Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 26 of 164

اُس ’’بھاری بوجھ‘‘ سے متعلق مفسرین کرام نے کئی اقوال لکھے ہیں،

ان میں سے دو اقوال پیشِ خدمت ہیں۔

اس بوجھ سے مراد وہ غم ہے جو آپ کو کفار کے ایمان نہ لانے سے ہوتا تھا۔ رب تعالیٰ نے آپ کو لوگوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے اور حق کی طرف بلانے کا حکم دیا اور لوگوں کی راہنمائی کے لیے کتابِ ہدایت، قرآن نازل فرما کر راہِ حق روشن فرما دی۔

دوسرا قول یہ ہے کہ:

اس بوجھ سے مراد امت کے گناہوں کا غم ہے جو حضورِ انور کے ذہن مبارک پر بوجھ کی طرح تھا۔

رب تعالیٰ نے:

{ وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى}

فرما کر محبوب کریم کو شفاعت کا منصب عطا فرمایا اور آپ کے اس غم کو دور فرما دیا۔

ارشاد ہوا:

{ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا }

’’قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں‘‘۔ (پ15،بنی اسرائیل:79)

 

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ رقم طراز ہیں،

’’حضور کی بلند ہمت اور پیدائشی استعداد جن کمالات اور اعلیٰ مقامات پر پہنچنے کا تقاضا کرتی تھی، آپ کے قلبِ اطہر کو جسمانی ترکیب یا نفسانی تشویش کے باعث ان اعلیٰ مقامات پر فائز ہونا دشوار معلوم ہوتا تھا۔ جب رب تعالیٰ نے آپ کا سینہ اقدس کھول دیا اور حوصلہ وسیع فرما دیا تو وہ دشواریاں دور ہو گئیں اور تمام بوجھ ہلکا ہو گیا ‘‘۔

’’جب اللّٰہ تعالیٰ نے حضورِ انور کے سینہ اقدس کو ایمان اور حکمت کے لیے کھول دیا اور نفس کے ناپسندیدہ حصے کو زائل کردیا گیا تو شرعی احکام آپ کے لیے مرغوب و محبوب اور راحت و سکون کا باعث بن گئے‘‘۔

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ:

اس آیت مقدسہ کے تین الفاظ دراصل تین اہم عنوانات ہیں۔

اول: ہم نے بلند کردیا،

دوم: تمہارے لیے،

سوم: تمہارا ذکر۔

پہلی بات یہ ہے کہ رب تعالیٰ نے حضور کا ذکر بلند کرنا مخلوق کے ذمہ نہیں رکھا۔ کیونکہ مخلوق اپنی طاقت و قدرت کے لحاظ سے ایک حد تک ذکر بلند کر سکتی ہے اور مخلوق حادث و فانی ہے۔ یعنی جب سے اسے وجود ملا اور جب تک اس کا وجود باقی ہے، یہ ذکر بلند کر سکتی ہے۔ اس لیے رب تعالیٰ نے اپنے محبوب کے ذکر کی بلندی اپنے ذمۂ کرم پہ رکھی تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ رب تعالیٰ کی صفات لامحدود و لامتناہی ہیں اور جب وہ اپنے محبوب کا ذکر بلند فرمائے گا تو اس ذکر کی بلندی بھی لامحدود و لامتناہی ہو گی۔

رب تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ حضور کا ذکر بھی ہمیشہ سے بلند ہو رہا ہے اور ہمیشہ بلند ہوتا رہے گا۔ جب اللّٰہ تعالیٰ کو زوال و فنا نہیں تو ذکرِ مصطفیٰ کی بلندی کو بھی زوال و فنا نہیں۔

یہاں ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضور کا ذکر کتنا بلند فرمایا، اس بلندی کی مقدار کیا ہے؟ سو دَرجے، ہزار، لاکھ، کروڑ درجے وغیرہ۔ رب تعالیٰ نے مقدار و حد بیان نہ فرمائی۔ عظمتِ مصطفیٰ کریم کے حوالے سے اس طرح کا ابہام ہمیں قرآن کریم میں چند اور مقامات پر بھی نظر آتا ہے۔

مثلاً ارشاد ہوا:

{ تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍۘ-مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ}

’’یہ رسول ہیں کہ ہم  نے ان میں ایک کو دوسرے پر افضل کیا، ان میں کسی سے اللّٰہ نے کلام فرمایا، اور کوئی وہ ہے جسے سب پر درجوں بلند کیا‘‘۔(پ3،بقرہ:253)

امت کا اجماع ہے کہ درجوں بلندی پانےوالے ہمارے آقا و مولیٰ ہیں۔

سوال پیدا ہوا کہ کتنے درجے بلند کیا؟

قرآن کریم نے صرف یہ بتایا کہ اُنہیں رسولوں پر درجوں بلندی عطا فرمائی مگر ان درجات کی مقدار بیان نہ فرمائی۔

Share:
keyboard_arrow_up