Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 15 of 164

ایک اور آیت ملاحظہ فرمائیں:

{وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ}( پ10،توبہ:74)

’’اور اُنہیں کیا برا لگا، یہی نہ کہ اللّٰہ و رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا‘‘۔

 

یہاں بھی اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول دونوں کا ذکر ہے اور {مِنْ فَضْلِہٖ} میں ضمیر واحد مذکور ہے۔ اس سے بھی ثابت ہوا کہ رسولِ کریم کا غنی فرمانا اللّٰہ تعالیٰ ہی کا غنی فرمانا ہے اور اللّٰہ و رسول دونوں کا فضل ایک ہی ہے۔

قرآن کریم کی متعدد آیات سے ثابت ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کا معاملہ جدا جدا نہیں بلکہ ایک ہی ہے۔

چند آیات کا خلاصہ ملاحظہ کیجیے۔

٭حضور کی اطاعت اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔(پ5،نساء:80)

٭حضور کی نافرمانی اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔(پ22،احزاب:36)

٭حضور کی رضامندی اللّٰہ تعالیٰ کی رضا مندی ہے۔ (پ10،توبہ:36)

٭حضور کا خاک پھینکنا اللّٰہ تعالیٰ کا خاک پھینکنا ہے۔ (پ9،انفال:17)

٭حضور اکرم  کا کلام فرمانا اللّٰہ تعالیٰ کا کلام فرمانا ہے۔ (پ27،نجم:3)

٭حضورِ انور پر سبقت اللّٰہ تعالیٰ پر سبقت ہے۔ (پ26،حجرات:1)

٭حضورِ اکرم  کا بلانا اللّٰہ تعالیٰ ہی کا بلانا ہے۔ (پ26،فتح:10،الانفال:24)

٭حضورِ  اکرم کی بیعت اللّٰہ تعالیٰ ہی کی بیعت ہے۔( پ26،فتح:10)

٭حضور کا مذاق اُڑانا اللّٰہ تعالیٰ کا مذاق اُڑانا ہے۔ (پ10،توبہ:65)

٭حضور کو اذیت دینا اللّٰہ تعالیٰ کو اذیت دینا ہے۔ (پ22،احزاب:57)

٭حضور کا حرام فرمایا ہوا اللّٰہ تعالیٰ کا حرام فرمایا ہوا ہے۔ (پ10التوبۃ:۲۹)

اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًا فَاٰوٰی:

ارشاد ہوا:

’’کیا اُس نے تمہیں یتیم نہ پایا پھر جگہ دی‘‘۔

سابقہ آیت میں اُس لطف و کرم کا ذکر ہوا جس سے رب تعالیٰ نے حضورِ اکرم  کو سرفراز فرمانا تھا اور اب اُن عنایات و احسانات کا تذکرہ ہو رہا ہے جن سے سید عالم حبیبِ پرور دگار احمدِمختار کو پہلے ہی نوازا جا چکا ہے، تاکہ یہ تذکرہ آپ کے قلبِ مبارک کے لیے سکون و راحت کا سبب بنے۔

سیرت نگاروں کے مطابق حضور اپنی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ رضی اللّٰہ عنہا کے شکمِ اقدس میں تھے کہ آپ کے والدِ ماجد حضرت عبداللّٰہ کا وصال ہوگیا۔ جب عمر مبارک چھ سال ہوئی تو والدہ ماجدہ انتقال فرما گئیں۔ پھر آپ کی پرورش آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے کی۔ آپ کی عمر آٹھ سال ہوئی تو آپ کے دادا بھی رحلت فرما گئے۔ گویا رب تعالیٰ نے آپ کے والدین اور داد کو دنیا سے اس لیے اٹھا لیا تاکہ حضور کے ذمے ظاہری طور پر کسی کی تعظیم کرنے کا کوئی حق نہ ہو۔

حضرت عبدالمطلب کے وصال کے بعدحضورِ اکرم کے چچا ابو طالب نے آپ کی پرورش و کفالت کی ذمہ داری کو احسن طریقے سے ادا کیا۔ اس آیت میں اسی نعمت کا بیان ہے کہ شانِ یتیمی کے باوجود رب تعالیٰ نے آپ کی پرورش اور کفالت کا بہترین انتظام فرمایا۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ:

یہاں یتیم کے معنی ’’یکتا و بے نظیر‘‘ کے ہیں جیسا کہ دُرِّ یتیم اُس موتی کو کہا جاتا ہے جو اپنی سیپی میں اور آب و تاب میں بھی یکتا و بے مثل ہو۔ اسی طرح حضور بھی اپنے خصائص و کمالات میں یکتا و بے مثل ہیں۔

اب آیت کے معنی یہ ہونگے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو اوصاف و کمالات اور عز و شرف میں یکتا و بے نظیر پایا تو آپ کو مقامِ قرب میں جگہ دی اور دشمنوں کے درمیان آپ کی حفاظت فرمائی اور آپ کو نبوت و رسالت کے ساتھ مشرف فرمایا۔

’’بہتر یہ ہے کہ یہ کہا جائے، اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو تمام مخلوق میں یکتا اور بے مثل و بے نظیر پایا، صدفِ امکان کو آپ جیسا قیمتی موتی کبھی نصیب نہیں ہوا اس لیے رب تعالیٰ نے آپ کو اپنی آغوشِ رحمت میں پناہ دی‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up