ایک اور اِرشادِ ذی شان ہے،
’’بیشک میں تمہارا پیش رو اور تم پر گواہ ہوں اور خدا کی قسم ! میں اپنے حوضِ کوثر کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں‘‘۔
مفسرین نے شرحِ صدر کی ایک اور تفسیر یہ بھی بیان کی ہے کہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو معرفت و طاعتِ الہٰی کی طرف راغب کرتی ہیں۔
حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی،
{ فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ }
’’اور جسے اللّٰہ راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے‘‘۔( پ8،انعام:125)
پھر فرمایا،
جس سینے میں نور داخل ہوجائے وہ سینہ کشادہ ہوجاتا ہے۔صحابہ نے عرض کی، اس کی علامت کیا ہے؟
فرمایا،
دھوکے کی جگہ دنیا سے بے رغبت ہونا، آخرت کی طرف توجہ کرنا اور موت سے قبل اس کی تیاری کرنا۔
شرحِ صدرکی یہ نعمت آقائے دوجہاں ﷺ کے وسیلے اور روحانی فیض سے اولیاء اور صالحین کوبھی عطا ہوتی ہے۔اسی لیے وہ رات دن ذکرِ الہٰی، اعمالِ صالحہ، مشاہدۂ تجلیاتِ ربانی، اکتسابِ فیوض و انوارِ مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ ساتھ مخلوق کی ہدایت اور انہیں نفع پہنچانے کے کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں:
جس طرح نبی کریم ﷺ کو باطنی شرحِ صدر عطا ہوا جسے اوپر بیان کیا گیا، اسی طرح ظاہری اور حسّی شرحِ صدر بھی ہوا جسے’’ شقِ صدر‘‘کامعجزہ کہا جاتا ہے۔
پہلی بار شقِ صدر(سینہ اقدس چاک کیا جانا) بچپن کے ابتدائی دنوں میں ہوا، پھر نزولِ وحی کی ابتدا سے قبل، اور پھر شبِ معراج میں ہوا۔
شقِ صدر کی احادیث سورۃ العلق کی تفسیر میں بیان ہوں گی۔
اس شرحِ صدر کی کیفیت یہ تھی کہ حضرت جبریل نے سینہ پاک کو چاک کر کے قلبِ اقدس نکالا اور زریں طشت میں آب زمزم سے غسل دیا اور نورحکمت سے بھر کر قلبِ اطہر کو اس کی جگہ رکھ دیا۔
شقِ صدر کے وقت حضرت جبریل نے قلبِ اطہر دیکھ کر فرمایا،
یہ مبارک دل ہر عیب سے پاک ہے۔ اس میں دو آنکھیں ہیں جو بہت زیادہ دیکھنے والی ہیں اور دو کان ہیں جو بہت زیادہ سننے والے ہیں۔
اس آیت میں رب تعالیٰ نے { اَلَمْ نَشْرَحْ صَدْرَكَ} نہیں فرمایا بلکہ لَكَ یعنی ’’تمہارے لیے‘‘بھی ارشاد فرمایا۔
اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ رب تعالیٰ کا ارشاد ہے،
{ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ }
’’مگر میری ہی عبادت کرو‘‘۔
دوسری جگہ فرمایا:
{ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ } ۔
’’میری یاد کے لیے نماز ادا کرو‘‘۔
گویا اللّٰہ تعالیٰ فرما رہا ہے،
اے حبیب! تمہاری عبادات و طاعات صرف میرے لیے ہیں۔جب تمہارا سب کچھ میرے لیے ہے تو میں نے جو کچھ کیا ہے وہ صرف تمہاری خاطر کیا ہے۔
اس آیت مقدسہ پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کلیم کی شان اور ہے اور حبیب کا مقام اور ہے۔
حضرت موسیٰ کو بھی شرحِ صدرکی نعمت عطا ہوئی لیکن ان کی درخواست پر۔ انہوں نے عرض کیا تھا،
{ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ }
’’اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے‘‘۔(پ16،طہ:25)
جبکہ حبیبِ لبیب کو بن مانگے یہ دولت عطا فرمائی گئی۔ پھر دونوں حضرات کے شرح صدر میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے۔
اعلیٰ حضر ت رحمہ اللّٰہ نے حضور ﷺ کے مقامِ محبوبیت کو قصیدہ معراجیہ میں یوں بیان فرمایا۔
تَبَارَکَ اللّٰہ شان تیری، تجھی کو زیبا ہے بے نیازی
کہیں تو وہ جوشِ لَنْ تَرَانِیْ، کہیں تقاضے وصال کے تھے
وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَک:
آیت ۲ اور آیت ۳ میں نبی کریم ﷺ پر دوسرے انعام و کمال کا ذکر کیا گیا ہے، اور وہ ہے وضعِ وِزر۔ وِزرْ کا لفظی معنی ہے ’’بوجھ‘‘۔ اور’’ نقضِ ظہر‘‘ کے لفظی معنی کمر توڑ دینے یا جھکا دینے کے ہیں۔ یعنی ’’وہ بھاری بوجھ جس نے آپ کی کمر جھکا دی تھی ہم نے اس بوجھ کو آپ پر سے اتار لیا‘‘۔

