علامہ قرطبی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
’’آپ کو اپنی محبت کی راہ تلاش کرنے میں وارفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔ یہاں ضلال بمعنی محبت ہے جیسا کہ سورہ یوسف (مذکورہ بالا آیت) میں ضلال بمعنی محبت ہے‘‘۔
علامہ آلوسی رحمہ اللّٰہ رقم طراز ہیں،
’’حضورا حقیقتاً محبت میں خودرفتہ تھے تو آپ کو شرابِ قرب و محبت کا جام پلایا اور اپنی معرفت کی راہ دی۔
امام جعفر صادق فرماتے ہیں:
مقصود یہ ہے کہ آپ کو ازل میں جو میری محبت حاصل تھی، آپ اس میں وارفتہ تھے پھر میں نے آپ پر احسان کیا کہ اپنی معرفت کی راہ دی ‘‘۔
علامہ ثناء اللّٰہ مظہری رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں،
’’بعض صوفیا فرماتے ہیں: اس کا معنی یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے عشق و محبت میں وارفتہ عاشق ومحب پایا تو محبوب کے وصال کی طرف آپ کی راہنمائی کی یہاں تک کہ آپ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنیٰ کے مقام پر فائز ہوئے‘‘۔
اللّٰہ تعالیٰ نے نبی کریم کو حکم دیا کہ یہ فرمائیں،
’’میں سب سے پہلا مسلمان ہوں‘‘۔ چونکہ آپ سب سے اول مخلوق ہیں لہٰذا آپ اولُ المسلمین ہوئے۔ ’’اس بات پر اجماع ہے کہ تمام انبیاء بعثت سے پہلے مومن ہوتے ہیں۔ حضور یقینا بچپن ہی سے رب تعالیٰ کی زیادہ معرفت رکھتے تھے اسی لیے آپ وحی کے نزول سے قبل ہی غارِ حرا میں اپنے رب کی عبادت کیا کرتے تھے۔
مذکورہ آیت کی ایک اور تفسیر یہ ہے کہ تمہیں علاماتِ نبوت، احکامِ شریعت اور اس کی تفصیلات سے نوازا جن کو جاننے کے لیے عقل ذریعہ نہیں ہو سکتی۔
ارشاد ہوا:
{ وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَاؕ-مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ }
’’اور یونہی ہم نے تمہیں وحی بھیجی ایک جانفزا چیز(قرآن کریم) اپنے حکم سے، اس سے پہلے نہ تم کتاب جانتے تھے نہ احکامِ (شرع) کی تفصیل‘‘۔ (پ25،شوری:52)
اگر اس آیت کے ظاہری معنی مراد لیے جائیں تو لازم آئے گاکہ رسول معظم ﷺ نزولِ قرآن سے پہلے (معاذ اللّٰہ)مومن نہ تھے حالانکہ ایسا کہنا تو درکنار سوچنا بھی گمراہی ہے، اور کسی مومن کے ذہن میں اس کا تصور بھی نہیں آسکتا۔ چنانچہ اس کی ایک تفسیر یہ ہے کہ ایمان سے مراد احکامِ شرع کی تفصیل ہے۔
اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ:
اس آیت میں درایت کی نفی کی گئی ہے۔ درایت کا مطلب ہے ’’قیاس اور اندازہ سے کسی چیز کا جاننا‘‘۔گویا آیت کا مفہوم یہ ہے کہ نزولِ قرآن سے قبل آپ کتاب اور ایمان کو قیاس اور اندازے سے نہیں جانتے تھے بلکہ آپ اللّٰہ تعالیٰ کے بتائے سے جانتے تھے۔
شیخ ابن عربی کا قول ہے،
’’حبیبِ کبریاء ﷺکو جبریل کے وحی لانے سے پہلے ہی قرآن کا اجمالی علم حاصل تھا‘‘۔
{نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤاَوْحَیْنَاۤاِلَیْكَ هٰذَاالْقُرْاٰنَ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ}
( پ12،یوسف:3)
’’ہم تمہیں سب سے اچھا بیان سناتے ہیں اس لیے کہ ہم نے تمہاری طرف اس قرآن کی وحی بھیجی، اگرچہ بیشک اس سے پہلے تمہیں خبر نہ تھی‘‘۔(تفسیر الحسنات)
بقول صدرُ الافاضل،
’’غیب کے اسرار آپ پر کھول دیے اور علومِ ماکانَ وَمَا یکون عطا کیے، اپنی ذات و صفات کی معرفت میں سب سے بلند مرتبہ عنایت کیا۔
مفسرین نے ایک معنی اس آیت کے یہ بھی بیان کیے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا وارفتہ پایا کہ اپنے نفس اور اپنے مراتب کی خبر بھی نہیں رکھتے تھے تو آپ کو آپ کی ذات و صفات اور مراتب و درجات کی معرفت عطا فرمائی‘‘۔

