Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 19 of 164

دوسری بات یہ کہ تمہیں تنگدست پایا تو غنی کر دیا اس لیے اے حبیب! جب تم سے کوئی کچھ مانگے تو اسے جھڑکنا نہیں۔

تیسری بات یہ کہ:

تمہیں اپنی محبت میں خودرفتہ پایا تو تمہیں اپنی طرف راہ دی، اپنی معرفت عطا کی، اور تمہیں وحی کی نعمت سے نوازا۔ اس لیے اے حبیب! نبوت و شریعت کی صورت میں تمہیں جو نعمت ملی ہے اس کا بھی چرچا کرو اور جو پیغامِ حق، قرآن کریم کی صورت میں عطا ہوا، لوگوں کو اس کی بھی تعلیم دو۔

مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ:

یہ خطاب اگرچہ حضورِ اکرم نورِ مجسم کو ہے مگر مخاطب آپ کی امت ہے۔ اہلِ جاہلیت کا طریقہ تھا کہ یتیموں کو دباتے اور ان پر زیادتی کرتے تھے۔ رحمتِ عالم نے ہمیشہ یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور اپنے اُمتیوں کو بھی یتیموں سے اچھا سلوک کرنے کی تعلیم وتلقین فرمائی۔

حضورِ انور نے فرمایا:

مسلمانوں کے گھروں میں وہ بہت اچھا گھر ہے جس میں یتیم کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہے۔ اور وہ بہت بُرا گھر ہے جس میں یتیم کے ساتھ بُرا برتاؤ کیا جاتا ہے۔

آپ کا ارشاد ہے،

میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں یوں ساتھ ہوں گے۔ پھر آپ نے اپنی درمیانی اور شہادت کی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔

امام رازی رحمہ اللّٰہ نے حضور کے یتیم ہونے کی کئی حکمتیں تحریر کی ہیں:

آقا کریم اپنی یتیمی کا خیال کرتے ہوئے یتیموں کے حقوق کا لحاظ رکھیں اور ان کی بھلائی کے لیے کوشش کریں۔ اور پھر سنتِ رسول کی پیروی میں مسلمان بھی یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔

رسولِ معظم رحمتِ عالم کے امتی یتیموں کا اس لیے احترام کریں کہ ان کے آقا و مولیٰ ابھی یتیم تھے۔ جس کے والدین زندہ ہوں، اُس کا اعتماد ان پر ہوتا ہے۔ حضور کے والدین کو اس لیے اٹھا لیا تاکہ آپ کا اعتماد صرف اللّٰہ تعالیٰ کی ذات پر رہے۔

والدین اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرتے ہیں۔ حضور کو اس لیے یتیم بنایا تاکہ ہر کوئی جان لے کہ آپ کی ہر فضیلت و خوبی اور کمال اللّٰہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔

عموماً یتیم کی اچھی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اس میں زیادہ عیب پاتے ہیں۔ رب تعالیٰ نے آپ کو یتیم بنا کر بے عیب بنادیا تاکہ لوگ جب کوئی عیب نہ پائیں تو آپ کے اعلانِ نبوت کرنے پر بھی کوئی طعن نہ کر سکیں۔گویا آپ کایتیم ہونا بھی آپ کی عظمت کی دلیل بن گیا۔

وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْھَرْ:

سائل کے دو معنی ہیں۔ مانگنے والا اور پوچھنے والا۔یہاں دونوں مفہوم مراد ہیں۔

گویا ارشاد ہوا:

اگر کوئی تم سے دنیاوی مال و اسباب مانگے تو اس کو بھی نہ جھڑکو۔ یعنی کچھ دے دو یا حسنِ اخلاق اور نرمی کے ساتھ عذر کر کے واپس کر دو۔ اور اگر کوئی دین سے متعلق سوال پوچھنے آئے تو اسے بھی خوش اخلاقی سے جواب دو۔ دراصل یہ تمام تعلیم امت کی راہنمائی کے لیے بیان ہوئی ہے۔ اگرپوچھے گئے مسئلہ کی تحقیق نہ ہو تو اساتذہ و علماء کو چاہیے کہ وہ سائل سے نرمی کے ساتھ معذرت کر لیں یا مسئلہ کا مطالعہ کر کے بعد میں بتانے کا کہہ دیں۔

احادیثِ مقدسہ گواہ ہیں کہ:

بارگاہِ نبوی میں جو بھی سائل آیا، آقا و مولیٰ نے اُس کا دامنِ مراد بھر دیا۔

حضرت ربیعہ نے جنت مانگی،

حضرت ابوہریرہ نے حافظہ مانگا،

کسی نے بارش کا سوال کیا،

کسی نے چاند کے دوٹکڑے کرنے کا مطالبہ کیا،

کسی نے درخت کو بلانے کی خواہش ظاہر کی،

کسی نے ڈیڑھ ہزار صحابہ کے لیے وضو کے پانی کا سوال کیا،

رحمتِ عالم نے ہر کسی کو اُس کی طلب کے مطابق عطا فرمایا۔  آقا ومولیٰ کسی سائل کو کیوں جھڑکتے جبکہ آپ کے رب نے آپ کو غنی فرما دیا، اس لیے آپ کا خزانہ کبھی خالی نہیں ہو سکتا۔

سرکارِ دوعالم کا ارشاد ہے:

{اِنَّمَا اَنَا قَاسِم’‘وَاللّٰہُ یُعْطِیْ}

’’ بیشک اللّٰہ عطا فرماتا ہے اور میں اُس کی نعمتیں تقسیم کرتا ہوں‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up