Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 30 of 164

’’اور اللّٰہ لوگوں سے تمہاری حفاظت فرمائے گا‘‘۔ (پ6،مائدہ:67)

(19)۔ حضرت مسیح کے متعلق فرمایا کہ ان سے پرائی بات پر یوں سوال ہوگا،

{یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ}

’’اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! کیا تو نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللّٰہ کے سوا دو خدا بنا لو‘‘ (پ7،مائدہ:116)

تفسیر معالم میں ہے کہ اس سوال پر خوفِ الہٰی سے حضرت روح اللّٰہ کا بند بند کانپ اٹھے گا اور ہر بال کی جڑ سے خون کا فوارہ بہے گا۔  پھر وہ جواب عرض کریں گے جس کی حق تعالیٰ تصدیق فرماتا ہے۔

جبکہ حبیب   نے جب غزوۂ تبوک کا ارادہ فرمایا اور منافقوں نے جھوٹے بہانے بنا کر نہ جانے کی اجازت لے لی۔تو اس پر سوال تو حضور سے بھی ہوا مگر یہاں جو شانِ لطف و محبت و کرم و عنایت ہے، قابلِ غور ہے۔

ارشاد فرمایا:

{عَفَا اللّٰهُ عَنْكَۚ-لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ }

’’اللّٰہ تمہیں معاف فرمائے، تم نے انہیں کیوں اجازت دے دی‘‘۔(پ10،توبہ:43)

سبحان اللّٰہ! سوال بعد میں ہے اور محبت کا کلمہ پہلے۔

(20)۔ حضرت عیسیٰ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اپنے امتیوں سے مدد طلب کی،

{مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ}

’’کون میرے مددگار ہیں اللّٰہ کی طرف‘‘۔(پ3،ال عمران:52)

جبکہ حبیبِ مکرم رسولِ معظم کی نسبت انبیاء و مرسلین کو حکمِ نصرت دیا گیا۔

ارشاد ہوا:

{لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗ}

’’تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا‘‘۔

(پ3،ال عمران:81)

(21)۔ حضرت موسیٰ نے اللّٰہ تعالیٰ سے کلام کیا اور عرض کی، اے رب مجھے اپنا دیدار عطا فرما۔

ارشاد ہوا:

{ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْۚ-فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا}

’’تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ۔ یہ اگر اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا،اسے پاش پاش کر دیا اور موسیٰ گرا بیہوش‘‘۔ (پ9،اعراف:143)

اللّٰہ تعالیٰ نے شبِ معراج اپنے حبیب کو اپنے دیدار کی نعمت سے سرفراز فرمایا اور حضور نے جی بھر کے اپنے رب کا دیدار کیا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے،

{مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى}

’’آنکھ نہ کسی طرف پھِری نہ حد سے بڑھی‘‘۔ (پ27،نجم:17)

 

(22)۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دیگر انبیاء کرام کو ان کے ناموں سے پکارا ہے جیسے یٰٓاٰدَمُ، یٰنُوْحُ، یٰٓاِ بْرٰہِیْمُ، یٰمُوْسٰی، یٰعِیْسٰی وغیرہ۔جبکہ حبیب کو القاب سے خطاب فرمایا ہے۔

یٰٓاَیُّہَاالرَّسُوْلُ، یٰٓاَیُّہَاالنَّبِیُّ، یٰٓاَیُّہَاالْمُزَّمِّلُ، یٰٓاَیُّہَاالْمُدَّثِّرُ۔

ان دلائل وبراہین سے ثابت ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ کو اپنے محبوب رسول کی خاطر اور رضا محبوب ہے، اس لیے اس نے اپنے حبیب کا ذکر اُسی کے لیے بلند فرمایا ہے۔

رفعتِ ذکرِ مصطفیٰ :

حضرت ابوسعید خُدری سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ نے فرمایا:

میں نے جبریل سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے جواب دیا، اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے،

میں نے آپ کے ذکر کو اس طرح بلند کیا کہ جب میرا ذکر کیا جائے گا تو ساتھ ہی آپ کا بھی ذکر کیا جائے گا۔

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں کہ:

اس سے مراد اذان، اقامت، تشہد، اور جمعہ و عیدَین کے خطبوں میں،خطبۂ نکاح میں، ایامِ تشریق، یومِ عرفہ، رمی جمار کے وقت، صفا و مروہ پر اور زمین کے مشارق و مغارب میں جب بھی اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ساتھ ہی نبی کریم کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔اگر کوئی بندہ اللّٰہ کی عبادت کرے اور ہر بات میں اللّٰہ تعالیٰ کی تصدیق کرے مگر یہ گواہی نہ دے کہ حضرت محمد اللّٰہ کے رسول ہیں تو اسے اس کی عبادت کوئی فائدہ نہیں دے گی اور وہ کافر رہے گا۔

Share:
keyboard_arrow_up