Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 29 of 164

جبکہ حبیب سے خود فرمایا:

{وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ}

’’اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کر دیا ہے‘‘۔ (پ30،الم نشرح:4)

اور اس سے بھی اعلیٰ و ارفع مژدہ ملا کہ آپ کو مقامِ محمود پر فائز کیا جائے گا جہاں اولین و آخرین جمع ہونگے اور حضور کی حمد و ثنا کا شور ہر زبان پر ہوگا:

{عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا}

”قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں “ (پ15،بنی اسرائیل:79)

(12)۔ حضرت خلیل کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے لوط کی قوم سے عذاب دور کرانے کی بڑی کوشش کی مگر حکم ہوا،

{یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا}

’’اے ابراہیم! اس خیال میں نہ پڑ‘‘۔ (پ11،ھود:76)

’’عرض کی، اس بستی میں لوط جو ہے۔

ارشاد ہوا:

ہمیں خوب معلوم ہے جو وہاں ہے‘‘۔ (پ20،عنکبوت:32)

 

جبکہ حبیب سے ارشاد ہوا:

{وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ}

’’اور اللّٰہ ان کافروں پر بھی عذاب نہ کرے گا جب تک اے رحمتِ عالم! تو ان میں تشریف فرما ہے‘‘۔ (پ10،انفال:33)

(13)۔ حضرت ابراہیم سے نقل فرمایا:

{رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ}

’’الہٰی! میری دعا قبول فرما‘‘۔ (پ13،ابراہیم:40)

 

جبکہ حبیب اور ان کے غلاموں کو ارشاد ہوا:

{وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ}

’’تمہارا رب فرماتا ہے، مجھ سے مانگو میں قبول کروں گا‘‘۔ (پ24،مومن:60)

(14) حضرت موسیٰ کی معراج دنیا کے درخت پر ہوئی۔

{مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ} (پ20،قصص:30)

جبکہ حبیب کی معراج سدرۃ المنتہیٰ و فردوسِ اعلیٰ تک بیان فرمائی۔

{عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى(۱۴) عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰى}  (پ27،نجم:14۔15)

(15)۔ حضرت موسیٰ  سے دل کی تنگی کی شکایت بیان فرمائی۔

{وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ}

’’اور میرا سینہ تنگی کرتا ہے‘‘۔ (پ19،شعراء:13)

 

جبکہ حبیبِ کبریاء کو خود شرحِ صدر کی دولت عطا فرمائی۔ (پ30،الم نشرح:1)

(16)۔ کلیم اللّٰہ پر حجابِ نار سے تجلی ہوئی۔

{نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ}

’’ندا کی گئی کہ برکت دیا گیا وہ جو اس آگ کی جلوہ گاہ میں ہے‘‘۔ (پ19،نمل:8)

جبکہ حبیب پر نور کے جلوے سے تجلی ہوئی اور وہ بھی غایتِ تفخیم و تعظیم کے لیے بہ الفاظِ ابہام بیان فرمائی گئی۔

{اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰى}

’’جب چھا گیا سدرہ پر جو کچھ چھاگیا‘‘۔ (پ27،نجم:16)

(17)۔ موسیٰ سے اپنے اور اپنے بھائی کے سوا سب سے برأت اور قطع تعلق نقل فرمایا۔انہوں نے عرض کی،

{رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ}

’’الہٰی! میں اختیار نہیں رکھتامگر اپنا اور اپنے بھائی کا، تو جدائی فرما ہم میں اور اس گناہگار قوم میں‘‘۔ (پ6،مائدہ:25)

جبکہ حبیب  کے ظلِّ وجاہت میں کفار تک کو داخل فرمایا کہ ان پر بھی دنیا میں عام عذاب نہ آئے گا۔

{وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ} (پ10،انفال:33)

یہ شفاعتِ کبرٰی ہے کہ تمام اہلِ موقف، موافق و مخالف سب کو شامل۔

(18)۔ ہارون و کلیم علیہما السلام  کے متعلق فرمایا کہ انہوں  نے فرعون کے پاس جاتے وقت اپنا خوف عرض کیا۔ اس پر حکم ہوا،

{قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى}

’’ڈرو نہیں، میں تمہارے ساتھ ہوں سنتا اور دیکھتا‘‘(پ16،طہ:46)

جبکہ حبیب کو خود مژدۂ نگہبانی دیا،

{وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ}

Share:
keyboard_arrow_up