سوچئے تو سہی !
اس وقت مسلمان بیحدکمزور تھے جبکہ کسریٰ ایک سپر پاور۔ مگر حضور ﷺ کو اپنے رب کی ذات پر اور اپنے رب کے عطا کردہ علمِ غیب پر کس قدر یقین تھا کہ آپ نے یہ پیشین گوئی فرمائی۔پھر چشمِ فلک نے وہ مناظر بھی دیکھے کہ ماضی کے دشمن شمعِ رسالت کے پروانے بن گئے۔ اور پھر ان کی محبت کا یہ عالم ہوگیا کہ حضورﷺ کے وضو کا پانی اور لعابِ دہن بھی زمین پر گرنے نہ دیتے بلکہ اسے اپنے چہروں پر مل لیتے۔
وہ حضور ﷺ کے موئے مبارک بڑی کوشش سے حاصل کرتے تاکہ برکت ملے۔
حضورﷺ اُنہیں جو بھی حکم دیتے وہ فوراً تعمیل کرتے۔ یہ سب کچھ
{ وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ (۴)}
ہی کی چند جھلکیاں ہیں۔
اسی آیت کریمہ کا تقاضا ہے کہ:
رسول کریم ﷺ کو جو حیات، سماعت، بصارت، علم، قدرت و اختیار اور دیگر کمالات ظاہری حیاتِ طیبہ میں حاصل تھے،وہ وصال کے بعد بھی حاصل رہیں بلکہ ان مراتب اور کمالات میں مزید ترقی ہو۔
وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضیٰ :
’’اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے‘‘۔
حضرت علی اور حضرت ابنِ عباس سے روایت ہے کہ:
اس آیت سے مراد یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ حضورِ اکرم ﷺ کو شفاعت کا منصب عطا فرمائے گا یہاں تک کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔
حضرت عبداللّٰہ بن عمرو بن عاص رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں کہ:
ایک دن آقا ومولیٰ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جیسا کہ حضرت ابراہیم کا ارشاد ہے:
{ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
’’توجس نے میرا ساتھ دیا وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا، تو بیشک تُو بخشنے والا مہربان ہے‘‘۔ (پ13،ابراہیم:36)
پھر یہ آیت تلاوت فرمائی جیسا کہ حضرت عیسیٰ کا ارشاد ہے:
{ اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۱۱۸)}
’’اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تُو ہی ہے غالب حکمت والا‘‘۔(پ7،مائدہ:118)
پھر آپ نے اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے اور عرض کی،
اَللّٰہُمَّ اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ۔
اے اللّٰہ! میری امت، میری امت!
پھر حضور ﷺ زار و قطار رونے لگے۔ رب تعالیٰ نے جبریل کو حکم دیا، میرے حبیب کے پاس جاؤ اور رونے کا سبب دریافت کرو (حالانکہ وہ خوب جانتا ہے)۔حضرت جبریل بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور رونے کی وجہ پوچھی۔
حضور ﷺ نے فرمایا:
میں اپنی امت کی مغفرت چاہتا ہوں۔ جبریل نے بارگاہِ الہٰی میں حاضر ہو کر سارا حال عرض کیا۔ رب تعالیٰ نے جبریل کو حکم دیا، جاؤ اور میرے حبیب سے کہو:
’’بیشک ہم عنقریب تمہیں تمہاری امت کےمعاملےمیںراضی کر یں گے اور ہرگز تمہیں رنجیدہ نہیں ہونے دیں گے‘‘۔
امام نووی رحمہ اللّٰہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
یہ حدیث اللّٰہ تعالیٰ کے فرمان
{ وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ(۵)}
کے موافق ہے۔ راضی کرنے کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا تھا کہ آپ کی امت میں سے بعض کی مغفرت کردیں اور بعض کو عذاب دیں۔ مگر جب اللّٰہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ
’’ہم تمہیں راضی کریں گے اور رنجیدہ نہیں ہونے دیں گے‘‘، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم آپ کی امت کے تمام گناہگاروں کو نجات دے دیں گے۔
ایک حدیث پاک میں یہ بھی آیا ہے کہ:
جب یہ آیت نازل ہوئی تو آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
اگر میرا ایک امتی بھی دوزخ میں ہوا تو میں راضی نہیں ہوں گا۔

