Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 14 of 164

حضرت انس سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ نے فرمایا:

شفاعتی لاھل الکبائر من امتی۔

میں اپنی امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کی شفاعت کروں گا۔

 

حضرت عثمان ذوالنورَین سے روایت ہے کہ نورِ مجسم کا ارشاد ہے،

قیامت کے دن تین گروہ شفاعت کریں گے،انبیاء،علماء پھر شہداء۔

ایک اور حدیث پاک میں ارشاد فرمایا:

مجھے اختیار دیا گیا کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو یا میں شفاعت کروں۔ تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا کیونکہ وہ (امت کے لیے)عام اور کافی ہے۔

کیا تم سمجھتے ہو کہ شفاعت پرہیزگاروں کے لیے ہے؟

نہیں بلکہ وہ تو گناہگاروں کے لیے ہے۔

مولا علی کا ارشاد ہے کہ آقا کریم نے فرمایا:

میں اپنی امت کے لیے شفاعت کرتا رہوں گا یہاں تک کہ میرا رب مجھ سے فرمائے گا، اے محمدا! کیا تم راضی ہو گئے؟ تو میں عرض کروں گا، ہاں میرے رب! میں راضی ہو گیا۔

امام باقر  نے یہ حدیث روایت کر کے فرمایا،

اے اہلِ عراق! تم کہتے ہو کہ قرآن کی سب سے اُمید افزا آیت یہ ہے، ’’تم فرماؤ! اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللّٰہ کی رحمت سے نا اُمید نہ ہو‘‘۔ (پ23:زمر:53)

لیکن ہم اہلِ بیت یہ کہتے ہیں کہ یہ آیتِ مبارکہ سب سے زیادہ امید افزا ہے:

{ وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ(۵) }

 

علامہ آلوسی رحمہ اللّٰہ مزید فرماتے ہیں:

’’اللّٰہ تعالیٰ کا یہ وعدۂ کریمہ اُن نعمتوں کو بھی شامل ہے جو آپ کو دنیا میں عطا فرمائیں یعنی کمالِ نفس، اولین و آخرین کے علوم، اسلام کا غلبہ، دین کی سربلندی، اور وہ فتوحات جو عہدِ رسالت میں ہوئیں اور جو عہدِ صحابہ میں ہوئیں اور جو قیامت تک مسلمانوں کو ہوتی رہیں گی، اور اسلام کا مشارق و مغارب میں پھیل جانا۔

یہ وعدۂ کریمہ ان نعمتوں کو بھی شامل ہے جو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کے لیے آخرت میں محفوظ رکھی ہیں اور جن کی حقیقت کو رب تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا‘‘۔

ایک موقع پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا نے آقا ومولیٰ کی بارگاہ اقدس میں عرض کیا،

ما اری ربک الا یسارع فی ہواک۔

میں یہی دیکھتی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی رضا چاہنے میں بہت جلدی کرتا ہے۔

مجددِ دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللّٰہ نے خوب فرمایا،

خدا کی رضا چاہتے ہیں دوعالم

خدا چاہتا ہے رضائے محمد

 

قرآن اور مقامِ محبوبیت:

اللّٰہ تعالیٰ کو حضورِ اکرم کی رضا اس قدر محبوب ہے کہ آپ  کی رضا کی خاطر رب تعالیٰ نے کعبہ کو قبلہ بنا دیا۔

ارشاد ہوا:

{ قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِۚ-فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا}

(پ2،بقرہ:144)

’’ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا، تو ضرور ہم تمہیں پھیر دیں گے اُس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے‘‘۔

 

رحمتِ عالم  کی شانِ محبوبیت کا یہ عالم ہے کہ رب تعالیٰ نے اپنے محبوب کی رضا کو اپنی رضا قرار دے دیا۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے،

{ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ(۶۲)}

( پ10،توبہ:62)

’’اور اللّٰہ و رسول کا حق زائد تھا کہ اُسے راضی کرتے اگر ایمان رکھتے تھے‘‘۔

 

اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے محبوب رسول یعنی دو ہستیوں کا ذکر ہے اور {یُّرْضُوْہُ} میں ضمیر واحد بیان ہوئی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسولِ معظم کو راضی کرنا دراصل اللّٰہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے کیونکہ رسول کی رضا میں ہی اللّٰہ تعالیٰ کی رضا ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up