Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 16 of 164

وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَھَدٰی:

ارشاد ہوا:

’’اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی‘‘۔

لفظ ’’ضال‘‘کئی معنی میں قرآن پاک میں وارد ہوا ہے۔

مثلاً:  گمراہ، ناواقف، غافل، تباہ ہونے والا، بھولنے والا، محبت میں خود رفتہ وغیرہ۔

چندآیات ملاحظہ ہوں۔

وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۔

’’اور نہ بہکے ہوؤں کا‘‘۔ (پ1،فاتحہ:7)

اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى۔

’’کہ کہیں ان میں ایک عورت بھولے تو اُس ایک کو دوسری یاد دلا دے‘‘۔ (پ3،بقرہ:282)

لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى۔

’’میرا رب نہ بہکے نہ بھولے ‘‘۔ (پ16،طہ:52)

اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ۔

’’کیا ان کا داؤ تباہی میں نہ ڈالا‘‘۔ (پ30،فیل:2)

فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَ۔

میں نے وہ کام کیا جب کہ مجھے راہ کی خبر نہ تھی۔(پ19،شعراء:20)

مذکورہ اکثر معانی نبی کریم کی شان کے ہرگز لائق نہیں۔ کئی مترجمین نے اس آیت کے ترجمے میں حضور کو بھٹکا ہوا، بھٹکتا، گمراہ اور سیدھی راہ سے نا واقف کہہ کر گستاخانہ انداز اختیار کیا ہے۔

امت کا عقیدہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام اعلانِ نبوت سے قبل بھی اور بعد بھی صغیرہ و کبیرہ تما م گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں کیونکہ وہ اللّٰہ تعالیٰ اور راہِ حق سے باخبر ہوتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے رسولِ معظم کی اعلانِ نبوت سے قبل کی زندگی کو آپ کی نبوت کی سچائی کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔

ارشاد ہوا:

{ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ}

’’(اے حبیب!تم فرماؤ) تو میں اس سے پہلے تم میں اپنی ایک عمر گزار چکا ہوں، تو کیا تمہیں عقل نہیں‘‘۔ (پ11،یونس:16)

یعنی نبی کریم کی ساری زندگی ہر قسم کی فکری و عملی گمراہی سے پاک و محفوظ رہی ہے۔

قرآن کریم میں ایک اور جگہ واضح طور پر اس حقیقت کو بیان کیا گیاہے۔

{مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰى}

’’تمہارے صاحب نہ بہکے ،نہ بے راہ چلے‘‘۔ (پ27،نجم:2)

ان آیات سے بھی ثابت ہوا کہ حضور کے لیے گمراہ، بھٹکتا، راہ بھولا ہوا، ایسے الفاظ کہنا سرا سر گستاخی اور مذکورہ آیات کے منافی ہے۔

اب چند آیات ملاحظہ فرمائیں جن میں ’’ضلال‘‘کا معنی محبت میں ڈوب جانا، خود رفتہ ہونا لیا جاتا ہے۔

حضرت یعقوب کی یوسف سے زیادہ محبت دیکھ کر ان کے دوسرے بیٹوں نے کہا،

{ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِ} ( پ12،یوسف:8)

’’بیشک ہمارے باپ صراحۃً ان کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں‘‘۔

 

اسی سورت کی آیت ۳۰ میں زلیخا کے متعلق مصر کی عورتوں کایہ قول بیان ہوا ہے،

{قَدْ شَغَفَھَاحُبًّا اِنَّا لَنَرٰھَا فِی ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ} (پ12،یوسف:30)

’’بیشک اسکے دل میں یوسف کی محبت سما گئی ہے، ہم تو اسے صریح خودطرفتہ پاتے ہیں‘‘۔

جب حضرت یعقوب  نے فرمایا:

مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے تو اہلِ خانہ نے کہا،

{قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ}(پ13،یوسف: 95)

”بیٹے بولے، خدا کی قسم! آپ اپنی اُسی پرانی خود رفتگی میں ہیں‘‘۔

’’گھر والوں نے کہا، بخدا! آپ اپنی اس پرانی محبت میں مبتلا ہیں‘‘۔ (ضیاء القرآن)

اب مذکورہ آیت کے تحت مفسرین کرام کے اقوال ملاحظہ کیجیے۔

امام رازی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں:

’’اس جگہ ضلال بمعنی محبت ہے۔ جس طرح آیت

{ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ }

میں ضلال کا معنی محبت ہے۔

یہاں معنی یہ ہوگا کہ بیشک آپ کو اپنی محبت میں وارفتہ پایا تو اپنی طرف ہدایت دی یعنی ان راستوں کی راہنمائی کی جن کی وجہ سے محبوب کی خدمت کا قرب حاصل ہوگا‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up