مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی:
دن کا روشن ہونا اور رات کا تاریکی پھیلا دینا دونوں حالتیں رب تعالیٰ کی حکمت بھری نشانیاں ہیں۔ اگر مسلسل دن رہے اور رات نہ آئے تو لوگ تھک جائیں۔ رب تعالیٰ نے ہمارے سکون و آرام ہی کے لیے رات بنائی۔ اسی طرح اگر حضور ﷺ پر مسلسل وحی نازل ہوتی رہتی تو آپ تھک جاتے لہٰذا رب تعالیٰ نے آپ کے سکون و آرام کی خاطر وحی کے نزول میں وقفہ رکھا، کبھی کم کبھی زیادہ وحی کے نزول میں تاخیر سے کافروں نے یہ سمجھا کہ آپ کے رب نے آپ کو چھوڑ دیا ہے اور وہ آپ سے ناراض ہوگیا ہے۔
رب تعالیٰ نے دو قسمیں ارشاد فرما کر حضور ﷺ کی عظمت و شان بیان فرمائی اور ان کے دونوں دعوے رَد کردیے۔
امام رازی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:رب تعالیٰ نے مطلقاً ذکر فرمایا،
وَمَا قَلٰی۔
’’اور نہ وہ تم سے ناراض ہوا‘‘۔
وجہ یہ ہے تاکہ واضح ہو جائے کہ تمہارا رب نہ تم سے ناراض ہوا نہ صحابہ سے، بلکہ اے حبیب! قیامت تک جو تُم سے محبت کرنے والے ہوں گے، وہ ان سے بھی ناراض نہیں، تاکہ تمہارا یہ ارشاد پختہ ہو جائے،
اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ
’’(قیامت میں)ہر شخص اپنے محبوب کے ساتھ ہوگا‘‘۔
وَلَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰی:
آیتِ کریمہ:
{ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ (۳)}
نازل ہونا آقا و مولیٰ ﷺ کی عظمت و شان پر روشن دلیل تھی، اس کے باوجود حضور ﷺ کی شان مزید اُجاگر کرنے کے لیے رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’اور بیشک پچھلی تمہارے لیے پہلی سے بہتر ہے‘‘۔
یعنی دنیا میں بھی آپ کے لیے عظمت و کرامت ہے مگر آخرت میں آپ کو دنیا سے بڑھ کر عزت و شرف اور عظمت و منصب عطا ہوگا۔
اس مفہوم کی بناء پر تفسیر یہ ہوگی کہ اے حبیب! آپ کے لیے آخرت دنیا سے بہتر ہے کیونکہ وہاں آپکے لیے مقامِ محمود، حوضِ کوثر، تمام انبیاء ورُسل علیہم السلام پر آپ کی فضیلت ظاہر ہونا، شفاعتِ کبریٰ کا تاج آپکے سر پر سجایا جانا، آپ کی امت کا تمام امتوں پر گواہ ہونا، آپ کی شفاعت سے گنہگاروں کی مغفرت اور مومنوں کے مرتبے بلند ہونا، اور بھی بے انتہا عزتیں اور کرامتیں ہیں جو آخرت میں آپ کو عطا ہونگی۔
مفسرین نے اس کے یہ معنی بھی بیان فرمائے ہیں کہ:
آنے والے احوال آپ کے لیے گزشتہ سے بہتر و برتر ہیں۔ گویا کہ حق تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ روز بروز آپ کے درجے بلند کرے گا اور عزت پر عزت اور منصب پر منصب زیادہ فرمائے گا اور ساعت بساعت آپ کے مراتب ترقیوں میں رہیں گے۔
بقول امام رازی رحمہ اللّٰہ،
اللّٰہ تعالیٰ یہ وعدہ فرما رہا ہے کہ وہ آپ کے لیے دن بدن عزت و عظمت میں اضافہ فرماتا رہے گا۔
گویا کہ یہ ارشاد ہوا:
کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں اپنے حبیب سے ناراض ہو گیا ہوں بلکہ میں ہر آنے والے لمحے میں اپنے محبو ب رسول کے منصب و مقام اور عزت و عظمت میں اضافہ کرتا رہوں گا۔
حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے کہ:
اللّٰہ تعالیٰ اپنے محبوب رسو ل کی امت پر جو نعمتیں کشادہ فرمانے والا تھا، وہ رب تعالیٰ نے حضور پر پیش فرما دیں تو حضور خوش ہو گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ایک وہ وقت تھا جب نبی کریم ﷺ کی دعوتِ حق کو گنتی کے چند افراد نے قبول کیا تھا اور مسلمان چھپ کر نماز ادا کرتے تھے۔ پھر کفار حضور ﷺ کے خون کے پیاسے ہوگئے تو آپ نے مدینہ طیبہ ہجرت فرمائی۔ کفار نے حضور ﷺ کو گرفتار کرنے پر انعام مقرر کردیا۔ سُراقہ انعام کے لالچ میں آپ کے تعاقب میں پہنچ گیا۔ آپ کے حکم پر زمین نے اس کے گھوڑے کے پاؤں پکڑ لیے۔
حضورا نے فرمایا:
’’سراقہ! تو مجھے پکڑنے آیا ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ تیرے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن ہونگے‘‘۔ اُس نے معافی مانگی، آپ نے قبول فرمائی۔ پھر حضرت عمر کے دور میں جب ایران فتح ہوا تو حضرت عمر نے وہ سونے کے کَڑے حضرت سُراقہ کو پہنائے۔

