Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 11 of 164

حضرت براء فرماتے ہیں:

لَمْ اَرَ شَیْئاً قَطُّ اَحْسَنَ مِنْہُ۔

’’میں نے آقا و مولیٰ سے زیاہ حسین کوئی نہ دیکھا‘‘۔

 

حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں:

لَوْ رَأَیْتَہٗ رَأَیْتَ الشَّمْسَ طَالِعَۃً۔

’’اگر تم اُنہیں دیکھتے تو گویا سورج کو طلوع ہوتا دیکھتے‘‘۔

 

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں:

مَا رَأَیْتُ شَیْئاً اَحْسَنَ مِنْ رَّسُوْلِ اللہِ کَاَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِیْ فِیْ وَجْہِہٖ۔

’’میں  نے رسولِ معظم سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہ دیکھا گویا سورج آپ کے چہرۂ انور میں چلتا تھا‘‘۔

 

بقول شیخ سعدی رحمہ اللّٰہ،

اگر نہ واسطہ روئے و موئے او بودے خدائے نہ گفتے قسم بہ لیل و نہار

’’اگر حضور کے چہرۂ انور اور مبارک زلفوں کی بات نہ ہوتی تو اللّٰہ تعالیٰ ہرگز رات اور دن کی قسم ارشاد نہ فرماتا‘‘۔

 

علامہ اسماعیل حقی رحمہ اللّٰہ  نے بھی تفسیر روح البیان میں یہی مفہوم بیان کیا ہے۔

اکابر مفسرین وعلمائے کرام کی تصریحات کی روشنی میں اب ان آیات کا مفہوم یہ ہوگا،

’’چاشت (کی طرح چمکتے ہوئے چہرۂ مصطفی )کی قسم اور رات (کی مانند حضور کی سیاہ زلفوں) کی قسم جب وہ پردہ ڈالے کہ تمہیں تمہارے رب نے نہ چھوڑا اور نہ مکروہ جانا‘‘۔

 

علامہ محمود آلوسی رحمہ اللّٰہ نے بڑی پیاری بات لکھی ہے۔وہ رقم طراز ہیں:

جیسے دن کی ایک ساعت رات کی تمام ساعتوں پر حاوی ہے اسی طرح آقا و مولیٰ کے معجزات و کمالات تمام انبیاءِکرام علیہم السلام کے معجزات و کمالات پر غالب ہیں۔

گویا رب تعالیٰ نے دن کی اس ساعت کی قسم ارشاد فرمائی جو تمام رات پر اس طرح غالب ہے جس طرح اکیلے امام الانبیاء سیدِ عالم کے خصائص و کمالات تمام انبیاءِ کرام  کے کمالات پر غالب و حاوی ہیں۔

دن اور رات کی قسم کیوں ؟

کفار و مشرکین  نے دو باتوں کا دعویٰ کیا۔

ایک یہ کہ آپ کے رب نے آپ کو چھوڑدیا ہے

اور دوم یہ کہ وہ آپ سے ناراض ہو گیا ہے۔

کفار پر لازم تھا کہ وہ اپنے دعوے پر گواہ پیش کرتے۔ جب وہ اپنے دعوے پر گواہ نہ پیش کر سکے تو قاعدے کی رو سے حضور پر لازم تھا کہ آپ ان کے اس دعوے کے انکار پر قسم اُٹھاتے۔ اس لیے قسم حضور کے ذمے تھی لیکن آپ کی بجائے آپ کے رب نے قسم ارشاد فرما کر یہ واضح کر دیاکہ میرا اور میرے محبوب رسول کا معاملہ ایک ہی ہے۔ جو قسم میرے محبوب رسول پر لازم آتی ہے وہ میرے ذمۂ کرم پر ہے۔ قسم یاد فرمانے کے لیے دن اور رات کا انتخاب فرمانے میں بھی کئی حکمتیں ہیں۔

(1)۔ رب تعالیٰ کا ارشاد ہے،

’’بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لیے‘‘۔ (پ4،ال عمران:190)

جس طرح دن کی روشنی کے بعد رات کی تاریکی کا آنا رب تعالیٰ کی ناراضگی کی دلیل نہیں اسی طرح وحی آنے کے بعد وحی کا نہ آنا بھی رب تعالیٰ کی ناراضگی کی دلیل نہیں اور نہ ہی اس بات کی علامت کہ وہ اپنے رسول سے بیزار و ناراض ہے۔

(2)۔ ان آیات میں نبی کریم کو بشارت دی گئی ہے کہ جس طرح رات کے بعد دن کا آنا ضروری ہے اسی طرح وحی نہ آنے کی کیفیت کے بعد آپ پر وحی کا آنا بھی ضروری ہے۔جس طرح شب کے بعد دن کی آمد مسلسل جاری ہے اسی طرح آپ پر وحی کی آمد بھی مسلسل جاری رہے گی۔

(3)۔ وحی نازل نہ ہونے کا مذکورہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مجید اللّٰہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اسے رب تعالیٰ نازل فرماتا ہے۔ کیونکہ اگر یہ حضور کا اپنا کلام ہوتا تو وحی نازل ہونے میں رکاوٹ نہ ہوتی اور نہ ہی مشرکین مذکورہ طعنہ دیتے۔

(4)۔ ان آیات میں ایک اشارہ یہ بھی ہے کہ جس طرح رات اور دن ایک دوسرے سے مختلف حالتیں ہیں جو تبدیل ہوتی رہتی ہیں اسی طرح حالات میں تبدیلی بھی فطری بات ہے۔ آج اگر لوگ راہِ حق میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں اور آپ کو مشکلات اور مخالفتوں کا سامنا ہے تو یہ حالات یقیناً تبدیل ہونگے۔ ایک وقت آئے گا کہ لوگ دعوتِ حق قبول کریں گے اور آپ کا دین تمام باطل مذاہب پر غالب آئے گا۔

Share:
keyboard_arrow_up