Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 22 of 164

آقا ومولیٰ کا ارشاد ہے،

جس نے کم نعمت کا شکر ادا نہیں کیا اُس نے زیادہ نعمت کا بھی شکر ادا نہیں کیا۔ جس نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا اُس نے اللّٰہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا۔ اللّٰہ کی نعمت کو یاد کرنا شکر ہے اور یاد نہ کرنا، ناشکری ہے۔ جماعت اللّٰہ کی رحمت ہے اور اس سے علیحدہ ہونا عذاب ہے۔

رسولِ معظم نے فرمایا:

جس شخص نے تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کی، اسے اس کا اچھا بدلہ دو۔ اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو لوگوں کے سامنے اس کی تعریف کرو۔ جس نے اس کی بھلائی کا لوگوں کے سامنے ذکر کیا ، اس نے اس کا شکر ادا کر دیا۔

ان احادیث کو روایت کر کے قاضی ثناء اللّٰہ مظہری رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں:

’’یہ احادیث تقاضا کرتی ہیں کہ اپنے مشائخ اور اساتذہ کابھی شکریہ ادا کیا جائے اور ان کا ذکر اچھے الفاظ میں کیا جائے‘‘۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:

استاد کا درجہ والدین سے زیادہ ہے کیونکہ والدین سے جسمانی زندگی وابستہ ہے اور استاد روحانی حیات کا سبب ہے۔ ہر نعمت کا شکر ادا کرنا واجب ہے۔ شکر ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ نعمت کو اس نعمت عطا کرنے والے کی رضا میں صَرف کیا جائے۔ پس مال کی نعمت کا شکر یہ ہے کہ اسے راہِ خدا میں اخلاص کے ساتھ خرچ کیا جائے، اور جسمانی صحت کی نعمت کا شکر یہ ہے کہ فرائض و واجبات ادا کیے جائیں اور گناہوں سے بچا جائے، اور علم و معرفت کی نعمت کا شکر یہ ہے کہ دوسروں کو علم سکھایا جائے اور ان کی راہِ حق کی طرف راہنمائی کی جائے۔

حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں:

رسول کریم جب سورۃ والضحیٰ ختم فرماتےتو اللّٰہ اکبر کہتے، پھر سورۃ الناس تک ہر سورۃ کے بعد اللّٰہ اکبر فرماتے۔

پس سورۃ الضحیٰ سے آخر قرآن تک ہر سورت کے آخر میں اللّٰہ اکبر کہنا مستحب ہے۔

تفسیر سورۃ الانشراح  سورۃ الانشراح یا اَلم نشرح مکہ میں نازل ہوئی اور اس میں آٹھ آیات ہیں۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’ اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ہے)‘‘

 

اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ(۱) وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَۙ(۲) الَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَۙ(۳) وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴) فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاۙ(۵) اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ(۶) فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ(۷) وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ۠(۸)

’’کیا ہم نے تمہارا سینہ کشادہ نہ کیا۔اور تم پر سے تمہارا وہ بوجھ اتار لیا جس نے تمہاری پیٹھ توڑی تھی۔ اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کر دیا۔ تو بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے ، بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔ تو جب تم نماز سے فارغ ہو تو دعا میں محنت کرو اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت کرو‘‘۔

 

لفظی ترجمہ:

اَلَمْ نَشْرَحْ لَ کَ صَدْرَ کَ

کیا نہ ہم نے کشادہ کیا لیے تمہارے سینہ تمہارا

وَ وَضَعْنَا عَنْ کَ وِزْرَ کَ

اور اتار لیاہم نے سے تم بوجھ تمہارا

الَّذِیْٓ اَنْقَضَ ظَھْرَ کَ وَ رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَ کَ

وہ جس نے توڑ دی پیٹھ تمہاری اور بلند کر دیاہم نے تمہارے لیے ذکر تمہارا

فَ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا

پس بیشک ساتھ دشواری (کے) آسانی (ہے)

اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا

بیشک ساتھ دشواری (کے) آسانی (ہے)

فَ اِذَا فَرَغْتَ فَ انْصَبْ

پس جب تم فارغ ہو تو محنت کرو

وَ اِلٰی رَبِّ کَ فَ ارْغَبْ

اور (کی)طرف رب اپنے پس رغبت کرو

 

ربط ومناسبت:

سورۃ الضحیٰ  سے اس سورت کا گہرا ربط و تعلق ہے۔

سورۃ الضحیٰ میں ان نعمتوں کو بیان فرمایا گیا جو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول کو عطا فرمائیں، اس سورت میں مزید نعمتوں کا تذکرہ ہے جن سے رب تعالیٰ نے اپنے حبیبِ لبیب کو نوازا۔ گویا اس سورت کا مضمون ، سابقہ سورت کے مضمون ہی کا تسلسل ہے اور دونوں سورتوں کا موضوع عظمت و شانِ مصطفیٰ ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up