Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 21 of 164

پس ثابت ہوا کہ رسول کریم کے میلاد کی خوشی منانا لوگوں کو اللّٰہ تعالیٰ کے دن یاد دلانا بھی ہے، اس نعمتِ کبریٰ کے ملنے کی خوشی منانا بھی اور اس کی نعمتِ عظمیٰ کا چرچا کرنا بھی۔

حضرت قتادہ سے مروی ہے کہ آقا ومولیٰ ہر پیر کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔

آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا:

ذَاکَ یَوْمٌ فِیْہِ وُلِدْتُّ وَفِیْہِ اُنْزِلَ۔

’’اس دن میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی‘‘۔

 

محدثین فرماتے ہیں کہ:

آپ نے ہر پیر کے دن روزہ رکھ کر اپنا میلاد منایا اور اپنے میلاد کے دن کی عظمت کو ظاہر کیا اور عبادت کے ذریعہ رب کریم کا شکر ادا کیا۔ رسولِ کریم نے متعدد بار خود تحدیثِ نعمت کے طور پر اپنے میلادکا بھی ذکر فرمایا ہے اور رب تعالیٰ کی دیگر کئی نعمتوں کو بھی بیان کیا ہے۔

چند احادیث ملاحظہ ہوں۔

نبی کریم کا ارشاد ہے کہ:

’’میں اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک خاتم النبیین (آخری نبی) لکھا ہوا تھا جبکہ آدم  اپنے خمیر میں گندھے ہوئے تھے۔ میں تمہیں اپنے معاملے کی ابتدا بتاتا ہوں کہ میں ابراھیم کی دعا، عیسیٰ کی بشارت اور اپنی والدہ کا وہ نظارہ ہوں جو انہوں نے میری ولادت کے وقت دیکھا کہ ان سے ایسا نور ظاہر ہوا جس سے ملک شام کے محلات روشن ہو گئے‘‘۔

سیدِ عالم نورِ مجسم کے مبارک زمانہ کی ایک اور محفلِ میلاد جو مسجدِ نبوی میں منعقد ہوئی اس میں آقا و مولیٰ   نے منبر شریف پر جلوہ افروز ہو کر اپنا ذکرِ ولادت اور اپنے فضائل بیان فرمائے۔

مشکوٰۃ کے اسی باب میں ترمذی اور دارمی کے حوالے سے حدیث پاک موجود ہے کہ:

صحابہ کرام بعض انبیاء کرام کے فضائل کا ذکر کر رہے تھے کہ اس محفل میں آقا ومولیٰ ﷺ   تشریف لے آئے اور آپ نے اپنے فضائل خود بیان فرمائے۔

ارشاد ہوا :

اَلَا وَاَنَا حَبِیْبُ اللّٰہ۔

’’خبردار رہو! بیشک میں اللّٰہ کا حبیب ہوں،

میں فخریہ نہیں کہتا قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا جس کے نیچے آدم اور سب لوگ ہونگے،

میں فخریہ نہیں کہتا سب سے پہلے میں ہی شفاعت کروں گا،

فخریہ نہیں کہتا قیامت کے دن سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہو گی،

فخریہ نہیں کہتا میں ہی سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا تو اللّٰہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل فرمائے گا، میرے ساتھ غریب مسلمان ہونگے،

فخریہ نہیں کہتامیں تمام اگلوں اور پچھلوں میں اللّٰہ کے نزدیک زیادہ عزت والا ہوں، فخریہ نہیں کہتا۔

نورِ مجسم کا ارشاد ہے،

میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا،

اور میں وہ ہوں جو سب سے پہلے قبر سے باہر آئے گا،

اور میں وہ ہوں جو سب سے پہلے شفاعت کرے گا،

اور میں وہ ہوں جس کی شفاعت سب سے پہلے قبول کی جائے گی۔

محفلِ میلاد میں رسول کریم کی ولادتِ باسعادت اور آقا و مولیٰ کے فضائل و خصائص کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ ایسی بیشمار احادیث ہیں جن میں صحابہ کرام نے حضور کے میلادکے وقت کے معجزات اور آپ کے فضائل و خصائل بیان کیے ہیں۔ اگر یہ باتیں ناجائز ہوتیں تو صحابہ انہیں کبھی روایت نہ فرماتے اور نہ ہی محدثین انہیں اپنی کتب میں نقل کرتے۔بعض محدثین نے ایسی روایات اپنی کتب میں جمع فرمانے کا خاص اہتمام کیا۔

امام ابن جوزی، امام سخاوی، امام ابن کثیر ،امام سیوطی اور محدث علی قاری رحمہم اللّٰہ نے

میلادُ النبی کے عنوان پر باقاعدہ کتابیں تحریر کیں جبکہ

امام ترمذی رحمہ اللّٰہ نے تو جامع ترمذی میں ایک باب کا عنوان ہی یہ لکھا،

باب مَا جَاءَ فِیْ مِیْلاَدِ النَبِی ﷺ ۔

Share:
keyboard_arrow_up