نبی کریم ﷺ کے جود و کرم کے متعلق حضرت جابر کا ارشاد ہے،
حضورﷺ نے کبھی کسی سائل کے جواب میں ’’لاَ‘‘(نہیں) نہ فرمایا۔
مَا قَالَ لاَ قَطُّ اِلاَّ فِیْ تَشَہُّدِہٖلَوْلاَ التَّشَہُّدُ کَانَتْ لَاؤُہٗ نَعَمْ
یعنی ’’حضورﷺ نے ’’ لَا‘‘کبھی نہیں فرمایا سوائے تشہد کے، اگر کلمۂ شہادت نہ ہوتا تو حضور کا ’’نہیں‘‘بھی ہاں ہوتا‘‘۔
ایک مرتبہ بحرین سے نوے ہزار درہم آئے۔ آپ نے وہ سب تقسیم فرما دیے۔ جب ایک درہم بھی باقی نہ رہا تو ایک سائل آ گیا۔
آپﷺ نے فرمایا:
سارا مال تقسیم ہو چکا، اب تم بازار سے اپنی ضرورت کی چیزیں خرید کر میرے نام لکھوا دو، ان کی قیمت میں ادا کردوں گا۔
حضرت عمر نے عرض کی، یارسول اللّٰہﷺ ! آپ قرض کا بوجھ کیوں اپنے ذمے لیتے ہیں؟ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو استطاعت سے زیادہ کا مکلف تو نہیں بنایا۔ حضورﷺ کو یہ بات پسند نہ آئی۔
ایک انصاری نے عرض کی، یا رسول اللّٰہ! آپ خرچ کرتے جائیے اور مالکِ عرش سے کمی کا اندیشہ نہ فرمائیے۔ یہ سن کر آپ مسکرا دیے اور فرمایا، مجھے میرے رب نے یہی حکم دیا ہے۔(ترمذی)
اس آیت میں سائل سے مراد پیشہ ور بھکاری نہیں کیونکہ بھیک مانگنے کو پیشہ بنا لینا حرام ہے اور انہیں بھیک دینا گویا حرام کام پر ان کی اعانت ہے جو کہ ناجائز ہے۔
حضور ﷺ کا ارشاد ہے،
جو شخص لوگوں سے ہمیشہ مانگتا رہتا ہے وہ قیامت کے دن ایسے چہرے کے ساتھ آئے گا کہ اس پر گوشت کی ایک بوٹی بھی نہ ہوگی۔
ایک اور موقع پر فرمایا،
جس نے سوال کیا اور اس کے پاس اس قدر چیزیں تھیں جو اُسے مانگنے سے بے نیاز کر سکتی تھیں، وہ صرف آگ کو زیادہ کرتا ہے۔ پوچھا گیا، اس کے پاس کتنی مقدار ہو جس کے ہوتے ہوئے اُسے سوال جائز نہیں؟ فرمایا، اُس کے پاس صبح و شام کا کھانا ہو یا ایک دن اور ایک رات کا کھانا ہو۔
وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ:
’’اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو‘‘ ۔
یعنی اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندے پر جو فضل و کرم فرمائے، اس کا دوسروں سے ذکر کرنا رب تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے۔
امام حسن بن علی رضی اللّٰہ عنہما نے اس کی تفسیر میں فرمایا،
جب تمہیں کوئی بھلائی حاصل ہو تو اپنے مسلمان بھائیوں سے اس کا ذکر کیا کرو۔
اسی بناء پر رب تعالیٰ کی سب سے عظیم نعمت یعنی رسول کریم ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری کا شکر ادا کرتے ہوئے تمام دنیا کے مسلمان عید میلاد النبی مناتے ہیں اور محبوبِ خدا کے ذکر کی محافل سجاتے ہیں۔
رحمتِ عالم ﷺ وہ عظیم نعمت ہیں جن کے ملنے پر رب تعالیٰ نے خوشیاں منانے کا حکم بھی دیا ہے۔
ارشاد ہوا:
{ قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ-هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ }
’’(اے حبیب!) تم فرماؤ (یہ) اللّٰہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت (سے ہے) اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں، وہ (خوشی منانا) انکے سب دھن دولت سے بہتر ہے ‘‘۔ (پ11،یونس:58)
اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و رحمت سے مراد حضور ﷺ ہیں، سورۃ الاحزاب آیت ۴۷ میں آپ کو’’ فضل‘‘ اور سورۃ الانبیاء آیت ۱۰۷ میں’’ رحمت‘‘ فرمایا گیا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہوا،
{ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ }
’’ اور انہیں اللّٰہ کے دن یاد دلا‘‘۔ (پ13،ابراہیم:5)
امام المفسرین سیدنا عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما کے نزدیک ایامُ اللّٰہ سے مراد وہ دن ہیں جن میں رب تعالیٰ کی کسی نعمت کا نزول ہوا ہو۔
’’ان ایام میں سب سے بڑی نعمت کے دن سیدِ عالم ﷺ کی ولادت و معراج کے دن ہیں، ان کی یاد قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے‘‘۔

