا سکتے ہیں کیونکہ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ اس کے الفاظ وسیع المعنی اور کثیر عمدہ احتمالات پر مشتمل ہوتے ہیں۔
محدث علی قاری رحمہ اللّٰہ شرح شفا شریف میں فرماتے ہیں:
یہ سورت جس مقصد کے لیے نازل ہوئی، اس کا تقاضا یہی ہے کہ یہ کہا جائے کہ ضحی سے رسولِ معظم ﷺ کا چہرۂ انور اور لیل سے آپ ﷺ کی مبارک سیاہ زلفیں مراد ہیں۔
امام رازی رحمہ اللّٰہ نے تفسیر کبیر میں یہ قول ذکر کیا ہے کہ
’’ضحی سے رسولِ کریم ﷺ کا چہرۂ انور اور لیل سے آپ کی سیاہ زلفیں مراد ہیں‘‘۔
اور فرمایا ہے کہ:
یہ معنی لینے میں کوئی حرج نہیں۔

