Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 27 of 164

ایسے ہی ارشاد ہوا:

{ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ }

’’(اے حبیب!) تمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے‘‘۔ (پ4،نساء:113)

 

یہاں بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کچھ سکھا دیا؟اللّٰہ تعالیٰ نے تفصیل بیان نہ فرمائی۔ مختصر یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ سب کچھ سکھا دیا جو کچھ آپ نہیں جانتے تھے۔اسی طرح واقعۂ معراج کے ذکر میں فرمایا،

{ فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى}

’’اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی‘‘۔(پ27،نجم:10)

اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو کیا وحی فرمائی، اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

مفسرین فرماتے ہیں:

یہ ابہام اور اخفاء، تفخیمِ شان اور عظمتِ مصطفیٰ کریم کے اظہار کے لیے ہے۔ گویا رب تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ اے بندو! تمہاری عقلیں میرے محبوب کے حقیقی مقام کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور تمہارے اذہان ان کی عظمت کا کماحقہٗ ادراک نہیں کرسکتے۔ اس لیے تم یہ نہ پوچھو کہ ان کا ذکر کتنا بلند کیا، انہیں کتنے درجوں بلندی عطا فرمائی، انہیں کس قدر علوم عطا کیے، انہیں کیا کیا بات وحی فرمائی؟ تم صرف یہ سمجھ لو کہ مصطفیٰ کریم کا ذکر بلند کرنے والا کون ہے!!! انہیں رسولوں پر درجوں بلندی دینے والا، انہیں علومِ غیبیہ عطا فرمانے والا اور ان پر وحی فرمانے والا رب ذوالجلال ہے۔

اب جس قدر طاقت و قدرت تمہارے رب کی ہے اسی قدر وہ اپنے حبیب کو عظمتیں عطا فرماتا ہے۔ جب اس کی طاقت و قدرت لامحدود ہے تو جان لو کہ اس کے محبوب کا مقام اور عظمتیں بھی لامحدود ہیں۔

لَکَ ’’تمہاری خاطر‘‘:

اس سورت میں تین انعامات یعنی شرحِ صدر، وضعِ وِزر اور رفعِ ذکر کو بالترتیب آیت ۱، ۲ اور ۴ میں بیان فرمایا گیا ہے۔

خاص بات یہ ہے کہ مذکورہ تینوں آیات میں لَکَ (تمہارے لیے) یا عَنْک (تم سے) مذکور ہے جوکہ حضورِ اکرم کی عظمت و محبوبیت کی دلیل ہے۔

جیسا کہ حدیث قدسی میں ارشاد ہوا:

لولاکَ لماَ خلقتُ الافلاکَ۔

’’اے حبیب! اگر تمہیں پیدا نہ کرتا تو اس کائنات کو پیدا نہ کرتا‘‘۔

 

یعنی تمام کائنات کی تخلیق کا سبب حضورِ اکرم رحمتِ عالم کی ذاتِ پاک ہے۔

یہاں رب تعالیٰ کا ارشاد ہے،

اے حبیب! ہم نے تمہارے ذکر کو محض تمہاری خاطر بلند فرما دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ کو اپنے حبیب کی رضا اور خوشی محبوب ہے۔

انبیاء کرام علیہم ُالسلام جن باتوں کے لیے بارگاہِ الہٰی میں درخواست کرتے ہیں، اللّٰہ تعالیٰ بغیر مانگے اپنے حبیبِ مکرم کو وہ نعمتیں عطا فرماتا ہے۔

امامُ الانبیاء سیدُ الرُّسل کی عظمت و رفعتِ شان میں مجددِ اُمت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے قرآن حکیم سے بیس آیات جمع فرمائیں، جو پیشِ خدمت ہیں۔

(1)۔ حضرت ابراہیم  نے بارگاہِ الہٰی میں عرض کی،

{وَلَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ}

اورمجھے رسوا نہ کرناجس دن لوگ اُٹھائے جائیں گے۔(پ19،شعراء: 87)

 

اور حبیبِ مکرم کے لیے اللّٰہ تعالیٰ نے خود ارشاد فرمایا:

{ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ}

’’جس دن اللّٰہ رسوا نہ کرے گا، نبی اور اس کے ساتھ کے ایمان والوں کو‘‘۔(پ28،تحریم:8)

حضور کے صدقے میں صحابہ کرام بھی اس اس بشارت ِ عظمیٰ سے مشرف ہوئے۔

(2)۔ قرآن کریم نے حضرت خلیل سے تمنائے وصال نقل کی،

{ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ }

’’میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں‘‘۔ (پ23،صفت:99)

جبکہ حبیبِ مکرم کو خود بلا کر عطائے دولت کی خبر دی۔

{سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ }

’’پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو لے گیا ‘‘۔ (پ15،بنی اسرائیل:1)

Share:
keyboard_arrow_up