(3)حضرت ابراہیم کی آرزوئے ہدایت نقل فرمائی،
{ سَیَهْدِیْنِ }
’’اب وہ مجھے راہ دے گا‘‘۔ (پ23،صفت:99)
لیکن حبیب سے خود ارشاد فرمایا:
{ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا}
’’اور تمہیں سیدھی راہ دکھا دے‘‘۔ (پ26،فتح:2)
(4)۔ حضرت ابراہیم کے لیے فرمایا،
{ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَ}
’’کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی‘‘۔ (پ26،ذاریات:24)
یعنی فرشتے ان کے مہمان بنے۔
جبکہ حبیب کے لیے فرمایا:
{ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا }
’’اور ان فوجوں سے اس کی مدد کی جو تم نے نہ دیکھیں‘‘۔ (پ10،توبہ:40)
یعنی فرشتے ان کے سپاہی بنے۔
(5)۔ حضرت موسیٰ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کی رضا چاہی۔
ارشاد ہوا:
{وَعَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى }
’’اے میرے رب! تیری طرف میں جلدی کرکے حاضر ہوا تاکہ تو راضی ہو‘‘۔(پ16،طہ:84)
جبکہ حبیب کے لیے فرمایا کہ اللّٰہ تعالیٰ ان کی رضا چاہتا ہے۔
ارشاد ہوا:
{وَلَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى}
’’ اور بے شک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے‘‘۔ (پ30،والضحیٰ:5)
(6)۔ حضرت موسیٰ کا فرعون کے خوف سے مصر تشریف لے جانا بلفظ ’’فرار‘‘ نقل فرمایا۔
{فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ } (پ19،شعراء:21)
جبکہ حبیبِ مکرم کا ہجرت فرمانا احسن عبارات سے بیان فرمایا۔
{ اَوْ یُخْرِجُوْكَ} ( پ10،انفال:30)
(7)۔ حضرت موسیٰ سے کوہِ طور پر کلام کیا اور اسے سب پر ظاہر فرما دیا۔
{ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى }
’’اب کان لگا کر سن جو تجھے وحی ہوتی ہے‘‘۔ (پ16،طہ:13 )
جبکہ حبیب سے آسمانوں سے بھی اوپر کلام فرمایا اور کسی پر بھی ظاہر نہ فرمایا:
{ فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى}
’’اب وحی فرمائی اب بندے کو جو وحی فرمائی‘‘۔(پ27،نجم:10)
(8)۔ حضرت داؤد سے فرمایا:
{لَا تَتَّبِـعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ}
’’خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ تجھے بہکا دے اللّٰہ کی راہ سے‘‘۔(پ23،ص26)
حبیبِ مکرم کے بارے میں قسم کے ساتھ ارشاد فرمایا:
{ وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ(۳) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰى}
’’اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے، وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے‘‘۔ (پ27،نجم:3-4)
(9)۔ حضرت نوح سے دعا نقل فرمائی،
{رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ}
’’اے میرے رب! میری مدد فرما اس پر کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا‘‘۔ (پ18،مومنون:26)
جبکہ آقائے دوجہاں شفیع عاصیاں سے خود ارشاد ہوا:
{ وَ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا }
’’اور اللّٰہ تمہاری زبردست مدد فرمائے ‘‘۔ (پ26،فتح:3)
10۔ حضرت نوح و ابراہیم علیہما السلام سے نقل فرمایا کہ انہوں نے اپنی امتوں کے لیے دعاءِمغفرت کی۔
{ رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ }
’اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے والدین اور مسلمانوں کو ‘۔ (پ 13 ابراہیم:41)
جبکہ حبیبِ لبیب ﷺ کو خود حکم دیاکہ اپنی امت کے لیے مغفرت مانگو۔
{وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ }
’’اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو‘‘۔ (پ26،محمد:19)
(11)۔ حضرت ابراہیم کے لیے ارشاد ہوا کہ انہوں نے پچھلوں میں اپنا ذکرِ جمیل باقی رکھنے کی دعا فرمائی،
{وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ}
’’اور میری سچی ناموری رکھ پچھلوں میں‘‘۔(پ19،شعراء:84)

