Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 24 of 164

گویا شرحِ صدر کا مفہوم یہ ہے کہ:

اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیبِ مکرم کے سینہ اقدس کو اس قدر وسعت و کشادگی عطا فرمائی کہ اس میں علوم و معارف کے سمندر سمو دیے اور اسے انوار و تجلیاتِ الہٰیہ کا ایسا مرکز و منبع بنا دیا کہ مخلوق کی طرف توجہ خالق و معبود کی طرف توجہ میں مخل نہیں ہوتی۔ آپ ایک طرف بارگاہِ الہٰی سے وحی والہام اور علم و عرفان کا خزانہ لے رہے ہیں اوردوسری طرف یہ خیرِ کثیر اپنی امت میں تقسیم بھی فرما رہے ہیں۔ اوران امور میں مشغولیت کے با وجود غیب و شہادت کے دونوں جہاں آپ کی نگاہوں کے سامنے ہیں۔

مولانا روم رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:

ہر کرا باشد زسینہ فتح یاب اؤ زِ ہر ذرہ بہ بیند آفتاب

’’جس کے سینے کا دروازہ کھل جائے وہ ہر ذرہ میں آفتاب کا مشاہدہ کرتا ہے‘‘۔

 

مقامِ غور ہے کہ جس کے شرحِ صدر کا اعلان خود اللّٰہ تعالیٰ فرمائے وہ ہر ذرہ میں کس آفتابِ تجلی ٔ الہٰیہ کا مشاہدہ کرتا ہوگا!!

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

{ وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ }

’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں ساری بادشاہی آسمانوں اور زمین کی‘‘(پ7،انعام:75)

 

حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما نے فرمایا:

’’اس سے آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوق مراد ہے‘‘۔

یعنی حضرت ابراہیم کو رب تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تمام مخلوق دکھا دی جس طرح رسول کریم کو زمین و آسمان کی تمام مخلوق کا مشاہدہ کرایا جاتا ہے۔

رب تعالیٰ کا یہ بھی ارشاد ہے،

{ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا }

’’بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر وناظر‘‘۔

(پ22،احزاب:45، پ 26: ، الفتح:8)

 

اس آیت کے تحت اکابر مفسرین کی تفاسیرملاحظہ فرمائیں۔

’’شاھداً کا معنی یہ ہے کہ رسولِ معظم نورِ مجسم اپنی امت کے افعال کا مشاہدہ فرماتے ہیں‘‘۔

’’جن کی طرف آپ کو رسول بنا کر بھیجا آپ کو ان کے احوال کامشاہدہ کرنے والا بنایا‘‘۔

’’جن کی طرف آپ کو مبعوث کیا گیا آپ ان پر شاہد ہیں کیونکہ ان کے احوال ملاحظہ فرماتے اور ان کے اعمال کا مشاہدہ کرتے ہیں‘‘۔

رب تعالیٰ کا یہ بھی ارشاد ہے:

{ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا}

’’اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ‘‘۔

(پ2،بقرہ:143، )

 

اس آیت کی تفسیر میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:

’’کیونکہ آپ اپنے نورِ نبوت سے ہر دیندار کے درجے کو جانتے ہیں۔ پس حضور تمہارے گناہوں، تمہارے ایمان کے درجات، تمہارے نیک و بد اعمال اور تمہارے اخلاص و نفاق کو جانتے ہیں‘‘۔

رحمتِ عالم کے اس خاص منصب پر درج ذیل احادیث بھی ملاحظہ فرمائیے۔

آقا ومولیٰ نے فرمایا:

جمعہ کے دن مجھ پر زیادہ درود پڑھا کرو کیونکہ اس دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ کوئی بندہ جہاں بھی درود پڑھتا ہے اس کی آواز مجھ تک پہنچ جاتی ہے۔ صحابہ نے عرض کی، کیا آپ کے وصال کے بعد بھی ؟ فرمایا،ہاں میرے وصال کے بعد بھی کیونکہ بیشک اللّٰہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے۔

ایک روایت میں یہ ہے،

’’اللّٰہ کا ہر نبی زندہ ہے اور رزق دیا جاتا ہے‘‘۔

حضورِ اکرم نورِ مجسم کا ارشادِ گرامی ہے،

’’جب کوئی مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو ﷲ تعالیٰ میری روح مجھ پر لوٹا دیتا ہے (یعنی میری روح کی توجہ سلام بھیجنے والے کی طرف ہو جاتی ہے) یہاں تک کہ میں اس کو اسکے سلام کا جواب دیتاہوں‘‘۔

آقا ومولیٰ کا فرمانِ عالیشان ہے،

’’اللّٰہ تعالیٰ نے میرے لیے دنیا کو ظاہر فرمایا پس میں دنیا کو اور جو کچھ دنیا میں قیامت تک ہونے والا ہے، سب کچھ اس طرح دیکھ رہا ہوں جیسے میں اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up