Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 23 of 164

اللّٰہ تعالیٰ نے نبی کریم کو دو طرح کے کمالات عطا فرمائے۔ ایک وہ جن کا تعلق مخلوق سے ہے اور دوسرے وہ جن کا تعلق خاص رسولِ معظم کی ذاتِ اقدس سے ہے۔

پہلی قسم کے کمالات کو سورۃ الضحیٰ کی آیت ۶ تا ۸ میں بیان فرمایا گیا۔

اور دوسری قسم کے کمالات کو اس سورت میں بیان فرمایا گیا یعنی شرحِ    صدر، وضعِ وِزر اور رفعِ ذکر۔ گویا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ سورۃ الضحیٰ میں نبی کریم کے ظاہری کمالات و انعامات بیان فرمائے گئے تھے جبکہ اس سورت میں آقا و مولیٰ کے باطنی فضائل و انعامات بیان کیے گئے ہیں۔

بعض اہلِ تفسیر نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ :

سورۃ الضحیٰ سے آخرقرآن کریم تک بیشترسورتوں میں رسول اللّٰہ پر حق تعالیٰ کے خاص انعامات اور آپ کے مخصوص فضائل کا ذکر ہے اور چند سورتوں میں قیامت اور اس کے احوال کا۔

قرآن حکیم کا شروع خود قرآن کی عظمت اور ناقابلِ شک و شبہ ہونے سے کیا گیا اور ختمِ قرآن اُس ذات کی عظمت و شان پر کیا گیا جس پر قرآن نازل ہوا‘‘۔

شانِ نزول:

مفسرین کرام فرماتے ہیں:

ایک مرتبہ رسولِ کریم نے بارگاہِ الہٰی میں عرض کی،

یاربَ العالمین!  تو نے ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا،

موسیٰ کو ہم کلامی کا شرف بخشا،

داؤد کے لیے لوہے اور پہاڑوں کو مسخر فرمایا،

سلیمان کو جن و اِنس اور ہوا پر حکومت عطا فرمائی،

مولیٰ! مجھے کیا خاص امتیاز عطا فرمایا؟

اس کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی اور آپ ﷺ  کے کمالات بیان فرمائے گئے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ سوال واقعۂ معراج سے پہلے ہوا ہوگا کیونکہ معراج کا سفر اور اس میں رب تعالیٰ نے جو نعمتیں اپنے حبیب کو عطا فرمائیں وہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام میں صرف آپ ہی کا اعزاز ہیں۔ (تفسیر عزیزی)

اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ:

’’شرحِ صدر‘‘ کا معنی ہے سینہ کھولنا، سینہ کشادہ کرنا، حوصلہ بلند کرنا یا سکون و اطمینان حاصل ہونا۔

امام رازی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:

اللّٰہ تعالیٰ نے ’’الم نشرح‘‘ فرمایا، اگر یہ نون(صیغہ جمع متکلم) برائے تعظیم ہو تو یہ نعمت عطا فرمانے والے کی عظمت کی دلیل ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شرحِ صدر وہ عظیم نعمت ہے کہ اس کی بلندی تک عقل و دانش کی رسائی نہیں ہو سکتی۔(تفسیر کبیر)

حضور کے شرحِ صدر کی مکمل معرفت تو ناممکن ہے البتہ نائبینِ رسول  نے اپنے آقا کے علمِ لدُنی سے اکتسابِ فیض کرتے ہوئے کچھ اسرار و رموز بیان کیے ہیں۔

جن میں سے علامہ محمود آلوسی رحمہ اللّٰہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:’’شرحِ  صدر سے مراد ہے،

نفس کو قوتِ قدسیہ اور انوارِ الہٰیہ سے اس قدر وسعت و طاقت دینا کہ وہ علم کے قافلوں کے لیے میدان، ملکات(عالمِ بالا) کے ستاروں کے لیے آسمان اور ہر قسم کی تجلیات کے لیے عرش بن جائے۔

جب کسی کی ایسی کیفیت ہو جائے تو اس کو ایک حالت دوسری حالت سے مشغول نہیں کر سکتی اور اس کے نزدیک مستقبل، حال اور ماضی سب یکساں ہو جاتے ہیں‘‘۔

آپ مزید رقم طراز ہیں،

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ کیا ہم  نے تمہارے سینے کو کشادہ نہیں کردیا کہ عالم غیب اور عالم شہادت دونوں اس میں سما گئے ہیں اور یہ سینہ استفادہ و افادہ دونوں کا جامع ہو گیا ہے۔ جسمانی روابط تمہارے لیے عالمِ قُدس کے روحانی انوار کے حصول میں مخل نہیں ہوسکتے نیز مخلوق کی ضروریات میں تمہارا مصروف ہونا معرفتِ الہٰی میں استغراق سے رکاوٹ نہیں ہے۔

قاضی ثناء اللّٰہ مجددی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:

’’ہم نے تمہارے سینے کو تمہارے لیے کھول دیا یہاں تک کہ اس میں اللّٰہ تعالیٰ کے نور سے علوم و معارفِ دینیہ کے سما جانے کی صورت پیدا ہو گئی جس کو عقل والے عقل سے حاصل نہیں کر سکتے۔

نیز اس میں یہ صلاحیت بھی پیدا کر دی کہ بیک وقت رب تعالیٰ کی طرف متوجہ رہیں اور لوگوں کو دعوتِ حق دینے کا فریضہ بھی انجام دیتے رہیں‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up