جبکہ حبیب ﷺ سے خود فرمایا:
{وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ}
’’اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کر دیا ہے‘‘۔ (پ30،الم نشرح:4)
اور اس سے بھی اعلیٰ و ارفع مژدہ ملا کہ آپ کو مقامِ محمود پر فائز کیا جائے گا جہاں اولین و آخرین جمع ہونگے اور حضورﷺ کی حمد و ثنا کا شور ہر زبان پر ہوگا:
{عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا}
”قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں “ (پ15،بنی اسرائیل:79)
(12)۔ حضرت خلیل کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے لوط کی قوم سے عذاب دور کرانے کی بڑی کوشش کی مگر حکم ہوا،
{یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا}
’’اے ابراہیم! اس خیال میں نہ پڑ‘‘۔ (پ11،ھود:76)
’’عرض کی، اس بستی میں لوط جو ہے۔
ارشاد ہوا:
ہمیں خوب معلوم ہے جو وہاں ہے‘‘۔ (پ20،عنکبوت:32)
جبکہ حبیب ﷺ سے ارشاد ہوا:
{وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ}
’’اور اللّٰہ ان کافروں پر بھی عذاب نہ کرے گا جب تک اے رحمتِ عالم! تو ان میں تشریف فرما ہے‘‘۔ (پ10،انفال:33)
(13)۔ حضرت ابراہیم سے نقل فرمایا:
{رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ}
’’الہٰی! میری دعا قبول فرما‘‘۔ (پ13،ابراہیم:40)
جبکہ حبیب ﷺ اور ان کے غلاموں کو ارشاد ہوا:
{وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ}
’’تمہارا رب فرماتا ہے، مجھ سے مانگو میں قبول کروں گا‘‘۔ (پ24،مومن:60)
(14) حضرت موسیٰ کی معراج دنیا کے درخت پر ہوئی۔
{مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ} (پ20،قصص:30)
جبکہ حبیب ﷺ کی معراج سدرۃ المنتہیٰ و فردوسِ اعلیٰ تک بیان فرمائی۔
{عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى(۱۴) عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰى} (پ27،نجم:14۔15)
(15)۔ حضرت موسیٰ سے دل کی تنگی کی شکایت بیان فرمائی۔
{وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ}
’’اور میرا سینہ تنگی کرتا ہے‘‘۔ (پ19،شعراء:13)
جبکہ حبیبِ کبریاء ﷺ کو خود شرحِ صدر کی دولت عطا فرمائی۔ (پ30،الم نشرح:1)
(16)۔ کلیم اللّٰہ پر حجابِ نار سے تجلی ہوئی۔
{نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ}
’’ندا کی گئی کہ برکت دیا گیا وہ جو اس آگ کی جلوہ گاہ میں ہے‘‘۔ (پ19،نمل:8)
جبکہ حبیب پر نور ﷺ کے جلوے سے تجلی ہوئی اور وہ بھی غایتِ تفخیم و تعظیم کے لیے بہ الفاظِ ابہام بیان فرمائی گئی۔
{اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰى}
’’جب چھا گیا سدرہ پر جو کچھ چھاگیا‘‘۔ (پ27،نجم:16)
(17)۔ موسیٰ سے اپنے اور اپنے بھائی کے سوا سب سے برأت اور قطع تعلق نقل فرمایا۔انہوں نے عرض کی،
{رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ}
’’الہٰی! میں اختیار نہیں رکھتامگر اپنا اور اپنے بھائی کا، تو جدائی فرما ہم میں اور اس گناہگار قوم میں‘‘۔ (پ6،مائدہ:25)
جبکہ حبیب ﷺ کے ظلِّ وجاہت میں کفار تک کو داخل فرمایا کہ ان پر بھی دنیا میں عام عذاب نہ آئے گا۔
{وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ} (پ10،انفال:33)
یہ شفاعتِ کبرٰی ہے کہ تمام اہلِ موقف، موافق و مخالف سب کو شامل۔
(18)۔ ہارون و کلیم علیہما السلام کے متعلق فرمایا کہ انہوں نے فرعون کے پاس جاتے وقت اپنا خوف عرض کیا۔ اس پر حکم ہوا،
{قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى}
’’ڈرو نہیں، میں تمہارے ساتھ ہوں سنتا اور دیکھتا‘‘(پ16،طہ:46)
جبکہ حبیب ﷺ کو خود مژدۂ نگہبانی دیا،
{وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ}

