Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 18 of 164

بعض مفسرین نے ’ضال‘ کے لغوی معنی کے لحاظ سے ایک نکتہ یہ بیان کیا ہے کہ:

بعض اوقات قوم کے سردار کو خطاب کیا جاتا ہے مگر اصل میں مخاطب اس کی قوم ہوتی ہے۔

اس بناء پر مفہوم یہ ہے،

’’ ہم نے آپ کی قوم کو گمراہ پایا تو آپ  کے ذریعے سے ان کو ہدایت عطا کی‘‘۔

(وَوَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنیٰ:

’’عائل ‘‘ کا معنی تنگدست بھی ہے اور عیال دار بھی۔حضور کی تمام امت آپ کی عیال ہے۔ اب مفہوم یہ ہوگا، ’’اے حبیب! ہم  نے تمہیں تنگدست و عیالدار پایا تو غنی کر دیا‘‘۔

آقا و مولیٰ کو غناءِ قلبی کا وہ اعلیٰ مقام عطاہوا کہ آپ کا ارشاد ہے،

اگر میں چاہوں تو یہ پہاڑ سونے کے بن کر میرے ساتھ چلنا شروع کر دیں۔ اکثر مفسرین کا قول یہی ہے کہ حضورِ اکرم کے دل کو غنی کردیا گیا۔

حدیث پاک میں ارشاد ہے،

زیادہ مال واسباب والا دولت مند نہیں ہوتا بلکہ دولت مند وہ ہوتا ہے جس کا نفس غنی ہو۔

غنائے ظاہری اس طرح عطا ہوا کہ حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا  نے تجارت و معاملات میں آپ کی دیانتداری اور سچائی سے متاثر ہو کر آپ سے نکاح کرلیا اور دل و جان کے ساتھ آپ کو اپنے مال کا مالک و مختار بنا دیا۔

ان کے وصال کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور دوسرے صحابہ کرام نے بھی اپنا اپنا مال آپ کی رضا مندی پر خرچ کیا۔ 

رب تعالیٰ کا ارشاد ہے،

{یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ}

’’اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی)! اللّٰہ تمہیں کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے‘‘۔ (پ10،انفال:64، )

سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ نبی کریم کو دادا، چچا، زوجہ مطہرہ، سیدنا ابوبکر اور دیگر صحابہ کرام کے اموال کے ذریعے غنی فرمایا گیا، بذاتِ خود مالدار کیوں نہیں بنایا گیا؟ جواب یہ ہے کہ:

(1)۔ اگر نبی کریم ظاہری طور پر مالدار ہوتے تو کفار اعتراض کرتے کہ لوگ مال کے لالچ میں آپ کا ساتھ دیتے ہیں لیکن یہاں معاملہ یہ ہے کہ صحابہ آپ پر اپنے جان و مال نثار کرتے ہیں اس لیے اس بات کا شبہ بھی ممکن نہیں۔

(2)۔ حضور کے پیرو کار جان لیں کہ دین کی اشاعت و تبلیغ مال واسباب کی محتاج نہیں ہوتی۔ اخلاص کے ساتھ بغیر اسباب کے بھی جو کلمۂ حق بلند کرنے کی کوشش کرے گا، فلاحِ دارین پائے گا۔

(3)۔ آپ کی امت اس حقیقت کو سمجھ لے کہ مال کا ہونا یا نہ ہونا، عزت و ذلت کا باعث نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو مال حرص و ہوس کے ذریعے حاصل کیا جائے وہ ذلت کا سبب بن جاتا ہے اور جو مال غنائے قلب کے ساتھ نصیب ہو ، وہ عزت و عظمت میں اضافے کا ذریعہ بنتا ہے۔

(4)۔ آقا ومولیٰ کو مسکینی کی زندگی پسند تھی۔ آپ یہ دعا کرتے،

اَللّٰہُمَّ اَحْیِنِیْ مِسْکِیْناً وَاَمِتْنِیْ مِسْکِیْناً وَاحْشُرْنِیْ فِیْ زُمْرَۃِ الْمَسَاکِیْنِ۔ ؎

’’اے اللّٰہ! مجھے مسکین زندہ رکھ، اور مجھے مسکین ہی وفات دے، اور قیامت میں مساکین کے ساتھ میرا حشر فرما‘‘۔

کیونکہ دولت مند عموماً مغرور و متکبر اور خود پسند ہوتے ہیں جبکہ مسکین ہونے میں عاجزی و تواضع، توکل و قناعت اور شانِ عبدیت پائی جاتی ہے نیز رب تعالیٰ سے مناجات میں ایک خاص لذت نصیب ہوتی ہے۔

فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْھَرْ :

رب تعالیٰ نے سابقہ آیات میں تین انعامات کا ذکر فرمایا، اب تین احکام بیان کیے جا رہے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے تمہیں یتیم پایا تو ٹھکانا دیا اس لیے اے حبیب! تم بھی یتیم پر دباؤ نہ ڈالنا بلکہ اس پر مہربانی کرنا۔

Share:
keyboard_arrow_up