Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 28 of 164

(3)حضرت ابراہیم کی آرزوئے ہدایت نقل فرمائی،

{ سَیَهْدِیْنِ }

’’اب وہ مجھے راہ دے گا‘‘۔ (پ23،صفت:99)

 

لیکن حبیب سے خود ارشاد فرمایا:

{ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا}

’’اور تمہیں سیدھی راہ دکھا دے‘‘۔ (پ26،فتح:2)

 

(4)۔ حضرت ابراہیم کے لیے فرمایا،

{ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَ}

’’کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی‘‘۔ (پ26،ذاریات:24)

یعنی فرشتے ان کے مہمان بنے۔

 

جبکہ حبیب کے لیے فرمایا:

{ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا }

’’اور ان فوجوں سے اس کی مدد کی جو تم نے نہ دیکھیں‘‘۔ (پ10،توبہ:40)

یعنی فرشتے ان کے سپاہی بنے۔

(5)۔ حضرت موسیٰ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کی رضا چاہی۔

ارشاد ہوا:

{وَعَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى }

’’اے میرے رب! تیری طرف میں جلدی کرکے حاضر ہوا تاکہ تو راضی ہو‘‘۔(پ16،طہ:84)

جبکہ حبیب کے لیے فرمایا کہ اللّٰہ تعالیٰ ان کی رضا چاہتا ہے۔

ارشاد ہوا:

{وَلَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى}

’’ اور بے شک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے‘‘۔ (پ30،والضحیٰ:5)

(6)۔ حضرت موسیٰ کا فرعون کے خوف سے مصر تشریف لے جانا بلفظ ’’فرار‘‘ نقل فرمایا۔

{فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ } (پ19،شعراء:21)

 

جبکہ حبیبِ مکرم کا ہجرت فرمانا احسن عبارات سے بیان فرمایا۔

{ اَوْ یُخْرِجُوْكَ} ( پ10،انفال:30)

 

(7)۔ حضرت موسیٰ سے کوہِ طور پر کلام کیا اور اسے سب پر ظاہر فرما دیا۔

{ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى }

’’اب کان لگا کر سن جو تجھے وحی ہوتی ہے‘‘۔ (پ16،طہ:13 )

 

جبکہ حبیب سے آسمانوں سے بھی اوپر کلام فرمایا اور کسی پر بھی ظاہر نہ فرمایا:

{ فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى}

’’اب وحی فرمائی اب بندے کو جو وحی فرمائی‘‘۔(پ27،نجم:10)

 

(8)۔ حضرت داؤد سے فرمایا:

{لَا تَتَّبِـعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ}

’’خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ تجھے بہکا دے اللّٰہ کی راہ سے‘‘۔(پ23،ص26)

 

حبیبِ مکرم کے بارے میں قسم کے ساتھ ارشاد فرمایا:

{ وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ(۳) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰى}

’’اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے، وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے‘‘۔ (پ27،نجم:3-4)

 

(9)۔ حضرت نوح سے دعا نقل فرمائی،

{رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ}

’’اے میرے رب! میری مدد فرما اس پر کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا‘‘۔ (پ18،مومنون:26)

 

جبکہ آقائے دوجہاں شفیع عاصیاں سے خود ارشاد ہوا:

{ وَ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا }

’’اور اللّٰہ تمہاری زبردست مدد فرمائے ‘‘۔ (پ26،فتح:3)

10۔ حضرت نوح و ابراہیم علیہما السلام سے نقل فرمایا کہ انہوں نے اپنی امتوں کے لیے دعاءِمغفرت کی۔

{ رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ }

’اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے والدین اور مسلمانوں کو ‘۔ (پ 13 ابراہیم:41)

جبکہ حبیبِ لبیب کو خود حکم دیاکہ اپنی امت کے لیے مغفرت مانگو۔

{وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ }

’’اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو‘‘۔ (پ26،محمد:19)

 

(11)۔ حضرت ابراہیم کے لیے ارشاد ہوا کہ انہوں نے پچھلوں میں اپنا ذکرِ جمیل باقی رکھنے کی دعا فرمائی،

{وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ}

’’اور میری سچی ناموری رکھ پچھلوں میں‘‘۔(پ19،شعراء:84)

Share:
keyboard_arrow_up